دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aaina e Ibrat | آئینہ عبرت

book_icon
آئینہ عبرت

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ(۸) فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ(۹)([1]) ۲۹، المدثر آیت۹)

جس دن صور پھونکا جائے گا وہ دن بہت سخت ہوگا

 یہ آیت پڑھتے ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  لرزتے اور کانپتے ہوئے زمین پر گر پڑے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی روح پرواز کر گئی۔

        بہزبن حکیم محدث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کہتے ہیں کہ میں بھی ان کی نعش مبارک کو مسجد سے ان کے گھر تک اٹھا کر لے جانے والوں میں شامل تھا۔ یہ واقعہ  ۹۲ ھ  میں ہوا۔ ([2]) 

  (احیاء العلوم ج۴ص۱۶۱واکمال و ترمذی شریف)

(۳۱) حضرت ابوزرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  علم حدیث کے مشہور امام اور اس فن میں حضرت امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے ہم مرتبہ مانے گئے ہیں ایک بار حضرت امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا کہ میرے علم میں صحیح حدیثوں کی تعداد سات لاکھ ہے اور ابوزرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  جوانی ہی میں چھ لاکھ حدیثوں کے حافظ ہوچکے تھے۔([3])

        آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے مرض الموت میں سکرات موت اور جانکنی کے عالم میں بہت سے محدثین حاضر تھے۔ لوگوں کو خیال آیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو کلمہ طیبہ کی تلقین کرنی چاہیے مگر حضرت ابوزرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی جلالتِ شان کے آگے کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ آخر سب لوگوں نے سوچ کر یہ راہ نکالی کہ تلقین والی حدیث کا تذکرہ کرنا چاہیے تاکہ ان کو کلمہ یاد آجائے چنانچہ محمد بن مسلم محدث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ابتدا کی اور یہ سند پڑھی کہ حدثنا الضحاک بن مخلدٍ عن عبدالحمید بن جعفر اتنا پڑھ کر رعب سے ان کی زبان بند ہوگئی اور اس پر ابوزرعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے جانکنی کے عالم میں روایت شروع کردی کہ حدثنا بُنْدارحدثنا عبدالحمید بن جعفر عن صالح عن کثیر بن مرۃ عن معاذ بن جبل قال قال رسول اللّٰہ مَنْ کَانَ اٰخِرُ کَلَامِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی، پوری حدیث یوں ہے کہ مَنْ کَانَ اٰخِرُ کَلَامِہٖ لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ   یعنی جس کی زبان سے مرتے وقت آخری کلام لَا اِلٰہَ اِلَا اللّٰہُ نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔۲۶۴ھ  میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا وصال ہوا۔([4]) ( تذکرۃ الحفاظ وتہذیب التہذیب وغیرہ)

(۳۲ ) حضرت ہیثم بن جمیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        یہ حدیث میں حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وغیرہ محدثین کرام کے نامور شاگردوں میں ہیں نہایت متقی اور اعلیٰ درجے کے عابد و زاہد تھے۔ حضرت سفیان بن محمد مصیصیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا بیان ہے کہ میں ہیثم بن جمیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی وفات کے وقت حاضر تھا وہ سکرات موت میں تھے اور قبلہ رو لیٹے ہوئے تھے، لوگوں نے ان کو چادر اڑھا دی تھی اور دم نکلنے کے انتظار میں تھے اسی حالت میں ان کی باندی نے ان کا پاؤں ہاتھ سے دبایا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایاکہ میری باندی! تم ان پیروں کو خوب اچھی طرح دباؤ  اللہ   تَعَالٰی جانتا ہے کہ میرے یہ دونوں پاؤں زندگی بھر میں کبھی کسی گناہ کی طرف نہیں چلے ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی زبان مبارک سے یہ کلمات ادا ہوئے اور فوراً ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی روح پرواز کرگئی۔ ۲۱۳ ھ میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی وفات ہوئی۔([5])  (تہذیب التہذیب)

(۳۳) حضرت بشر بن حارث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  

        یہ وہی مشہور صاحبِ ولایت وباکرامت بزرگ ہیں جو عام طور پر ’’بشر حافی‘‘ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کے نام سے مشہور ہیں ۔ یہ اتنے بلند مرتبہ محدث اور مفتی اعظم ہیں کہ حضرت امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ان کی درسگاہ کے ایک طالب علم ہیں ۔ آخری عمر میں درس حدیث اور مجالس فتویٰ ختم کرکے گوشہ نشین ہوگئے اور ہمہ وقت عبادت و ریاضت میں مشغول رہنے لگے۔ بوقتِ وفات جانکنی کے عالم میں ان پر بہت زیادہ مشقت اور بے قراری ظاہر ہوئی تو کسی نے پوچھا کہ کیوں ؟ کیا بات ہے؟ کیا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو زندگی سے محبت ہے اور موت ناگوار ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایاکہ بھائی!  اللہ   تَعَالٰی کے دربار میں جانا بہت دشوار معاملہ ہے اسے آسان نہ سمجھو، میں اسی لیے بے قراری میں پیچ و تاب کھارہا ہوں کہ یہ بہت ہی سنگین اور کٹھن مرحلہ ہے، یہ کہا اور ان کا وصال ہوگیا۔([6])  (احیاء العلوم ج۴ص۴۱۰)

(۳۴) خلیفہ عبدالملک بن مروان

        یہ خلفاء بنو امیہ میں بڑے کروفر کا بادشاہ گزرا ہے۔ بہت زیادہ صاحبِ علم اور خلیفہ ہونے سے پہلے بہت عبادت گزار بھی تھا۔ جب اس کی وفات کا زمانہ قریب آیاتو اس نے ایک غسال کودمشق کے دروازے پر دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کرایک مردہ نہلانے جارہا تھا تو خلیفہ عبدالملک نے کہا کہ کاش میں بھی ایک غسال ہوتا اور اپنے ہاتھ ہی کی کمائی روزانہ کھاتا اور میں حکومت دنیا کے کسی معاملہ کا والی نہ بنتا۔ جب صوفی ابوحازم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو خلیفہ عبدالملک کے اس مقولہ کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ الحمدللہ کہ جب ان بادشاہوں کی موت کا وقت آتا ہے تو یہ لوگ ہمارے حال کی تمنا کرتے ہیں اور جب ہم لوگوں کی موت کا وقت آتا ہے تو ہم لوگ ان بادشاہوں کے حال کی تمنا نہیں کرتے۔

        عین جانکنی کے عالم میں کسی نے خلیفہ عبدالملک بن مروان سے پوچھا کہ اس وقت آپ اپنے آپ کو کیسا پارہے ہیں ؟ تو اس نے کہا کہ میں اپنے آپ کو بالکل ویسا ہی پارہا ہوں جیسا کہ قرآن



[1]     ترجمۂ کنزالایمان  :  پھرجب صور پھونکا جائے گا تووہ دن کرّا     (سخت) دن ہے۔( پ ۲۹، المدثر: ۸، ۹)

[2]      احیاء علوم الدین ،  کتاب الخوف والرجاء ، بیان احوال الصحابۃ والتابعین وسلف الصالحین، ج۴، ص۲۲۹۔ حلیۃ الأولیائ،  زرارۃ بن اوفیٰ، الحدیث: ۲۲۷۰، ج۲،  ص۲۹۳۔  الطبقات الکبری لابن سعد،  زرارۃ بن اوفیٰ،  ج۷، ص۱۱۰

[3]      تاریخ بغداد، عبیداللہ بن عبدالکریم، ج۱۰، ص۳۳۱

[4]     تاریخ بغداد، عبیداللہ بن عبدالکریم، ج۱۰، ص۳۳۳بتغیر

[5]     تہذیب التھدیب، ج۹، ص۱۰۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن