30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھی ، نہ ایک روزہ رکھا نہ حج و زکوۃ کا موقع پایا مگر ایمان و جہاد کے سبب سے اللہ تَعَالٰی نے اس کو اتنا بلند مرتبہ عطا فرمایا۔‘‘([1]) (مدارج النبوۃج۲ص۲۴۰)
(۲۰) حضرت سعید بن جبیر تا بعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت ہی جلیل القدر تابعی ہیں بلکہ بعض محدثین نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو خیرالتابعین ( تمام تابعین میں بہترین )لکھا ہے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بصرہ کے ظالم گورنر حجاج بن یوسف ثقفی کو اس کی خلافِ شرع باتوں پر روک ٹوک کرتے رہتے تھے اس لیے اس ظالم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو قتل کرادیا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کا واقعہ بڑا ہی عجیب وغریب ہے، حجاج نے پوچھا کہ سعید بن جبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ! بولو میں کس طریقے سے تمہیں قتل کروں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ جس طرح تو مجھے قتل کرے گا قیامت کے دن اسی طریقے سے میں تجھے قتل کروں گا، حجاج نے کہا کہ تم مجھ سے معافی مانگ لو میں تمہیں چھوڑ دوں گا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں خدا عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی دوسرے سے معافی نہیں مانگ سکتا، حجاج نے جھلا کر کہا : اے جلاد! ان کو قتل کردے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہ سن کر ہنسنے لگے حجاج نے تعجب سے پوچھا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس وقت کس بات پر ہنس پڑے؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کے روبرو تمہاری جرأت پر مجھے تعجب ہوا اور ہنسی آگئی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جلاد کے سامنے قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوگئے اور اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ(۷۹) ([2]) پڑھنے لگے ۔ حجاج نے کہا کہ اے جلاد ! ان کامنہ قبلہ سے پھیردے ۔توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پڑھا : فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ ([3]) حجاج نے کہاکہ اے جلاد!ان کو منہ کے بل زمین پر لٹا کر قتل کرڈالو۔ جب جلاد نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو منہ کے بل بحالت سجدہ لٹایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى(۵۵) ([4])جب جلاد نے خنجر اٹھایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بلند آواز سے لَآ اِلہ اِلا اللّٰہ وَحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ پڑ ھا اور یہ دعا مانگی کہ ’’ یا اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ میرے قتل کے بعد حجاج کو کسی مسلمان پر قابو نہ دے۔‘‘
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ دعا مقبول ہوگئی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے بعد صرف پندرہ رات حجاج زندہ رہا اور کسی مسلمان کو قتل نہ کرسکا۔ اس کے پیٹ میں کینسر ہوگیا تھا۔طبیب بدبودار گوشت کی بوٹی کو دھاگے میں باندھ کر اس کے حلق میں ڈالتا تھا اور وہ اس کو گھونٹ جاتا تھا۔ پھر اس کو نکالتا تھا تو وہ بوٹی خون میں لپٹی ہوئی نکلتی تھی اور ان پندرہ راتوں میں حجاج کبھی سو نہیں سکاکیونکہ آنکھ لگتے ہی وہ خواب دیکھتا کہ حضرت سعید بن جبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹ رہے ہیں ، بس آنکھ کھل جاتی ۔یہ بھی منقول ہے کہ قتل کے بعد حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بدن سے اس قدر خو ن نکلا کہ حجاج اور حاضرین حیران رہ گئے، جب طبیب سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ قتل ہونے والوں کا خون خوف سے سوکھ جاتا ہے، مگر حضرت سعید بن جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چونکہ بالکل بے خوف تھے اس لیے ان کا خون بالکل خشک نہیں ہوا اور اس قدر زیادہ خون نکلا کہ سارا دربار خون سے بھر گیا۔([5]) (اکمال فی اسماء الرجال ص۵۹۸وطبقات شعرانی وتہذیب التہذیب)
( ۲۱) حضرت عمربن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نہایت ہی اہل علم و عمل بزرگ تابعی اور بنوامیہ کے خلفاء کی فہرست میں ’’خلیفۂ عادل ‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ روزانہ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ میری موت کو مجھ پر آسان کردے ۔چنانچہ ان کی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک کا بیان ہے کہ ان کی وفات کے وقت میں ان کے خیمہ سے نکل کر مکان میں بیٹھ گئی تو میں نے ان کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا کہ
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ([6]) (پ۲۰، القصص آیت۸۳)
یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اور آخرت کی بھلائی پرہیز گاروں کے لیے ہے۔
اس کے بعد وہ بالکل ہی پرسکون ہوگئے، نہ کچھ بولے، نہ کوئی حرکت کی۔ تو میں نے لونڈی سے کہا کہ دیکھ تو خلیفہ کا کیا حال ہے؟ وہ دوڑ کر گئی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ وفات پاچکے تھے اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ عین وفات کے وقت آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ مجھے بٹھادو جب لوگوں نے انہیں بٹھایا تو بیٹھ کر انہوں نے یہ کہا کہ یا اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ تو نے مجھے کچھ باتوں کا حکم فرمایا تو میں نے کوتاہی کی اور تو نے مجھے کچھ باتوں سے منع فرمایا تو میں نے نافرمانی کی۔ تین مرتبہ یہی کہا پھر کلمہ طیبہ پڑھا اور نظر جما کر دیکھا ۔تو لوگوں نے کہا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا دیکھ رہے ہیں ؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی
عَلَیْہِ نے فرمایا کہ میں کچھ سبز پوش لوگوں کود یکھ رہا ہوں جو نہ انسان ہیں نہ جن، یہ کہا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ ([7]) (احیاء العلوم ج۴ص۴۰۸وص۴۰۹)
اور عبید بن حسان کہتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وفات کا وقت بالکل ہی قریب آن پہنچا تو انہوں نے ہر شخص کو گھر میں سے نکل جانے کا حکم دیا تو مسلمہ اور ان کی بیوی فاطمہ دروازے پر بیٹھ گئے تو انہوں نے سنا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بلند آواز سے کہہ رہے ہیں کہ مرحبا۔ خوش آمدید ہے ان چہروں کے لیے جو نہ آدمی ہیں نہ جن پھر یہ آیت پڑھی : تِلْكَ
[1] مدارج النبوت، قسم سوم، باب ششم، غزوہ خیبر، ج۲، ص۲۳۹
[2] ترجمۂ کنزالایمان :میں نے اپنامنہ اس کی طرف کیاجس نے آسمان وزمین بنائے ایک اسی کاہوکر اور میں مشرکوں میں نہیں۔(پ۷، الانعام: ۷۹)
[3] ترجمۂ کنزالایمان : توتم جدھرمنہ کرو اد ھر و جہ اللہ (خداکی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے۔ (پ۱، البقرۃ: ۱۱۵)
[4] ترجمۂ کنزالایمان : ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھرلے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔(پ۱۶، طہ: ۵۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع