دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ilm o Amal | فیضانِ علم و عمل

ایک قابل استاذ سیرتِ مصطفےٰ کی روشنی میں

book_icon
فیضانِ علم و عمل
            
ملاحظہ فرماچکے تھے، اسی لئے ایسی نصیحت کی چنانچہ اسی ایک جملے نے میری دنیا بدل دی اور اَلحمدُ لِلّٰہ میں نے درسِ نظامی میں داخلہ لےلیا اور تکمیل کے بعد مسجد میں امامت و خطابت اور خدمتِ دین کے ایک اہم شعبے میں مصروف ہوں۔ *باقاعدہ تعلیم کے اختتامی سال طلبہ عملی زندگی میں جانے کے لئے شعبہ جات کا انتخاب کر رہے ہوتے ہیں۔ اس موقع پر طلبہ کو درست راہنمائی کی اَشَد ضرورت ہوتی ہے، ایک شفیق و تجربہ کار استاد پرلازم ہے کہ طلبہ کو ان کی صلاحیتوں اور طبعی میلان کے مطابق درست شعبہ کی طرف راہنمائی کرے۔ دعوتِ اسلامی کے علمی شعبہ ” المدینۃُ العلمیہ (اسلامک ریسرچ سینٹر)“ کے ایک مدنی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں جامعۃُ المدینہ میں درجۂ خامسہ میں پڑھتا تھا، ایک دن ذہن میں ایک سوال آیا اور اس کے بارے میں مطالعہ شروع کیا لیکن مناسب جواب نہ مل سکا، بالآخر اپنے مطالعہ کی روشنی میں ایک سوالنامہ ترتیب دیا اور اپنے استاد صاحب کو پیش کیا، استاد صاحب نے تحریر دیکھی تو جو پہلی نصیحت کی وہ یہ تھی کہ آپ ” المدینۃُ العلمیہ “ میں انٹری ٹیسٹ دیں۔ میرا فِی الحال کسی بھی کام کا ارادہ نہ تھا، دوسرے اور تیسرے دن بھی استاد صاحب نے یہی ذہن بنایا، چنانچہ میں نے ” المدینۃُ العلمیہ “ میں ٹیسٹ دیا اور اَلحمدُلِلّٰہ کامیاب ہونے کے بعد تاحال خدمتِ دین کے اس اہم شعبے میں مصروف ہوں۔ پیارے اسلامی بھائیو! آخرُالذّکر سچی حکایت سے مقصود صرف یہ ہے کہ ایک اچھا استاد ہر قدم اور ہر موڑ پر اپنے طلبہ کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتاہے۔

ایک قابل استاذ سیرتِ مصطفےٰ کی روشنی میں

اللہ ربُّ العزّت کے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اِس کائنات کے سب سے دانش مند اور کامیاب ترین مُعلّم ہیں، کیوں نہ ہوں کہ خود ربِّ کریم نے انہیں مُعلّم بناکر بھیجا چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً یعنی مجھے مُعلّم بناکر بھیجا گیا۔ (ابنِ ماجہ،1/150،حدیث:229) گزشتہ صفحات میں آپ نے ایک کامیاب اور اچھے استاذ کی ذمّہ داریوں کے بارے میں پڑھا ذیل میں آپ پڑھیں گے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سمجھانے اور سکھانے کا انداز کیا تھا تاکہ اساتذۂ کرام اس طریقہ کو اپناکر اصلاحِ طلبہ کا ذریعہ بنیں۔ احادیثِ مُبارَکہ اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ طیّبہ کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کریم کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صحابۂ کرام، صحابیات، اہلِ بیتِ اطہار اور مکّۂ مکرّمہ و مدینۂ منوّرہ کے بچوں اور بچیوں کی کس قدر اچّھے اور دل میں رَچ بَس جانے والے انداز سے اِصلاح و تعلیم فرماتے تھے۔ ایک استاذ کو سیرتِ مصطفےٰ سے ملنے والے چند تدریسی مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

طالبِ علم کو مرحبا کہنا:

استاذ کو چاہئے کہ جب درجے میں آئے تو مسکراتے ہوئے، ہشّاش بشّاش طبیعت کا مُظاہرہ کرتے ہوئے آئے اور بعد میں آنے والے طلبہ کا بھی خیرمَقدَم کرے۔ حدیثِ پاک میں ہے: حضرت سیّدنا صفوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت آپ اپنی چادر پر ٹیک لگائے مسجد میں تشریف فرما تھے، میں نے عرض کی: میں علم حاصل کرنے کے لئے حاضرِ خدمت ہوا ہوں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ” مَرْحَباً بطالبِ الْعِلْمِ یعنی طالبِ علم کو خوش آمدید!“ مزید فرمایا کہ ”طالبِ علم پر فرشتے اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں۔“ (معجمِ کبیر،8/54،حدیث:7347) حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابہ کو بھی یہی وصیّت فرمائی کہ ”عنقریب تمہارے پاس قومیں علم طلب کرنے کیلئے آئیں گی، پس جب تم انہیں دیکھو تو ان سے کہو: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی وصیّت کے مطابق خوش آمدید! خوش آمدید!“ پھر فرمایا: ”اور انہیں تعلیم دو۔“ (ابنِ ماجہ، 1/161، حدیث:247)

سائل کی طرف توجہ رکھنا:

اگر کوئی طالبِ علم سوال کرے تو بےتوجّہی سے جواب دینا مفید نہیں، بلکہ خاص اس کی طرف

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن