دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Aadab e Deen | آداب دین

book_icon
آداب دین

ابوسعید یحیٰی ،  ابوطاہر ،  امام ابراہیم ،  ابوطالب عبد الکریم رازی ،  جمال الاسلام ابوالحسن علی بن مسلم رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔  

مدرسہ نظامیہ میں   تدریس :  

             وزیر نظامُ الملک نے بغداد میں   مدرسہ نظامیہ کی بنیاد رکھی اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ۴۸۴ھ میں   وہاں   استاذ مقرر ہوئے ،  پھر چار سال بغداد میں   تدریس و تصنیف میں   مشغول رہے۔  پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تدریس کے لئے اپنے بھائی کو اپنا قائم مقام بنایا او رخود حج کے ارادے سے مکہ معظمہ روانہ ہو گئے۔

دُنیاسے بے رغبتی :

            حضرت سیِّدُنا اما م محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی  کا دل دُنیا سے اُچاٹ ہوگیا اور مکمل طور  پر فکر ِآخرت میں   مُنْہَمِک ہوگئے اور ۴۸۹ھ میں   دمشق پہنچے اور کچھ دن وہاں   قیام فرمایا۔ پھر مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے بالآخر طوس واپس تشریف لائے اور اپنے گھر کو لازم پکڑ لیا اور تادمِ آخر وعظ ونصیحت ، عبادت اور تدریس میں   مشغول رہے۔

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تصانیف :

           کئی علوم و فنون میں   سینکڑوں   کتب تصنیف کیں   ،  جن میں   سے چند کے نام یہ ہیں  : (۱)تعلیقہ فی فروع المذہب (۲)بیان القولین (۳)الوجیزفی الفروع (۴)الوسیط المحیط بأقطار البسیط (۵)تحسین المأخذ (۶)مفصَّل الخلاف فی اصول القیاس (۷)شفاء العلیل (۸)معیار العلم (۹)میزان العمل (۱۰)تہافۃ الفلاسفۃ (۱۱)المنقذ من الضلال والمفصح عن الاحوال (۱۲)الإقتصاد فی الاعتقاد (۱۳)منھاج العابدین الٰی جنَّۃ ربِّ العالمین (۱۴)کیمیائے سعادت (۱۵)احیاء علوم الدین (۱۶)اخلاق الابرار (۱۷)ایُّھا الولد (۱۸)اربعین (۱۹) قانون الرسول (۲۰)المجلس الغزالیۃ(۲۱)تنبیہ الغافلین(۲۲)مکاشفۃ القلوب۔

وصال پُرملال :

            حضرتِ سیِّدُنااما م محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی تقریباًنصف صدی آسمانِ علم و حکمت کے اُفق پر آفتاب بن کر چمکتے رہے ۔  بالآخر ۵۰۵ھ طوس میں   وصال فرماگئے ۔ بوقت ِ وصال آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عمر مبارک55 سال تھی۔

(اللہعزَّوجلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ ( اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)

فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم: ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَاذَنْبَ لَہُ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والاایساہے جیساکہ اس نے گناہ کیاہی نہیں۔ ‘‘(سنن ابن ماجۃ ، حدیث: ۴۲۵۰ ، ص۲۷۳۵)  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَنَا فَاَکْمَلَ خَلْقَنَا ،  وَاَدَّبَنَا فَاَحْسَنَ اَدَبَنَا ،

وَشَرَّفَنَا بِنَبِیِّہِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ فَاَحْسَنَ تَشْرِیْفَنَا

(ترجمہ:  تمام خوبیاں   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے ہمیں   کامل صورت

میں   پیدا فرمایا ،  ہمیں   اچھا ادب سکھایا اوراپنے پیارے محبوب ، حضرتِ سیِّدُنا

محمد ِمصطفی ،  احمد ِمجتبیٰ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاامتی بننے کاشرف عطا فرمایا۔ )

            دین میں   سب سے کامل اخلاق اور افضل افعال اس کے آداب ہیں   ،  جن کے ذریعے بندۂ مومن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرتااورانبیاء ومرسلین عَلَیْہِم السَّلَام کے اخلاق کو اپناتا ہے۔  اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے قرآنِ حکیم کے ذریعے واضح طور پر ہمیں   ادب سکھایا اور اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک سنت کے ذریعے ہمیں   اس کی تعلیم دی جس کی پیروی ہم پرلازم ہے ،  پس اسی کا احسان ہے۔ اوراسی طرح صحابۂ کرام ،  تابعینِ عظام اور بعد والے اہلِ ادب مؤمنین کے ذریعے ہمیں   ادب سکھایا ان کی اتباع بھی ہم پرلازم ہے۔  اور دین کے آداب کا بہت بڑ احصہ ہے اور ان کی تعدادبہت زیادہ ہے جن میں   سے ہم بعض کا ذکر کریں   گے تاکہ بحث اتنی زیادہ طویل نہ ہو جائے کہ اس کاسمجھناہی دشوار ہو جائے۔

٭٭٭٭٭٭

  بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کے آداب

                (بندے کوچاہئے کہ بارگاہ ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں  ) اپنی نگاہیں   نیچی رکھے ، اپنے غموں   اورپریشانیوں   کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   پیش کرے ، خاموشی کی عادت بنائے ،  اعضاء کو پرسکون رکھے ،  جن کاموں   کاحکم دیا گیا ہے ان کی بجاآوری میں   جلدی کرے اور جن سے منع کیاگیاہے ان سے اور(ان پر) اعتراض کرنے سے بچے ،  اچھے اخلاق اپنائے ،  ہروقت ذکرِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی عادت بنائے ،  اپنی سوچ کو پاکیزہ بنائے ،  اعضاء کوقابومیں   رکھے ،  دل پرسکون ہو ،  اللّٰہ  رب العِزَّت کی تعظیم بجا لائے ،  غیض وغضب نہ کرے ،  محبت ِ الٰہی کو(لوگوں  )سے چھپائے ،  اخلاص اپنانے کی کوشش کرے ،  لوگوں  (کے پاس موجود مال ودولت) کی طرف نظر کرنے سے بچے ،  صحیح ودرست بات کوترجیح دے ،  مخلوق سے امید نہ رکھے  ، عمل میں   اخلاص پیداکرے ، سچ بولے اور گناہوں   سے بچے ، نیکیوں   کوزندہ کرے(یعنی نیکیوں   پرعمل پیراہو) ،  لوگوں   کی طرف اشارے نہ کرے اور مفید باتیں   نہ چھپائے ،  نام ونسب کی تبدیلی پرغیرت اورحرام کاموں   کے ارتکاب پر غیظ وغضب کا اظہار کرے ،  ہمیشہ باوقارو پرجلال رہے ، حیاء کو اپنا شعا ر بنا لے ،  خوف وڈر کی کیفیت پیدا کرے ،  اس شخص کی طرح مطمئن ہوجائے جسے ضمان دی گئی ہو ،  (توکل اپنائے کہ)توکل اچھے اختیارکی پہچان کانام ہے ،  دشواری کے وقت کامل وضو کرے ،  ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرے ،  اس کا دل فرض چھوٹ جانے کے خوف سے بے چین و مضطرب ہوجائے ، گناہوں   پر ڈٹے رہنے کے خوف سے توبہ پر ہمیشگی اختیارکرے اور غیب کی تصدیق کرے ،  ذکر کرتے وقت دل میں   خوفِ خداوندی عَزَّوَجَلَّپیدا کرے ،  وعظ ونصیحت کے وقت اس کا نورِ باطنی زیادہ ہو ،  فقر و

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن