30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اور نہ ہی وزن میں کمی کرے ، اسے برابری کاحکم دے ، سامان وغیرہ تولنے میں جلدی نہ کرے ، اس کاترازودرستی میں سنارکے ترازواوراعتدال میں معیاری ترازوکی طرح ہو ، اس کی ڈوریاں لمبی اوراوپری کنارے باریک ہوں ، اس کے چھوٹے بڑے تمام باٹ وزن میں پورے ہوں ، روزانہ سب سے پہلے ترازوصاف کرے ، رطل اور سنگِ ترازو (بٹ یعنی تول وغیرہ کے پتھر) کے عیبوں کاخاص خیال رکھے ، غلام(نوکر) کوحکم دے کہ تیل اور روغنیات وغیرہ تولتے وقت احتیاط سے کام لے۔ جب کوئی مہذب شخص کچھ لینے آئے تو اس کی عزت و تکریم کرے ، پڑوسی آئے تواس پراحسان کرے ، کوئی ضعیف وناتواں آئے تو اس کے ساتھ شفقت و مہربانی سے پیش آئے یاان کے علاوہ کوئی بھی آئے تو اس کے ساتھ انصاف سے پیش آئے ، چیزوں کو ان کی قیمت وبھاؤ کی مقدارکے اعتبار سے بیچے ، اگر کسی چیز کی قیمت کم ہوتو(بیچنے والا) خریدار کو زیادہ قیمت میں دے سکتا ہے جیسا کہ بعض اوقات اگر چیز کی قیمت زیادہ ہوتووہ خریدارکوکم قیمت میں دے دیتا ہے۔ اس کی تمام تر توجہ درس قرآن(اورعلم دین) کی محفل میں حاضری کی طرف رہے ، غیرمحرموں اور امردوں کو دیکھنے سے نگاہوں کوبچائے رکھے ، واقف کار بے وقوف سے اپنی عزت بچائے ، سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹائے ، خوشی ملنے پرعطیہ و بخشش کو نہ روکے۔
تاجر نے جو کام ملازم پر لازم کیا ہے اگر خود اس کا ذمہ دار ہے تو بہتر یہ ہے کہ خود کرے۔ ناپ تول اوروزن کرنے کا پیمانہ اور ترازو کا پتھر معتبروقابلِ اعتماد لوگوں سے خریدے ، بیچتے وقت مال کی جھوٹی تعریف اور خریدتے وقت بے جا مذمت نہ کرے ، لوگوں کو کوئی خبر وغیرہ دیتے یاسناتے وقت سچائی سے کام لے ، نیلامی کے وقت فحش گوئی اور گفتگوکرتے وقت جھوٹ بولنے سے بچے ، دُکان داروں کے ساتھ بے ہودہ و لغوباتوں میں نہ پڑے اورنئے لوگوں کے ساتھ ہنسی مذاق نہ کرے اور لڑائی جھگڑا نہ کرے ۔
(سِکّے کی جانچ پڑتال کرنے والے کوچاہئے کہ)حقیقت وسچائی پر یقین رکھے ، امانتوں کی ادائیگی کرے ، سودسے بچے ، اُدھار کی ادائیگی میں جلدی کرے ، لوگوں کو کھوٹے سکے نہ دے ، تول وغیرہ میں وزن کو پورا کرے ، دھوکہ اورملاوٹ وغیرہ نہ کرے کہ اس سے اپنا معیار کھو بیٹھے گا اور سنگِ ترازو(تول وغیرہ کے پتھر) اوروزن کے پیمانوں میں کمی کرنے سے ڈرے۔
( سونے کا کام کرنے والے کو چاہئے کہ) بزرگانِ دِین کی نصیحت پر عمل کرے ، زیورات کو عمدہ وخوب صورت بنانے میں خوب کوشش کرے ، ٹالَم ٹول سے کام نہ لے بلکہ جووعدہ کیا ہو اسے پورا کرے ، کام کی اجرت لینے میں زیادتی نہ کرے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کھانے کے اول آخر کھانے کا وضو کرے یعنی دونوں ہاتھ دھوئے ، کھانا شروع کرنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہ شریف پڑھے ، سیدھے ہاتھ سے اوراپنے سامنے سے کھائے ، چھوٹے چھوٹے لقمے لے اوراچھی طرح چبا چبا کر کھائے ، کھانے والوں کے چہروں کی طرف نظریں نہ جمائے (یعنی دوسروں کے لقمے نہ تاڑے ) ، ٹیک لگاکرنہ کھائے ، بھوک سے زیادہ نہ کھائے۔ جب پیٹ بھر جائے توہاتھ روک لے جبکہ مہمان یا جسے ابھی کھانے کی حاجت ہو ، شرم محسوس نہ کریں ، برتن کی ایک طرف سے کھائے ، درمیان میں سے نہ کھائے ، کھانے کے بعدانگلیوں کو چاٹ لے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کرے(یعنی کھانے کے بعد کی دعا ([1])پڑھے) ، کھانا کھاتے ہوئے موت کویاد نہ کیا جائے تاکہ لوگ کھانے سے ہاتھ نہ کھینچ لیں ۔
پانی یاکوئی بھی چیزپینے سے پہلے برتن میں اچھی طرح دیکھ لے کہ کہیں کوئی موذی چیز تو نہیں ، پینے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہ شریف پڑھے اورپینے کے بعداَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے ، چوس چوس کر پئے اورکسی قسم کا عیب نہ نکالے ، تین سانس میں پانی پئے ، ہربار سانس لینے کے بعد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرے اور دوبارہ پینے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہ شریف پڑھے ، کھڑے ہو کر نہ پئے اور اگر اس کے ساتھ اور بھی لوگ ہوں تو پلاتے وقت اپنی سیدھی طرف سے ابتداء کرے۔
اگرنکاح کاارادہ ہو تو پہلے دین پھرحسن وجمال اورمال ودولت دیکھے ، لڑکی والے جو کچھ اُسے دیں گے اُس کاانہیں پابندنہ کرے ، نکاح کا ارادہ ہو تو اسے پوشیدہ نہ رکھے ، کسی مسلمان کے پیغامِ نکاح پرنکاح کا پیغام نہ دے ، اپنی مملوکہ چیزوں اورشادی وغیرہ میں (کسی کوایسے کام کی) اجازت نہ دے جو اسے رحمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے دُور کر دے اور اس کی عزت کو داغ دارکرنے کا باعث بنے ، تنہائی میں بیوی کے ساتھ ایسی جگہ نہ بیٹھے جہاں کوئی دوسرا اس کی بیوی کودیکھے ، اپنے گھروالوں کے سامنے اس کا بوسہ نہ لے۔ جب تنہائی میں ہو توعورت کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کرے ، اس کا قاصد جھوٹا نہ ہو اور جس سے لڑکی کے متعلق پوچھا جائے وہ بھی چغل خور نہ ہوبلکہ اس کے خاص رشتہ داروں میں سے ہو اور اس شخص سے لڑکی کے دین ، نماز روزے کی پابندی ، شرم و حیاء ، پاکیزگی ، حُسنِ کلام وبد کلامی ، خانہ نشین رہنے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے متعلق پوچھے ، عقد ِنکاح سے پہلے اسے دیکھ لے ([2]) اور نکاح کے بعداچھی گفتگو کرتے ہوئے ان باتوں کے متعلق پوچھے جو اسے پہنچی ہیں اور اس سے والدین کی عادتوں ، حالات وکیفیات اور دین واعمال کے متعلق پوچھ گچھ کرے۔
[1] ۔ ۔ ۔ کھانے کے بعد کی دعا یہ ہے: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْن۔ ‘‘ (سننِ ابی داؤد ، کتاب الاطعۃ ، باب مایقول الرجل اذاطعم ، الحدیث۳۸۵۰ ، ص۱۵۰۶)
[2] ۔ ۔ ۔ حکیم الامت حضرتِ سیِّدُنا مفتی احمدیارخان نعیمی علیْہِ رَحْمَۃ اللہ القوی اس حدیث کہ ’’ایک شخص نبی ٔ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں آیابولامیں نے ایک انصاری عورت سے نکاح لیناہے۔ فرمایا: اسے دیکھ لوکیونکہ انصار کی آنکھ میں کچھ ہوتاہے۔ ‘‘کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’دیکھنے سے مرادچہرہ دیکھناہے کہ حسن وقبح(یعنی خوبصورت و بدصورت ہونا)چہرے ہی میں ہوتاہے اوراس سے مرادوہی صورت ہے جوابھی عرض کی گئی یعنی کسی بہانہ سے دیکھ لینا یاکسی معتبرعورت سے دکھوالینانہ کہ باقاعدہ عورت کاانٹرویو کرناجیساکہ آج کل کے بے دینوں نے سمجھا۔ ‘‘ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصبیح ، ج۵ ، ص۱۲ ، مطبوعہ ضیاء القرآن)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع