30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے بچے۔ ہنسی مذاق اورفتنہ وفسادبرپانہ کرے ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اس نعمت پر شکر ادا کرے کہ اسے رسولِ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی احادیث بیان کرنے کا منصب عطا فرمایاگیا اور عا جزی وانکساری اپنائے۔ اکثر وہ احادیث بیان کرے جن کے ذریعے مسلمانوں کو فرائض ، سنتیں ، آداب اورقرآن پاک کے معانی و مطالب سمجھنے میں آسانی ہو۔ علم کو وزراء کے پاس لئے لئے نہ پھرے اورامراء (امیرلوگوں ) کے دروازوں کے چکر نہ لگاتا پھرے کہ یہ چیزیں علماء کی رسوائی کا باعث بنتی ہیں ۔ جب وہ اپنے علم کو سرمایہ داروں اور بادشاہوں کے پاس لئے لئے پھرتے ہیں تو ان کے علم کی رونق ختم ہوجاتی ہے۔ جس حدیث کی اصل سند نہ جانتا ہو اسے بیان نہ کرے ، محدِّث کے سامنے وہ حدیث بیان نہ کی جائے جس کے متعلق اس نے اپنی کتاب میں کہاہو کہ ’’میں اس کے بارے میں نہیں جانتا۔ ‘‘ جب اس کے سامنے حدیث پڑھی جائے تو گفتگو نہ کرے اورحدیثوں کوآپس میں ملانے سے بچے۔
( حدیث کاعلم حاصل کرنے والے کوچاہئے کہ) مشہوراحادیث تحریرکرے ، غریب([1] ) ومنکر روایات کونہ لکھے اورثقہ راویوں کی روایات لکھے ، شہرتِ حدیث اسے اپنے دوست وہم نشین پر غالب نہ کردے (یعنی ایسا نہ ہوکہ علمِ حدیث میں مہارت حاصل کرکے اپنے رفیق وہم نشین کوکم ترسمجھنے لگے) ، طلب ِ حدیث میں مشغولیت اسے نماز پڑھنے اوراخلاق وآداب کالحاظ رکھنے سے غافل نہ کرے ، غیبت سے بچتا رہے ، خاموشی اختیار کرتے ہوئے توجہ سے سنے ، مُحَدِّث کے سامنے خاموش رہنے کی عادت بنائے ، اپنے پاس موجودنسخہ کی درستی کے لئے مُحَدّ ِث کی طرف کثرت التفات کرے ، اور حدیث بیان کرتے ہوئے ’’سَمِعْتُیعنی میں نے سنا‘‘نہ کہے جبکہ اس نے وہ حدیث نہ سنی ہو ، بلندی وبڑائی چاہنے کے لئے حدیث کو نہ پھیلائے کہ غیرِثقہ راویوں کی روایات نقل کر دے ، اہلِ اسلام میں سے حدیث کی معرفت رکھنے والوں کی صحبت اختیارکرے اور جن نیک لوگوں کو حدیث کی معرفت حاصل نہیں ان سے روایت نہ کرے۔
(لکھنے والے کوچاہئے کہ) اچھے رسم ُ الخط میں کتابت کرے ، قلم کی نوک کی عمدگی اور لفظوں کے اعراب کا خاص خیال رکھے ، اعداد وشمار کی معرفت حاصل کرے ، درست رائے رکھنے والاہو ، اچھے لباس اور خوشبو وغیرہ کاخاص اہتمام کرے ، اپنی ذمہ داری بحسن وخوبی نبھانے کے لئے گذشتہ صاحب ِ اختیار وزراء اور عہدے دار ان کے حالات جاننے کی کوشش کرے ، قابلِ گرفت باتیں لکھنے سے بچے ، زمینی پیداوار کے معاملات کا علم رکھے ، جھگڑا کرنے والے سے درگزر کرتے ہوئے حقیقت ِ حال جاننے کی کوشش کرے ، بے حیائی اور ناجائز و ممنوع کاموں سے بچے ، ہمیشہ بامُرُوَّت رہے ، اچھی صحبت اختیار کرے اور ذلیل و حقیرلوگوں کی صحبت سے بچے ، محفلوں اورنششت گاہوں میں فحش گوئی اور بدکلامی نہ کرے ، مصاحبین ومتعلقین کے ساتھ (بے ہودہ)گفتگو ، ہنسی مذاق اوربحث و مباحثہ نہ کر ے ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
(وعظ ونصیحت کرنے والے کوچاہئے کہ) تکبرسے بچتے ہوئے ہمیشہ اپنے مالکِ حقیقی سے حیا کرتا رہے ، اپنی حاجت بارگاہِ الٰہیعَزَّوَجَلَّ میں پیش کرے۔ اس بات کا خواہش مند ہوکہ سننے والے وعظ و نصیحت سے فائدہ حاصل کریں ، اپنی خامیوں پر آگاہ ہو تو اپنے نفس کوملامت کرے ، سننے والوں کوسلامتی چاہنے والی نگاہ سے دیکھے ، ان کی پوشیدہ باتوں کے متعلق حسنِ ظن رکھے ، اپنی ذات کو طعن وتشنیع سے محفوظ رکھنے کے لئے لوگوں سے کوئی چیزطلب نہ کرے ، ادب سکھاتے ہوئے نرمی سے کام لے ، ابتداء ً جسے وعظ ونصیحت کرے اس پر نرمی کرے ، جو کہے اس پرعمل کرنے کا پختہ ارادہ کرے تاکہ لوگ اس کی باتوں سے فائدہ حاصل کریں ۔
ہمیشہ خشوع وخضوع (عاجزی وانکساری)کی کیفیت پیداکرنے کی کوشش کرے ، جوکچھ سنے اسے یاد رکھنے کی کوشش کرے ، وعظ ونصیحت کرنے والے کے متعلق حسنِ ظن رکھے ، واعظ کی بات کے درست ہونے کا اعتقاد رکھے ، ہمیشہ خاموش رہنے کی عادت اپنائے ، مستقل مزاجی اختیار کرے ، اپنے غموں اورفکروں کومجتمع کرلے(یعنی دنیوی خیالات میں مشغول نہ رہے اورلوگوں پر) تہمت لگانے سے بچے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
(عبادت کرنے والے کوچاہئے کہ) عبادت کے اوقات کی معلومات رکھے ، اس کا مقصودعبادت ہو ، پُردلیل کلام کرے ، (خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ سے ہروقت)آنکھوں سے آنسو بہتے رہیں ، خشو ع وخضوع کی کیفیت پیدا کرے ، نگا ہیں جھکا ئے رکھے ، نفسانی خواہشات کی مخالفت کرے ، وقت ضائع کرنے سے بچے ، دینی معاملا ت کے متعلق فکرمند رہے ، اپنے وقت کی حفاظت ونگرانی کرے ، روزوں پر ہمیشگی اختیار کرے ، رات کی تنہائی میں عبادت کی عادت بنائے ، اپنے گھر میں بھی پرہیزگاری اختیار کرے ، کھا نے پینے کے معاملے میں قناعت پسند بنے ، ہروقت موت کا منتظر رہے ، اپنے مصاحبوں اورہم نشینوں سے کنارہ کش رہے ، نفسانی خواہشات کو ترک کر دے ، نمازوں کی پابندی کرے ، اپنی حالت کی بہتری اور کمزوری کو جا ننے کی کوشش کرے ، اپنی موجودہ علمی حالت کے اعتبار سے دوسرے کے علم کامحتاج نہ ہو (کیونکہ ہرشخص پراس کی حا لتِ موجودہ کے مسائل سیکھنافرض ہے)۔
گوشہ نشینی اختیار کرنے والا دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو ، نمازروزے اور حج زکوٰۃ کے احکام جانتا ہو ، لوگوں سے کنارہ کشی اختیارکرنے میں ان سے اپنا شر دور کرنے کا نظریہ رکھے ،
[1] ۔ ۔ ۔ غریب حدیث: وہ ہے جس کی صرف ایک سندہویعنی جس کاراوی صرف ایک ہوخواہ ہرطبقہ میں ایک ہی ہو یا کسی طبقہ میں زائد بھی ہو گئے ہوں ۔ شرح النخبۃ: نزہۃ النظرفی توضیح نخبۃ الفکر ، ص۵۰ ، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع