30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چنانچہ ہم پھر مسلسل چلتے رہے یہاں تک کہ پانی، ستو اور کیک ختم ہوگئے اورہم ساحلِ سمندر پر بھوکے پیاسے چلتے رہے بالآخر ایک کچھوے کے پاس جاپہنچے جو لوہے کی کوئی چیز لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوگیا تھا اور سمند ر کی لہروں نے اسے کنارے پر پھینک دیا تھا۔ ہم نے ایک بڑا پتھر لیااور کچھوے کی پیٹھ پر مارا جس سے اس کی پیٹھ پھٹ گئی اور اس میں انڈے کی زردی کی مثل کوئی چیز تھی ہم نے سمندر کے کنارے پڑی کچھ سپیاں (موتیوں کے خول) لے کر انہیں زردی سے بھرا اور چسکیاں لے کر پینے لگے حتّٰی کہ ہماری بھوک پیاس ختم ہوگئی۔ ہم پھر چل پڑے بالآخر ”رایہ“ پہنچ کر مکتوب عامل کے حوالے کردیا لہٰذا اس نے ہمیں اپنے گھر میں ٹھہرایا اور ہمارے ساتھ بہترین سلوک کیا روزانہ ہمارے پاس ”لوکی شریف“ لاتا ایک دن اپنے خادم سے کہا آئندہ انہیں ”ککڑی“ لا کر دینا۔ اس نے چند دن روٹی کے ساتھ ککڑی لا کر دی، ہم میں سے ایک نے فارسی میں کہا: چربی والا گوشت نہیں مانگوگے؟ مقصود اہلِ خانہ کو سنانا تھا۔ اس نے کہا: میں فارسی زبان اچھی طرح سے جانتا ہوں کیونکہ میری دادی ”ہرویہ“ تھی۔ چنانچہ اس کے بعد وہ گوشت لے کر آنے لگا۔ پھر ہم وہاں سے رخصت ہوگئے حتّٰی کہ مصر پہنچ گئے۔(مقدمۃ الجرح و التعدیل،ص320)
(18)حضرت امام اوزاعی رحمۃُ اللہ علیہ کسی ضرورت سے ”یمامہ گئے اور شیخ یحییٰ بن کثیر کے حلقۂ درس سے وابستہ ہوگئے اور کچھ دنوں بعد شیخ کے حکم سے آپ نے ”یمامہ“ سے بصرہ کا سفر اختیار کیا تاکہ امام ابن سیرین اور حسن بصری سے سماعِ حدیث کریں، مگر غربت و افلاس کی وجہ سے ”یمامہ“ سے بصرہ پہنچنے میں کافی وقت صرف ہوا۔ جب بصرہ پہنچے تو حضرت حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ وفات پاچکے تھے اور امام ابن سیرین رحمۃُ اللہ علیہم رضِ موت میں مبتلا تھے لہٰذا بصرہ کے دیگر تابعین و محدثین سے سماعِ حدیث کیا۔(تذکرۃ الحفاظ، 1/169)
پیارے اسلامی بھائیو! آج کے اس پُر فتن دور میں لوگ دنیوی علوم اور مال کمانے کے کئے دور دراز علاقوں کا سفر کرتے اور مشقتیں جھیلتے ہیں لیکن علمِ دین کے حصول کے لئے سفر پر آمادہ نہیں ہوتے اور علمِ دین سے اس قدر دور ہوتے چلے جارہے ہیں کہ فرائض و واجبات اور ضروریاتِ دین کے علم سے بھی ناواقف ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ اپنے اسلاف کی پیروی کرتےہوئے ہم بھی علمِ دین کے حصول کے لئے سفر اختیار کریں،اس کا ایک ذریعہ ”دعوتِ اسلامی“ کے مدنی قافلے بھی ہیں جن میں سفر کرکے ہمیں سنتوں کے ساتھ ساتھ کئی فرائض و واجبات سیکھنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں بھی اسلافِ کرام کے صدقے علمِ دین کی محبت،اسےسیکھنےکی چاہت اوراسےحاصل کرنےکی کوشش کرنےکی توفیق عطافرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع