30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
استاد کی ذمّہ داریاں
مولانا ابوالنورراشد علی عطاری مدنی
(ناظم و نائب مدیر ماہنامہ فیضان مدینہ)
نومبر 2013 کو اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ہند کے ایک گاؤں میں رِہائش پذیر ایک استاد صاحب گزشتہ 20سال سے روزانہ 70میٹر چوڑی ندّی تیر کر پار کرتے ہیں اور دوسرے گاؤں میں پڑھانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کبھی پہنچنے میں تاخیر نہیں کی اور نہ ہی کبھی کوئی چھٹی کی ہے۔ برسات کے موسم میں ندّی کا پانی 20فٹ تک ہوجاتا ہے وہ پھر بھی استقامت سے پڑھانے پہنچتے ہیں، ندّی کے کنارے آ کر اپنا سارا سامان ایک بیگ میں ڈال لیتے ہیں اور ربڑ کی ٹیوب کے ذریعے ندی پار کرتے ہیں۔ سڑک کے ذریعے فاصلہ سات کلومیٹر ہے جس کے لئے دو سے تین بسیں تبدیل کرنا پڑتی ہیں کیونکہ جس گاؤں میں پڑھانے جاتے ہیں وہ تین طرف سے ندّی میں گھِرا ہوا ہے جبکہ ندّی پار کر کے جانے میں یہ فاصلہ صرف ایک کلو میٹر رہ جاتا ہے اس لئے وہ ندّی کے راستے پڑھانے کے لئے جاتے ہیں۔(دنیا اخبار آن لائن)
اَساتِذہ (Teachers) کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقّی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔ اساتِذہ کا شمار قوم کے باشعور طبقے میں ہوتا ہے۔ اساتِذہ کے فرائضِ منصبی میں تعمیرِ قوم، کردار سازی، تزکیۂ نفس، قیادت کی تیاری، طلبہ کو اعلیٰ نظریات سے مُتَّصِف کرنا، حق و باطل، جائز و نا جائز اور حلال و حرام کا شعور بیدار کرنا بھی شامل ہیں۔ انہی اہم ذمّہ داریوں کی وجہ سےدینی اُستاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا۔
کہتے ہیں کہ استاد دراصل قوم کے مُحافِظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے۔ سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے اساتذہ کی ہے، اَخلاقی تَمَدُّنی اور اُخروی نیکیوں کی چابی استاد کے ہاتھ میں ہے اور طلبہ کی ترقی استاد کی محنت سے وابستہ ہے ۔
استاد اور معلّم ہونا بہت عزّت و شرف کی بات ہے، اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً یعنی مجھے مُعلّم بنا کر بھیجا گیا۔(ابنِ ماجہ، 1/150،حدیث:229)
نسلِ انسانی کی بہترین پرورش کی ذمّہ داری بنیادی طور پر دو لوگوں پر ڈالی گئی ہے (1)والدین اور (2)اساتذہ۔
یہاں پر ہماری گفتگو ایک اچھے استاد اور اس کی ذمّہ داریوں کے حوالے سے ہے چنانچہ ایک کامیاب استاد کی اہمیت و ذمّہ داریوں کا بیان کیا جاتاہے۔
طلبہ کے خیرخواہ اور بہترین استاد کے اوصاف کو چار عنوانات میں تقسیم کیا جاسکتاہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع