30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
متوجّہ ہوکر جواب دینا چاہئے، روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر سوال کیا تو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کی طرف سَرِ مبارک اُٹھایا۔ راوی نے بیان کیا: آپ نے اس کی طرف سَر اس لئے اُٹھایا کہ وہ (سائل) کھڑا تھا۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کے سوال کا جواب ارشاد فرمایا۔ (بخاری، 1/65، حدیث:123)
مضامین کا انتخاب و ترتیب:
ایک قابل استاذ کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کی ضرورت اور اپنی مہارت کے مطابق مضامین کا انتخاب کرے، جو سبق پڑھانا ہے اسے ایسی عمدہ ترتیب دے کہ طلبہ تدریجاً (آہستہ آہستہ) سیکھتے چلے جائیں۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ طیّبہ کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شروع میں زیادہ تر عقائد کے موضوع پر توجّہ دلائی اور جب صحابۂ کرام عقائد میں پختہ ہوگئے تو اُنہیں عبادات و معاملات وغیرہ کی تعلیم حسبِ حال عطا فرمائی۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اس حُسنِ انتخاب اور ترتیب پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ عبادات میں دلجمعی، معاملات میں صفائی اور اخلاق میں پاکیزگی کے لئے عقائد کی پختگی نہایت ضروری ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین میں طِب، نفسیات، نباتیات اور دیگر کئی عُلوم و فنون کا ذخیرہ ملتا ہے، لیکن عقائد کی تعلیم سب سے پہلے ہے۔ ایک استاذ کو بھی یہی انداز اپنانا چاہئے کہ جو بات یا علوم و فنون کسی دوسرے علم پر موقوف ہوں تو وہ (یعنی موقوف عَلیہ عُلوم) پہلے سکھائے۔
طلبہ کے مُطالبہ پرسبق دُہرادینا:
ہر طالبِ علم مضبوط قوّتِ فہم کا مالک نہیں ہوتا، بعض پہلی بار ہی میں سبق سمجھ جاتے ہیں جبکہ بعض کو دو یا زیادہ بار دُہرائی کی حاجت ہوتی ہے، چنانچہ اگر کوئی طالبِ علم سبق دوبارہ بیان کرنے کی التجا کرے تو بیان کردینا چاہئے کہ سیرتِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بھی یہی مستفاد ہے۔ حضرت سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے ابو سعید! جو اللہ کے ربّ ہونے، اسلام کے دِین ہونے اور محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رسول ہونے پر راضی ہوا اس کے لئے جنّت واجب ہوگئی۔ اس بات سے خوش ہوکر ابو سعید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یارسولَ اللہ میرے لئے یہ بات دوبارہ فرمادیجئے۔“ تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کیا (یعنی کہی ہوئی بات کو دوبارہ دُہرا دیا)۔
(مسلم،ص806، حدیث:4880)
طالبِ علم کے سوال پر حوصلہ افزائی کرنا:
ایک استاذ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو طلبِ علم کیلئے آتا ہے عام طور پر وہ سوالات بھی کرتا ہے اور جو استاذ طلبہ کے سوال کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں طلبہ میں مقبول اور افادۂ عِلمی کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ طالبِ علم میں طلبِ علم کی تڑپ مزید بڑھانے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اچّھے سوال پر صحابۂ کرام کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے، حضرت سیّدُنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: ”یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! مجھے جنّت میں داخل کردینے والا عمل بتائیے!“ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”شاباش! شاباش! بے شک تُو نے عظیم (چیز) کے بارے میں سوال کیا۔ اور بِلاشبہ وہ اس شخص کے لئے آسان عمل ہے جس پر اللہ آسان کردے۔ فرض نماز پڑھو اور فرض زکوٰۃ ادا کردو۔“(مسند ابی داؤد طیالسی، ص76، حدیث: 560)
مسلسل سوالات:
بعض طلبہ سوال پر سوال کرتے چلے جاتے ہیں، اگر وہ سوالات عمومی فائدہ کے حامل ہوں تو رد (Reject) کرنے کے بجائے مناسب انداز میں جواب دینا چاہئے۔ صحابیِ رسول حضرت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے پوچھا: کون سا عمل اللہ کے ہاں سب سے پیارا ہے؟“ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”نماز اپنے وقت پر (ادا کرنا)۔“ میں نے پھر عرض کی: ”پھر کونسا؟“ ارشاد فرمایا:”والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔“ میں نے پوچھا: ”پھر کونسا؟“ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:” اللہ کی راہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع