30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(طہارت حاصل کرنے والے کو چاہئے کہ وضوسے پہلے) مسواک کرے اور ہر عضو دھوتے وقت زبان کوذکرِالٰہیعَزَّوَجَلَّ سے تر رکھے ، جس ذات کی عبادت کرنے کاارادہ رکھتا ہے دل میں اس کاخوف پیداکرتے ہوئے (اپنے گناہوں سے) توبہ کرے ، وضو کے بعد نماز شروع کرنے تک خاموشی اختیار کرے ، (باطنی)طہارت کے بعد (ظاہری) پاکیزگی حاصل کرے ، مونچھوں کو پست کرے ، بغلوں کے بال اکھیڑے ، موئے زیرِناف مونڈے ، ناخن کاٹے ، ختنہ کرے([1]) ، (ہاتھ پاؤں کی) انگلیوں کے جوڑاچھی طرح دھو لے ، ناک کی صفائی کاخاص خیال رکھے ، کپڑوں اوربدن کی پاکیزگی کا خوب اہتمام کرے۔
(مسجدمیں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ)پہلے دایاں پاؤں داخل کرے ، جوتوں پر گندگی وغیرہ لگی ہوئی ہو تو اسے جھاڑلے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرے(یعنی مسجدمیں داخل ہونے
کی دعا ([2])پڑھے) ، اگرمسجد میں کوئی موجودہو تواسے سلام کرے ، کوئی نہ ہوتواپنے آپ پرسلام بھیجے([3]) ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے سوال کرے کہ وہ اس کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول
دے ، قبلہ رو ہوکربیٹھے ، دل میں خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ پیدا کرے ، گفتگوکم کر ے ، (مسجدمیں )لعن طعن کرنے سے بچے ، نہ تو مسجد میں آواز بلند کرے ، نہ تلوار سونتے ، نہ تیراندازی کرے ، نہ (دُنیوی) کام کرے ، نہ گم شدہ چیز تلاش کرے ، نہ خریدو فروخت کرے اورنہ ہی ہم بستری کرے۔ جب مسجدسے نکلے توپہلے بایاں (یعنی اُلٹا) پاؤں باہرنکالے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اس فضل کا سوال کرے جو وہ عطا فرماتا ہے (یعنی مسجدسے نکلنے کی دُعا ([4])پڑھے)۔
(اعتکاف کرنے والے کوچاہئے کہ) ہمیشہ ذکرمیں مشغول رہے ، اپنے غموں اور فکروں کو مجتمع کرلے(یعنی دنیوی خیالات میں مشغول نہ ہو) ، فضول گوئی نہ کرے ، (خشوع وخضوع حاصل کرنے کے لئے) ایک جگہ مخصوص کر لے اور اِدھر اُدھر نقل وحرکت نہ کرے ، نفس کو اس کی خواہشات اور پسندیدہ چیزوں سے روک کر اسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت و عبادت پر مجبورکرے۔
اذان دینے والا موسمِ سرما وگرما میں اوقاتِ اَذان کی پہچان رکھتا ہو ، منارے پر چڑھتے وقت نگاہیں جھکائے رکھے ، دورانِ اذان’’حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ‘‘اور’’حَیَّ عَلَی الْفَلَاح‘‘کہتے ہوئے دائیں بائیں چہرہ گھمائے ، اَذان ٹھہر ٹھہر کر اور اقامت جلدی جلدی کہے۔
امامت کا زیادہ حق دار وہ ہے جو نماز کے فرائض ، سنتیں اور دیگر مسائل زیادہ جانتا ہو ، ان چیزوں کی معلومات رکھتا ہو جو اُسے نماز میں پیش آتی ہیں اور جن سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگوں کا امام نہ بنے جو اسے ناپسندکرتے ہوں ، اپنے قریب اہلِ علم کو کھڑا کرے اور انہیں حکم دے کہ وہ لوگوں کی صفیں درست کریں ، لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئے ، نہ لمبی لمبی سورتیں پڑھے ، نہ رکوع وسجودکی تسبیحات میں اتنی زیادتی کرے کہ لوگ کبیدہ خاطر ہو جائیں (یعنی اُکتا جائیں ) ، اورنہ ہی اتنی تخفیف (یعنی کمی) کرے کہ نمازکامل ہی نہ ہو ، بلکہ لوگوں میں کمزور وضعیف شخص کی قدرت وطاقت کا خیال رکھتے ہوئے نماز پڑھائے ، رکوع وسجودمیں نرمی کرے(یعنی کچھ دیر ٹھہرا رہے) تاکہ لوگوں کو اطمینان ہو جائے ، سورۂ فاتحہ پڑھنے سے پہلے اور بعد اور قراء َت سے فارغ ہونے کے بعدمعمولی سا وقفہ کرے([5]) ، امام رکوع میں ہو اور اپنے پیچھے کسی ایسے شخص کو آتا ہوا محسوس کرے جسے جانتا نہ ہو تو رکوع میں اس کا انتظار کرے تاکہ وہ نماز میں شامل ہو سکے ، نماز سے پہلے اپنے پڑوسیوں میں سے کسی کو نہ پائے توجب تک نمازکا وقت نکلنے کا خوف نہ ہو اس کا انتظار کرے ، دونوں سلاموں کے مابین تھوڑا سا وقفہ کرتے ہوئے فرق کرے۔ جب نماز سے فارغ ہو تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے پردہ پوشی فرمانے اوراس کے احسان پر نظررکھے اور بکثرت اپنے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ کاشکرادا کرتا رہے ، اورہرحال میں ہمیشہ اس کا ذکر کرتا رہے۔
(نماز پڑھنے والے کوچاہئے کہ) عاجزی وانکساری اور خشوع وخضوع کی کیفیت پیداکرے اورحضورِقلبی کے ساتھ نماز پڑھے ، وسوسوں سے بچنے کی کوشش کرے ، ظاہری وباطنی طورپرتوجہ سے نماز پڑھے ، اعضاء پر سکون رکھے ، نگاہیں نیچی رکھے ، (قیام میں ) دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ، تلاوت میں غورو فکر کرے ، ڈرتے ہوئے اور خوف زدہ ہو کر تکبیر کہے ، خشوع وخضوع کے ساتھ رکوع و سجود کرے ، تعظیم وتوقیرکے ساتھ تسبیح پڑھے ، اور تشہداس طرح پڑھے گویا اللّٰہ تعالیٰ کودیکھ رہا ہے ، (رحمت ِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کی) اُمید رکھتے ہوئے سلام پھیرے ، اس خوف سے پلٹے کہ نہ جانے میری نمازقبول بھی ہوئی ہے یا نہیں ، اور رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ طلب کرنے کی کوشش کرے۔
[1] ۔ ۔ ۔ بالغ کے ختنہ کے متعلق کئے گئے سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت ، مجدد دین وملت ، شاہ امامِ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں : ’’ہاں ! اگرخودکرسکتاہوتوآپ اپنے ہاتھ سے کرلے یاکوئی عورت جو اس کام کو کر سکتی ہو ، ممکن ہوتو اس سے نکاح کرادیاجائے وہ ختنہ کردے ، اس کے بعدچاہے تواسے چھوڑدے یا کوئی کنیز شرعی واقف (یعنی اس کام کو کر سکتی) ہو تووہ خریدی جائے۔ اوراگریہ تینوں صورتیں نہ ہو سکیں توحجام ختنہ کر دے کہ ایسی ضرورت کے لئے ستردیکھنا دکھانا منع نہیں ۔ ‘‘ (فتاوٰی رضویہ مخرجہ ، ج۲۲ ، ص۵۹۳ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
[2] ۔ ۔ ۔ مسجدمیں داخل ہونے کی دعا یہ ہے: ’’اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِک۔ ‘‘ (صحیح ا لمسلم ، کتاب صلوۃ المسافرین…الخ ، باب مایقول اذا دخل ا لمسجد ، ا لحدیث۱۶۵۲ ، ص۷۹۰)
[3] ۔ ۔ ۔ صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی نقل فرماتے ہیں : ’’جب مسجد میں داخل ہو توسلام کرے بشرطیکہ جو لوگ وہاں موجود ہیں ، ذکر ودرس میں مشغول نہ ہوں اور اگر وہاں کوئی نہ ہویا جو لوگ ہیں وہ مشغول ہیں تو یوں کہے: ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا مِنْ رَّبِّنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْن۔ ‘‘ (بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ، ص۱۴۱ ، مکتبۃ المدینۃ ، باب المدینہ کراچی)
[4] ۔ ۔ ۔ مسجد سے نکلنے کی دعا یہ ہے: ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک۔ ‘‘ (صحیح ا لمسلم ، کتاب صلوۃ المسافرین…الخ ، باب مایقول اذا دخل ا لمسجد ، ا لحدیث ۱۶۵۲ ، ص۷۹۰)
[5] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع