30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
، اوردعاکرتے ہوئے چادر کوپلٹ دیاجائے (یعنی اوپرکاکنارہ نیچے اورنیچے کااوپرکردے کہ حال بدلنے کی فال ہو)۔
(مریض کوچاہئے کہ ) موت کوکثرت سے یاد کرے ، توبہ کرتے ہوئے موت کی تیاری کرے ، ہمیشہ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے ، خوب گڑگڑا کر دعا کرے ، عاجزی وتنگدستی کا اظہارکرے ، خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ سے مددمانگنے کے ساتھ ساتھ علاج بھی کرائے ، قوت وطاقت ملنے پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکرادا کرے ، شکوہ وشکایت نہ کرے ، تیمارداری کرنے والوں کی عزت واحترام کرے ، مگر ان سے مصافحہ نہ کرے۔ [1]
(تعزیت کرنے والے کوچاہئے کہ)عاجزی وانکساری اور رنج وغم کااظہار کرے ، گفتگو کم کرے اور مسکرانے سے بچے کہ(ایسے موقع پر)مسکرانا (دلوں میں ) بغض وکینہ پیدا کرتا ہے۔
(جنازے کے ساتھ جانے والے کو چاہئے کہ) ہمیشہ دل میں ( اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا) خوف رکھے ، نگاہیں نیچی رکھے ، گفتگو وغیرہ نہ کرے ، عبرت کی نگاہ سے میت کو دیکھے ، قبرکے سوال وجواب میں غورو فکر کرے ، جس چیز کے مطالبہ کاخوف کرتاہے(کہ اس کے بارے میں سوال ہوگا) پختہ ارادے کے ساتھ اسے بجالانے میں جلدی کرے ، موت کے اچانک حملے کے وقت طاری ہونے والی حسرت وندامت سے ڈرے ۔
صدقہ کرنے والے کو چاہئے کہ سوال کرنے سے پہلے صدقہ دے ، خفیہ طور پر صدقہ دے اوردینے کے بعدبھی اسے چھپائے ، سوال کرنے والے کے ساتھ نرمی سے پیش آئے ، اس کے مانگنے سے پہلے اسے جواب نہ دے ، اس کے متعلق وسوسوں کا شکار نہ ہو(کہ نہ جانے کیوں مانگ رہاہے؟کیامجبوری ہے؟ وغیرہ وغیرہ) ، اپنے نفس کوبخل سے روکے ، سائل نے جس چیزکا سوال کیاہے اسے وہ چیزعطا کر دے یااچھے طریقے سے اسے لوٹا دے ، اگر ازلی دشمن ابلیسلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ اس سے اس کے دل میں وسوسہ اندازی کرے کہ سائل اس چیز کاحق دارنہیں تو اس کی مخالفت کرتے ہوئے سائل کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ نعمتیں دئیے بغیر نہ لوٹائے کیونکہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے۔ (ہاں ! اگر سائل مُتَعَنِّت(یعنی پیشہ ور بھکاری )ہو تونہ دے۔ بہارِشریعت ، ج۱ ، حصہ۵ ، صفحہ۹۴۵ ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)۔
(سوال کرنے والے کوچاہئے کہ) حقیقتِ حال بیان کرتے ہوئے اپنی غربت وتنگ دستی ظاہر کرے ، انتہائی نرمی سے سوال کرے ، جو چیز اسے دی جائے شکراداکرتے ہوئے لے لے اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہواور(دینے والے کو)دعائے خیر دے ، اگر اسے لوٹا دیا جائے تو عذر قبول کرتے ہوئے خاموشی سے لوٹ آئے ، بار بار آنے اور مانگنے میں اصرار کرنے سے بچے۔
(صاحبِ ثروت کوچاہئے کہ) عاجزی وانکساری کی عادت اپنائے ، تکبرسے بچے ، ہمیشہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرے ، نیک اعمال کی طرف رغبت کرے ، فقیر کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آئے اور دل کھول کراس کی مددکرے ، ہر کسی کے سلام کا جواب دے ، قناعت پسندی کا اظہار کرے ، اچھی گفتگوکرے ، خوش اسلوبی سے لوگوں کو اپنے ساتھ مانوس کرے اورصدقہ وخیرات کے ذریعے ان کی مدد کر ے۔
(فقیرکوچاہئے کہ) تھوڑی چیز پر صبرواکتفا کرے ، غربت کو چھپائے ، نہ توپھٹے پرانے کپڑے پہنے اورنہ ہی(جسمانی) کمزوری کا اظہارکرے ، حرص ولالچ کی عادت چھوڑ دے ، اہلِ مُرُوَّت دین دار لوگوں کے سامنے کفایت شعاری اپنائے ، اغنیاء کی تعظیم وتوقیر کرے اوران سے زیادہ ہنسی مذاق نہ کرے ، ان (کے پاس موجودمال ودولت) سے ناامیدہونے کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے قناعت پسندرہے ، ان پر بڑائی نہ چاہے اورعاجزی وانکساری ترک نہ کرے۔ جب اغنیاء کو دیکھے تواپنے دل کی حفاظت کرے اوردِین کومضبوطی سے تھام لے (یعنی اس پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو)۔
جسے تحفہ دے رہاہے اس کی فضیلت کومد ِنظررکھے ، اس کے تحفے کوقبول کرلیا جائے توخوشی ومسرت کااظہار کرے ، جب تحفہ لینے والے سے ملاقات کرے تو اس کا
شکریہ اداکرے ، اور اسے کلی اختیارات دے دے اگرچہ تحفہ بڑا ہو۔
(تحفہ لینے والے کو چاہئے کہ) تحفہ ملنے پرخوشی کا اظہارکرے اگرچہ وہ کم قیمت کا ہو ، تحفہ بھیجنے والے کی غیرموجودگی میں اس کے لئے دعائے خیر کرے۔ جب وہ آئے تو خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے ملاقات کرے۔ جب قدرت حاصل ہو تویہ بھی اپنے محسن کو تحفہ وغیرہ دے۔ جب موقع ملے اس کی تعریف کرے ، اس کے سامنے عاجزی نہ کرے ، اس سے احتیاط برتے کہ کہیں اس کی محبت میں ایمان نہ چلاجائے ، دوبارہ اس سے تحفہ وغیرہ حاصل کرنے کی حرص وطمع نہ کرے۔
[1] ۔ ۔ ۔ تاکہ کمزور عقیدے والایہ گمان نہ کرے کہ ایک مریض کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ جیسا کہ ، حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا: ’’ جزامی سے ایسے بھاگ جیسے شیر سے بھاگتا ہے۔ ‘‘حکیم الامت حضرتِ سیِّدُنا مفتی احمدیارخان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہ حکم عوام کے لئے ہے جن کاعقیدہ بگڑجانے کاخوف ہوکہ اگرکوڑھی کے پاس بیٹھنے سے اتفاقاًانہیں بھی کوڑھ ہوجائے تو سمجھیں گے کہ کوڑھ اڑ کر لگ گئی ان کے لئے کوڑھی سے علیحدگی اچھی ہے ، خاص متوکل لوگ جن کے دلوں پر اس سے کوئی اثرنہ پڑے ان کے لئے یہ حکم نہیں ۔ ‘‘(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصبیح ج۶ ، ص۲۵۷ ، مطبوعہ ضیاء القرآن)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع