30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں پڑے اور لوگوں کے بارے میں اچھاگمان ر کھے۔
(لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے والے کو چاہئے کہ) جب کسی اجتماع یا محفل میں جائے توسلام کرے اورآگے جاناممکن نہ ہو تو جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے اورلوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے ، جب بیٹھے تو اپنے قریب والے کو خاص طور پر سلام کرے ، اگر عام لوگوں کی محفل میں جائے تو ان کے ساتھ بے ہودہ باتوں میں نہ پڑے ، ان کی جھوٹی خبروں اورافواہوں پردھیان نہ دے اور ان میں جاری بری باتوں کی طرف توجہ نہ دے ، بغیر کسی سخت مجبوری کے عام لوگوں سے میل جول کم رکھے ، لوگوں میں سے کسی کو حقیر نہ سمجھے ورنہ یہ ہلاک وبرباد ہو جائے گا کیونکہ یہ نہیں جانتا ، ہو سکتاہے کہ وہ اِس سے بہترہو ، دنیادارہونے کی وجہ سے تعظیمی نگاہوں سے ان کی طرف نہ دیکھے کیونکہ دُنیااور جوکچھ اس میں ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک اس کی کچھ اہمیت نہیں ، اپنے دل میں دنیاکی قدر ومنزلت پیدانہ ہونے دے کہ اس کی وجہ سے اہلِ دنیاکی تعظیم وتوقیر کرنے لگے گا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کامرتبہ کم ہوجائے گا۔ لوگوں سے دُنیا حاصل کرنے کے لئے اپنے دین کوداؤ پرنہ لگائے کیونکہ ایساکرنے سے لوگوں کی نظروں میں اس کی قدر ومنزلت ختم ہوجائے گی۔ لوگوں سے عداوت (یعنی دُشمنی)نہ رکھے کہ ان کے دل میں بھی دُشمنی پیداہوجائے گی حالانکہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتااورنہ ہی اسے برداشت کر سکتا ہے۔ کسی سے عداوت رکھے تو محض اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر رکھے۔ پس ان کے برے افعال سے نفرت کرے ، ان کی طرف رحمت وشفقت بھری نظروں سے دیکھے ، اگر وہ اس سے محبت کریں ، اس کی تعظیم وتوقیرکریں ، اسے دیکھ کر اُن کے چہرے کھِل اُٹھیں اور وہ اس کی تعریف و توصیف کریں تو پھر بھی ان کے پاس کثرت سے نہ آئے کہ حقیقت میں کم لوگ ہی اسے چاہتے ہیں ۔ اگر وہ اُن کے پاس کثرت سے جائے گا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُسے ان کے سپردکردے گا پھر وہ ہلاک ہوجائے گا۔ اس بات کی حرص و لالچ نہ کرے کہ وہ اس کی غیرموجودگی میں بھی ا س کے ساتھ ایساہی گمان رکھیں جیسا اس کی موجودگی میں رکھتے ہیں کیونکہ یہ چیز ہمیشہ نہیں پائی جاتی ، لوگوں کے پاس موجود چیز کوحاصل کرنے میں حرص ولالچ نہ کرے کہ اس طرح وہ ان کے سامنے ذلیل ہو جائے گا اور اپنا دین ضائع کربیٹھے گا۔ اور اُن پربڑائی نہ چاہے۔ جب ان میں سے کسی سے اپنی حاجت کاسوال کرے اور وہ اسے پورا کر دے تو وہ اس کا ایسا بھائی ہے جس سے فائدہ حاصل کیاجاتاہے اوراگر اُس نے اِس کی حاجت پوری نہ کی تو اُس کی مذمت نہ کرے کہ اس طرح اُس کے دل میں دشمنی پیدا ہو جائے گی ، لوگوں میں سے کسی کو نصیحت نہ کرے ، البتہ ! جب کسی میں قبولیت کے آثاردیکھے تو نصیحت کرے ، ورنہ وہ اس سے عداوت رکھے گااوراس کی بات نہیں مانے گا۔
اگر لوگوں میں بھلائی ، عزت وشرافت یا خوبی دیکھے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف رجوع کرے اوراسی کی تعریف کرے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعا کرے کہ وہ اُسے لوگوں کے سپرد نہ کرے۔ جب لوگوں کے کسی شرپرآگاہ ہو یا ان میں بری بات یاغیبت یا کوئی ناپسندیدہ چیزدیکھے توان کا معاملہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر چھوڑ دے اور ان کے شر سے اس کی پناہ مانگے اور اس سے ان کے خلاف مدد طلب کرے اور ان پرعتاب وملامت نہ کرے کہ وہ اُن پرعتاب کی کوئی راہ نہ پائے گامگریہ کہ وہ اس کے دشمن ہو جائیں گے اور اس کا غصہ بھی ٹھنڈا نہ ہوگا بلکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں پرسچی توبہ کرے جن کی وجہ سے لوگوں کواس پر مسلَّط کیا گیا اور اس سے مغفرت طلب کرے اور لوگوں کی حق بات سننے والا بن جائے اور غلط باتیں سننے سے بہرہ ہو جائے۔
(بیٹے کوچاہئے کہ) والدین کی بات توجہ سے سنے ، ماں باپ جب کھڑے ہوں تو تعظیماً اُن کے لئے کھڑا ہوجائے ، جب وہ کسی کام کا حکم دیں تو فوراً بجا لائے ، ان دونوں کے کھانے پینے کاانتظام وانصرام کرے اورنرم دلی سے ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھائے ، وہ اگر کوئی بات باربار کہیں تو اُن سے اُکتانہ جائے ، ان کے ساتھ بھلائی کرے تو ان پراحسان نہ جتلائے ، وہ کوئی کام کہیں تواُسے پوراکرنے میں کسی قسم کی شرط نہ لگائے ، اُن کی طرف حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھے اورنہ ہی کسی معاملے میں ان کی نافرمانی کرے۔
(والدکوچاہئے کہ)نیکی واحسان میں اولاد کی مدد کرے اور انہیں طاقت سے زیادہ بھلائی کا پابند نہ کرے ، ان کی پریشانی وتنگ دستی کے وقت ان سے کسی چیزکامطالبہ نہ کرے ، انہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبرداری سے منع نہ کرے اور ان کی تربیت وپرورش کرنے پر اُن پراحسان نہ جتلائے۔
(ایک مسلمان کو چاہئے کہ) بھائیوں سے ملاقات کے وقت خوشی ومسرت کا اظہار کرے ، گفتگوکرتے ہوئے سلام سے ابتداء کرے ، جب مل کربیٹھیں توان کی وحشت دور
کرتے ہوئے انہیں اپنے سے مانوس کرے ، ان کے لئے کشادگی ووسعت پیدا کرے۔ جب وہ جانے کے لئے کھڑے ہوں توانہیں رخصت کرنے کے لئے دروازے تک جائے ، کوئی کلام کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے اور گفتگو میں لڑائی جھگڑے کو ناپسند کرے ، حکایات وغیرہ کو عمدگی وخوبی کے ساتھ بیان کرے ، دورانِ گفتگو ہی جواب دے بعد میں نہ دے اور جب بھائیوں کوپکارے تو پسندیدہ اوراچھے ناموں کے ساتھ پکارے۔
جب کوئی شخص اپنے پڑوسی سے ملاقات کرے توسلام کرنے میں پہل کرے ، گفتگو کرتے ہوئے بات کو زیادہ طول نہ دے ، نہ اس سے زیادہ سوال کرے ، پڑوسی بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، اُسے کوئی مصیبت پہنچے تواُس سے تعزیت کرتے ہوئے اُسے تسلِّی دے۔ جب اُس کو کوئی خوشی حاصل ہوتو اُسے مبارک باد دے ، پڑوسی کے لڑکے اور ملازم کے ساتھ نرمی و مہربانی سے گفتگوکرتے ہوئے حسنِ اخلاق سے پیش آئے ، پڑوسی کی غلطی پر اس سے درگزرکرے ، اس کی لغزش وخطا پر نرمی سے اس پرعتاب کرے ، اس کے گھر کی عورتوں کو دیکھنے سے اپنی نگاہوں کو بچائے ، وہ فریادکرے تواس کی مدد کرے اور اس کی ملازمہ (یعنی نوکرانی)کی طرف بھی نہ دیکھے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع