30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سال عربی کُتب پڑھنے اور عبارت حل کرنے میں کمزور ہی رہتے ہیں، بہت سے تو دِلْبَرْداشتہ ہو کر علمِ دین کی فیلڈ ہی چھوڑ بیٹھتے ہیں *ابتدائی سالوں میں زیادہ توجہ اپنی تعلیمی مَبادِیات اور دینی کاموں کی طرف ہونی چاہئے تاکہ گرامر، اُصول و قواعد اور عملی زندگی میں دینی کاموں کی بنیاد مضبوط ہو، بعض طلبہ ایک سے زائد شعبہ جات میں تعلیم یا کام کررہے ہوتے ہیں یا دینی کاموں سے بالکل کنارہ کش ہوتے ہیں، انہیں چاہئے کہ اپنا مکمل فوکس نصابی کتب اور دینی کاموں پر رکھیں تاکہ علمی اور عملی دونوں بنیادیں مضبوط ہوں۔
(2)اگلے دَرَجات میں جانے والے:
*ایک تعلیمی سال مکمل کرکے اگلے دَرَجات میں جانے والے طلبہ کو پہلے سے زیادہ لگن، توجہ اور محنت کی حاجت ہوتی ہے۔ تعلیمی سال کے ابتدائی دنوں میں کم کم سبق ہوتا ہے جس کی وجہ سے کافی وقت ملتا ہے ایسے موقع پر پچھلے سال کی یا موجودہ مضامین کی ابتدائی کتاب کا اَزسرِنو مُطالعہ مفید رہتا ہے مثلاً طالبِ علم رابِعہ میں ہے تو ثالِثہ کی کتاب کا مُطالعہ یا پھر صَرْف و نَحْو یا مَنْطِق وغیرہ کی ابتدائی کتاب کا مطالعہ فائدہ سے خالی نہیں *اگلے درجے میں جانے والے طلبہ کو چاہئے کہ پچھلے تعلیمی سال میں جو غلطیاں ہوئیں یا جن اسباب کی وجہ سے امتحانات میں نمبر کم آئے ان اسباب کو ختم کریں *ابتدائی دوسال کے بعد والے دَرَجات میں غیر نصابی مُطالعہ کی طرف رُجحان بڑھانا چاہئے، جو طلبہ ثالِثہ یا اس سے اگلے درجات میں جاتے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنے استاذ صاحب سے مشورہ کرکے کوئی نہ کوئی ایک کتاب اپنے مطالعہ میں ضَرور رکھیں، حاصلِ مطالعہ نوٹ کریں، استاذِ محترم کو دِکھائیں اور مزید کُتب کا معلوم کریں۔ محدّثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمۃُ اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ دورِ طالبِ علمی میں آپ جب مسجد میں حاضر ہوتے اور نمازِ باجماعت میں کچھ تاخیر ہوتی تو کسی کتاب کا مطالعہ شروع کر دیتے، اسی طرح نمازِ عشا کے بعد کتب سامنے رکھ کربیٹھ جاتے اور مُطالعہ کرتے کرتے بَسااوقات فجر کی اذانیں شروع ہوجاتیں۔(فیضانِ محدثِ اعظم، ص9) آپ رحمۃُ اللہ علیہ اکثر فرماتے: جس طرح تازہ روٹی اور تازہ سالن مزہ دیتا ہے اسی طرح تازہ سبق اور تازہ مطالعہ مزے دار ہوتا ہے۔(فیضانِ محدثِ اعظم، ص15) لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اس دوران نصابی کُتب میں کمزوری نہ رہے۔ *استاد ہو یا طالبِ علم، مزدور ہو یا سیٹھ ہر انسان کو اپنا جَدْوَل بنانا چاہئے، یوں تو ہر کوئی ایک حد تک طے شُدہ جَدْوَل پر ہی چل رہا ہوتا ہے، لیکن اگر سوچ بچار کے بعد ہر پہلو کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جَدْوَل بنایا جائے، جس میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں بھی ہوں اور اس جَدْوَل پر کماحَقُّہ عمل کی کوشش بھی کی جائے تو ایک طالبِ علم کامیاب زندگی کی شاہراہ پر چل سکتا ہے *گزشتہ سال کی دَرسی کُتب اور بالخصوص غیرنصابی مطالعہ کی کُتب لازمی محفوظ رکھنی چاہئیں، وقتاً فوقتاً ضَرورت بھی پڑتی ہے اور شوق بھی بڑھتاہے۔
(3)آخری دَرَجے میں جانے والے:
*تعلیم کا آخری سال بہت ہی اہمیت کا حامِل ہوتاہے، طالبِ علم کو چاہئے کہ اگر پچھلے سالوں میں کسی طرح علمی و عملی کمزوری رہ گئی ہے تو اس کا لازمی تَدارُک کرے کیونکہ اس کے بعد عملی زندگی کا آغاز ہوگا پھر کمی پوری کرنے کا موقع نہ ملے گا *آخری سال کی اہمیت کو یوں سمجھئے کہ گزشتہ کئی سال سے جو فصل بو رہے تھے، یہ اس فصل کے سمیٹنےاور سنبھالنے کا سال ہے۔ درسِ نظامی کے آخری سال میں فارغُ التحصیل ہونے کے بعد کی پلاننگ بھی شامل ہوتی ہے۔ ویسے تو یہ ہدف ابتدائی سال سے ہی پیشِ نظر رکھنا چاہئے البتہ وقت کے ساتھ ساتھ ذہن تبدیل بھی ہوتا ہے، لہٰذا یہ سال فائنل منصوبہ بندی کا وقت ہوتا ہے *آخری سال کے آغاز ہی میں اساتذۂ کرام کے مشورے، اپنی قابلیت اور ذہنی مَیْلان کی بنیاد پر مستقبل کا شعبہ منتخب کرلینا چاہئے۔
اللہ کریم تمام طلبۂ کرام کو علمی و عملی میدان میں اِخلاص و کامیابی سے ہم کِنار فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع