دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ilm o Amal | فیضانِ علم و عمل

book_icon
فیضانِ علم و عمل
            
مرتبہ ”مکۂ مکرّمہ زادَھا اللہ شرفاً و تعظیماً سے مدینۂ منوّرہ زادَھا اللہ شرفاً و تعظیماً “ کا سفر کیا۔ ”بحرین سے شہر صلا“ کے قریب سے ہوتے ہوئے ”مصر“ تک پیدل سفر کیا۔ ”مصر سے رملہ“ تک کا سفر بھی پیدل کیا۔ پھر وہاں سے ”بیت المقدس، عسقلان، طبریہ“ تک۔ ”طبریہ سے دمشق، دمشق سے حمص، حمص سے انطاکیہ، انطاکیہ سے طراطوس“ تک کا سفر کیا، پھر ”طراطوس سے حمص“ لوٹ آیا۔ کیونکہ حضرت سیّدُنا ابو یمان رحمۃُ اللہ علیہ کی چند احادیث رہ گئی تھیں جب ان کی سماعت کر لی تو ”حمص سے بیسان شہر“ چلا گیا۔ پھر وہاں سے ”رقہ شہر“ اور رقہ سے براستہ نہرِفرات ”بغداد“ جا پہنچا۔ ”شام “ جانے سے پہلے ”واسط“ سے نیل اور وہاں سے ”کوفہ“ گیا اور یہ سارا سفر میں نے پیدل کیا اور یہ میرا پہلا سفر ہے جب کہ اس وقت میری ”عمر 20 سال“ تھی۔ میں سات سال تک مسلسل سفر میں رہا۔ میں ماہِ رمضان 213ہجری میں ”رے“ سے نکلا اور 221 ہجری میں واپس لوٹا۔(مقدمۃ الجرح و التعدیل،ص318) حضرت سیّدُنا ابو حاتم رحمۃُ اللہ علیہ کے بیٹے حضرت سیّدُنا عبدُالرّحمٰن رحمۃُ اللہ علیہ اپنے والدِ محترم کی علمی سفر کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے سنا کہ جب ہم مدینۂ منوّرہ زادَھا اللہ شرفاً و تعظیماً میں حضرت سیّدُنا داؤد جعفری رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس سے روانہ ہوئے تو بندر گاہ پر پہنچ کر جہاز میں سوار ہوگئے اورہم تین آدمی تھے ایک حضرت سیّدُنا شیخ ابو زہیر مروزی رحمۃُ اللہ علیہ ایک نیشاپوری (اور تیسرا میں خود تھا) جب ہم سوار ہوئے تو سامنے کی ہوا چل رہی تھی۔ ہم ”تین ماہ“ تک سمند ر میں رہے حتّٰی کہ تنگ آگئے۔ زادِراہ ختم ہونے کو تھا کہ ہم خشکی پر اُترے اور چند دن پیدل چلتے رہے یہاں تک کہ زادِ راہ اور پانی وغیرہ بھی ختم ہوگیا۔ (اس کے بعد) ہم بھی بغیر کچھ کھائے پیئے ایک دن اور ایک رات چلتے رہے۔ اس طرح دوسرے دن، پھر تیسرے دن بھی چلتے رہے۔ روزانہ ہم رات تک چلتے جب رات ہوتی تو نماز ادا کرتے اور جہاں ہوتے گِرپڑتے۔ بھوک، پیاس اور تھکن کی وجہ سے ہم نحیف وکمزور ہوگئے تھے۔ جب ہم نے تیسرے دن صبح کی تو بقدرِ طاقت چلنا شروع کیا تو ”شیخ ابو زہیر مروزی رحمۃُ اللہ علیہ “ غش کھا کر گِر پڑے، ہم نے انہیں حرکت دی تو وہ بےہوش تھے۔ چنانچہ میں اور میرا نیشاپوری رفیق انہیں چھوڑ کر آگے چل پڑے، ایک دو فرسخ چلے ہوں گے کہ میں بھی باوجہ کمزوری بے ہوش ہوکر گِر پڑا اور میرا رفیق مجھے چھوڑ کر مسلسل چلتا رہا، اچانک اس کی نگاہ دور سے کچھ ایسے لوگوں پر پڑی جنھوں نے اپنے جہاز ساحل کے قریب روک کر ”بِئر موسیٰ“ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا ہوا تھا، پھر اس نے انہیں دیکھا تو کپڑے سے ان کی جانب اشارہ کیا۔ وہ برتن میں اپنے ساتھ پانی لے کر آئے اور اسے پلایا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس نے کہا:میرے اور دو رفیقوں کو بھی لے لو کیوں کہ وہ بھی بےہوش پڑے ہیں۔ (حضرت سیّدُنا ابو حاتم رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ ایک شخص میرے چہرے پر پانی انڈھیل رہا تھا کہ میں نے آنکھیں کھول کر اس سے کہا:”مجھے پانی پلاؤ“ اس نے تھوڑا سا پانی ڈونگے یا کسی برتن میں ڈال کر پانی پلایا میری جان میں جان آگئی۔ انہوں نے اس قدر افاقہ کافی نہ سمجھا تو میں نے کہا اور پانی پلاؤ۔ انہوں نے تھوڑا سا پانی پلایا اور میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھا دیا۔ میں نے کہا شیخ ابو زہیر پیچھے گِرے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکچھ لوگ ان کے پاس چلے گئے ہیں، پہلے والے شخص نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں اس کے سہارے سے چلنے لگااور وہ مجھے وقفے وقفے سے سے پانی پلاتا رہا۔ جب میں جہاز کے پاس پہنچ گیا تو تھوڑی دیر بعد وہ میرے تیسرے رفیق ابو زہیر کو بھی لے آئے۔ انھوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ ہم ان کے پاس چند دن ٹھرے رہے۔ جب ہم نے وہاں سے جانے کا ارداہ ظاہر کیا تو انہوں نے ہمیں ”والیِ رایہ“ کے نام خط لکھ کر دیا اور ساتھ ہی وافرمقدار میں کیک، ستو اور پانی وغیرہ بھی دیا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن