30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(تلاوت کرنے والے کوچاہئے کہ) ہمیشہ باوقار وباحیا رہے ، فضولیات ولغویات اور فحش گوئی وبدکلامی سے اجتناب کرے اور عاجزی و انکساری اورآہ وزاری کی عادت اپنائے۔
(دعاکرنے والے کوچاہئے کہ) دل جمعی کے ساتھ دعا کرے ، تمام غموں اورفکروں کو مجتمع کرلے(یعنی اپنی حاجت بارگاہِ الٰہی میں پیش کرے ) ، کمزوری وذلت کااظہارکرے ، (اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر) ا چھی امید رکھے ، عاجزی وانکساری کے ساتھ دعاکرے ، غربت و محتاجی دورکرنے کاسوال کرے ، ڈوبنے والے کی سی کیفیت طاری کرے ، بقدرِ استطاعت ذات
باری تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے ، دعا کرتے ہوئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عظیم عزت وحرمت کوپیشِ نظر رکھے ، اس کی بارگاہ میں توجہ کرتے ہوئے اپنی ہتھیلیاں پھیلا دے ، اور دعا قبول ہونے کا یقین رکھے اور ساتھ ہی ساتھ اس بات سے خوف زدہ بھی ہوکہ کہیں ناکام ونامراد نہ لوٹا دیا جاؤں اور خوش حالی کا منتظر رہے ، دعا کرتے ہوئے باہمی دشمنی دل سے نکال دے ، رحمت ِ خداوندیعَزَّوَجَلَّ کی اُمیدرکھتے ہوئے نیک نیتی سے دعاکرے ا ور دعاکے بعد ہتھیلیوں کو چہرے پر پھیر لے ۔
(نمازِجمعہ پڑھنے والے کوچاہئے کہ) وقت شروع ہونے سے پہلے جمعہ کی تیاری شروع کر دے ، نمازِ جمعہ میں حاضری کے لئے سویرے سویرے طہارت کرے کہ جسم کو دھوئے ، کپڑوں کی پاکیزگی وصفائی کااہتمام کرے ، خوشبو وغیرہ لگائے ، لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے(بلکہ جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے) ، گفتگو کم کرے ، کثرت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاذکر کرے ، امام کے قریب ہو کر بیٹھے ، خطیب کے حکم کی تعمیل کرے ، علم حاصل کرنے کے لئے حاضر ہو ، پروقار اور پرسکون ہو کر چلے ، انگلیاں نہ چٹکائے ، چلتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم رکھے ، خاموشی کی عادت اپنائے ، کثرت سے خالق ورازق عَزَّوَجَلَّ کا شکر بجا لائے ، عاجزی وانکساری کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہو ، سلام کاجواب دے ، خطیب کے منبرپربیٹھ جانے کے بعدنماز وغیرہ نہ پڑھے اورخطیب کے اشارہ کرنے کے بعد سلام کاجواب نہ دے ، گفتگو وغیرہ بندکردے ، نصیحت قبول کرنے کاپختہ ارادہ کرے ، خطیب کے سامنے اور اس کے بیان کرتے وقت ادھراُدھرنہ دیکھے ، جب تک خطیب منبر سے نہ اُترے اورمؤذن اقامت سے فارغ نہ ہولے اس وقت تک نماز کے لئے کھڑانہ ہو(یعنی اقامت سے پہلے کھڑ انہ ہو)۔
(خطیب کوچاہئے کہ) مسجدمیں اس حالت میں آئے کہ اس پرسکینہ ووقارکی کیفیت طاری ہو ، سلام کرنے میں پہل کرے ، اس پر (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا) خوف اور ہیبت طاری ہو ، لوگوں کو آپس میں گفتگو کرنے سے منع کرے ، وقت کا انتظار کرے پھرسنجیدہ حالت میں منبرکی طرف چلے ، گویا وہ پسندکرتاہے کہ اس کا کلام اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے ، پھر عاجزی و انکساری کرتے ہوئے منبرکی طرف بڑھے ، زینے پر کھڑا ہو اور ذکرِالٰہی کرتا ہوا منبر پر چڑھے ، جو لوگ سننے کے لئے جمع ہوں ان کو سلام کے ساتھ([1])
(متوجہ کرنے کے لئے) اشارہ کرے تاکہ توجہ سے اس کا کلام سنیں ، پھر(دل میں ) خدائے قہَّار عَزَّوَجَلَّ کا خوف رکھتے ہوئے اَذان سننے کے لئے بیٹھ جائے ، عاجزی وانکساری سے خطبہ شروع کرے اور انگلیوں سے اشارہ نہ کرے ، جو وہ کہہ رہا ہے اس کااعتقادرکھے تاکہ فائدہ پائے ، پھر لوگوں کو دعا کے لئے اشارہ کرے۔ جب مؤذن اقامت شروع کرے تو خطیب منبر سے اُترآئے اوراس وقت تک تکبیرِ تحریمہ نہ کہے جب تک لوگ خاموش نہ ہو جائیں ، پھر نمازشروع کرے اور ٹھہر ٹھہر کر خوش آوازی سے قرآنِ پاک کی تلاوت کرے۔
(عیدکے آداب یہ ہیں )عیدکی رات عبادت میں گزارے ، عیدکے دن صبح سویرے غسل کرے ، بدن کی پاکیزگی کاخوب اہتمام کرے ، خوشبولگائے ، تکبیرات کی پابندی کرے ، ذکر الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی کثرت کرے ، عاجزی و انکساری کی عادت بنائے ، تکبیرات کی زیادتی کے ساتھ ساتھ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پاکی وحمد بھی بیان کرے ، نمازکے بعدخطبۂ عیدسننے کے لئے خاموشی اختیارکرے ، اگر عید الفطر ہو تو کچھ کھاکرنمازِعیدکے لئے جائے ، ایک راستے سے جائے اوردوسرے سے واپس آئے ، اس خوف سے واپس آئے کہ نہ جانے میری نمازقبول بھی ہوئی ہے یا نہیں ۔
(نمازِخسوف اداکرتے وقت)جزع وفزع کا اظہارکیاجائے ، گناہوں سے توبہ کرنے میں جلدی کی جائے اور سستی نہ کی جائے ، نماز کے لئے جلدی کی جائے اور قیام لمبا کیاجائے ، دل میں خوف الٰہی عَزَّوَجَلَّ پیداکیاجائے۔
نمازِ استسقاء سے پہلے روزہ رکھا جائے ، توبہ میں جلدی کی جائے ، بقدرِ استطاعت ظلم روکنے کی پوری پوری کوشش کی جائے ، ایک دوسرے پربرتری نہ جتائی جائے ، نمازِ استسقاء کے لئے نکلنے سے پہلے غسل کیاجائے ، خاموشی کی عادت بنائی جائے اور اُس حالت پرغوروفکرکیاجائے جس کی وجہ سے بارش روک دی گئی ، ان گناہوں کا اعتراف کیا جائے جن کی وجہ سے یہ سزا ملی اور آئندہ ان گناہوں کونہ کرنے کا پختہ ارادہ کیا جائے ، خطبہ سننے کے لئے خاموشی اختیارکی جائے ، تکبیرات کے درمیان کثرت سے تسبیحات وغیرہ کی جائیں ، استغفارکی کثرت کی جائے
[1] ۔ ۔ ۔ احناف کے نزدیک: خطیب کے لئے سنت یہ ہے کہ سلام نہ کرے۔ (النھرالفائق شرح کنزالدقائق ، کتاب الصلوۃ ، باب صلوۃ الجمعۃ ، ج۱ ، ص۳۵۹)
[2] ۔ ۔ ۔ صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ القوی’’بہارِشریعت‘‘میں نقل فرماتے ہیں : ’’سورج گہن کی نماز سنت مؤکدہ ہے اورچاندگہن کی مستحب۔ سورج گہن کی نمازجماعت سے پڑھنی مستحب ہے اور تنہا تنہابھی ہوسکتی ہے اور جماعت سے پڑھی جائے توخطبہ کے سواتمام شرائط جمعہ اس کے لئے شرط ہیں ، وہی شخص اس کی جماعت قائم کرسکتاہے جوجمعہ کی کر سکتا ہے ، وہ نہ ہوتوتنہاتنہاپڑھیں ، گھرمیں یامسجدمیں۔ ‘‘ (بہارشریعت ، حصہ چہارُم ، ج۱ ، ص۷۸۷ ، مکتبۃ المدینۃ)
[3] ۔ ۔ ۔ صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ’’بہارِشریعت‘‘ میں نقل فرماتے ہیں : ’’استسقا دعاواستغفارکانام ہے۔ استسقاکی نمازجماعت سے جائز ہے ، مگرجماعت اس کے لئے سنت نہیں ، چاہیں جماعت سے پڑھیں یاتنہا تنہادونوں طرح اختیارہے۔ ‘‘ (بہارشریعت ، حصہ چہارُم ، ج۱ ، ص۷۹۳ ، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع