30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حقوق میں ایک حق یہ ذکر ہوا کہ جب کوئی مسلمان فوت ہو تو اس کے جنازہ میں شرکت کی جائے۔مُعَلّمِ کائنات، شاہِ موجودات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کئی صحابۂ کرام کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کی تدفین میں شرکت فرمائی۔ کچھ غلاموں کو تو یہ خصوصی اعزاز عطا فرمایا کہ اُنہیں اپنے رحمت بھرے ہاتھوں سے قبر میں اُتارا۔ یہ خصوصی اعزاز پانے والے دو مرد اور تین عورتیں ہیں: (1)مسلمانوں کی پیاری امی جان حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا (2)حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایک صاحِب زادے(بیٹے) (3)حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ حضرت اُمِّ رومان رضی اللہ عنہا (4)حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ عنہا (5)حضرت عبدُ اللہ رضی اللہ عنہ جن کا لقب ذُوالبِجادَیْن یعنی دو چادروں والا ہے۔(1)
غزوۂ تبوک کے اکلوتے شہید
حضرت ذُوالبِجادَیْن رضی اللہ عنہ کون تھے، کب اسلام لائے، یہ لقب کیوں ملا، شہادت کس طرح ہوئی نیز ان کی تدفین کا منظر کیسا رُوح پَروَر تھا؟ آئیے مُلاحَظہ کیجئے۔
آپ رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینۂ منوّرہ کے اطراف میں آباد قبیلہ مُزَ یْنَہ سے ہے، آپ چھوٹے ہی تھے کہ والِد کا انتِقال ہوگیا، والِد نے وراثت میں کوئی مال نہیں چھوڑا، چچا مال دار تھا لہٰذا اُس نے آپ کی کفالت اور پرورش کی یہاں تک کہ آپ بھی مالدار ہوگئے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہجرت کرکے مدینہ پاک تشریف لائے تو آپ کا دل دینِ اسلام کی طرف مائل ہونے(کِھنچنے) لگا لیکن چچا کی وجہ سے قبولِ اسلام کی طاقت نہ تھی یہاں تک کہ کئی سال
(1)...مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب چہارم، 2/150، نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی، لاہور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع