30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1)استاد کا کردار و گفتار
(2)اسباق کی تیّاری اور پڑھانے کا انداز
(3)غیرنصابی (Extracurricular) تربیتی سرگرمیاں
(4)طلبہ کی صلاحیتوں اور میلانِ طبعی کی پَرَکھ (پہچان)۔
(1)استاد کاکردار و گفتار:
*کامیاب ترین استاد وہ ہے جو اپنے علم پر پہلے خود عمل کرے تبھی طلبہ اس کی باتوں پر عمل کریں گے، کسی دانا کا قول ہے کہ عالِم جب اپنے علم پر عمل نہیں کرتا تو اس کی نصیحتیں دلوں سے اس طرح پھسل جاتی ہیں جس طرح سخت چٹان سے بارش کے قطرے پھسل جاتے ہیں*استاد کو حُسنِ اَخلاق کا پیکر ہونا چاہئے تاکہ ذہین و غیر ذہین تمام طلبہ اس سے استفادہ کرسکیں، اکثر دیکھا گیا ہے کہ سخت رَوَیّے والے اساتِذہ کے غیر ذہین شاگرد ناکامی ہی کی طرف گرتے جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ استاد کے سامنے اپنا ما فی الضمیر (یعنی دلی بات) نہ کہہ سکنا اور سوال کرنے سے ڈرتے رہنا بھی ہوتی ہے*وقت کی پابندی کا سب سے بڑا عملی نمونہ ایک استاد کو ہی ہونا چاہئے، کیونکہ جس قدر وہ پابندِ وقت ہوگا، اس کے شاگرد بھی وقت کی پابندی کریں گے، پھر یہی پابندِ وقت طالبِ علم عملی زندگی میں بھی وقت کے قدردان ثابت ہوں گے*انسانی زندگی میں نشیب و فراز (اُتارچڑھاؤ) آتے رہتے ہیں، پریشانی، بیماری اور ضروریاتِ زندگی کے معامَلات ہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن طبیعت کی ہلکی پھلکی ناسازی اور ایسے کام جو کوئی دوسرا بھی کر سکتا ہے ان کی وجہ سے چھٹی کرلینا یا درسگاہ دیر سے پہنچنا مُناسب نہیں، ایک اچّھے استاد کے پیشِ نظر قوم کا مستقبل ہوتا ہے جو ایک چھٹی تَو کیا ذرا سی تاخیر سے بھی متأثر ہوتا ہے۔
(2)اسباق کی تیّاری اور پڑھانے کا انداز:
*جس فن اور عِلْم میں مہارت ہو وہی پڑھائے، خود سیکھنے کیلئے بچّوں پر تَجْرِبات نہ کرے بلکہ پہلے خود اچّھی طرح پڑھے، سیکھے، سمجھے پھر بچّوں کو پڑھائے*بے شک معلّم کا رُتبہ بہت عظیم ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر معلّم ہر پہلو سے کامل و اکمل ہو، سیکھنے سکھانے کا عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے اس لئے ایک استاد کو چاہئے کہ اپنی کمی اور کوتاہی کو اعلیٰ ظرفی سے تسلیم کرے اور ان پر قابو پانے کی کوشش کرے*اساتذہ کی اوّلین کوشش اپنے شاگردوں کی کامیابی ہونی چاہئے اور اس کے لئے اساتِذہ کو بچّوں کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بچّوں کی تعلیمی بنیادیں ہیں*استاد کو
چاہئے کہ سبق آسان انداز میں سمجھائے، سبق آسان بنانے کیلئے مثالیں بیان کرے اور طلبہ کی ذِہْنی سطح کا لازماً خیال رکھے *ہر شعبۂ زندگی میں قابل افراد مُہَیَّا کرنے کے لئے تعلیم و تربیَت بہت ضروری ہے اور تعلیم و تربیت کی اہم ذمّہ داری معلّم و مدرّس پر عائد ہوتی ہے۔ یوں تو ہر فنّ اور مضمون کے استاد کو اپنے مضمون کے اعتبار سے محنت کرنی اور کروانی ضروری ہے لیکن اسکول کالج میں اسلامیات اور اس سے متعلقہ مضامین کے اساتذہ کی ذِمّہ داری بقیہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اسلامیات کے استاد کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ دین اور مذہب کی تعلیم دے رہا ہے، اس لئے اوّلاً خود اس مضمون اور سبق کو اچّھی طرح سمجھتا ہو، قراٰن و حدیث میں اپنی ذاتی رائے ہرگز نہ دے، بزرگوں اور اَسلاف نے جو لکھا اور بیان کیا وہی طلبہ کو سکھائے۔ ایمانیات کی بنیادی باتیں، عقائد اور فرض عُلوم جو نصاب میں شامل ہوں لازماً اور اچّھے انداز میں سکھائے اور ان کے دل میں عقائد کو ایسا پکا کردے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ادارے یا شعبے میں جائیں پکّے سچّے صحیح العقیدہ مسلمان رہیں۔
نوٹ:اسباق کی تیّاری اور بہترین تدریس کے بارے میں مزید جاننے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی کتاب ”کامیاب استاد کون؟“
کا مطالعہ کیجئے۔
(3)غیرنصابی (Extracurricular) تربیتی سرگرمیاں:
*استاد کو چاہئے کہ صرف پڑھانے کی حد تک نہ رہے بلکہ بچوں کو سیکھنے کے عمل میں مدد دینے کیلئے نصابی اور غیر نصابی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع