30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیثیں لکھی ہیں۔(تہذیب التہذیب، 4/162)
(8)حضرت یحییٰ بن معین رحمۃُ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم کے بعد ”علمِ حدیث“ کے حصول کے لئے اپنے والدِ محترم کا متروکہ اَثاثہ دس لاکھ پچاس ہزار دراھم خرچ کرڈالا۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے حصولِ علم کے لئے صرف ”بغداد“ میں رہنے پر اکتفاء نہ کیا بلکہ عراق، حجاز، شام، مصر اور یمن وغیرہ مختلف مقامات کا سفر اختیار کیا۔(تہذیب التہذیب، 11/246)
(9)امام حافظ علی بن مدینی رحمۃُ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ ان کے وصال کے بعد آپ نے محض طلبِ علم کے لئے بصرہ، کوفہ، بغداد، مکہ، مدینہ اور یمن وغیرہ دیگر شہروں و ممالک کا سفر کیا۔(محدثین عظام حیات و خدمات، ص272)
(10)امام ابن ابی شیبہ رحمۃُ اللہ علیہ نے طلبِ علم کیلئے واسط، کوفہ، بغداد اور دوسرے شہروں کا سفر اختیار کیا اور وہاں کے اَئمۂ فن سے استفادہ کیا۔(تہذیب التہذیب، 6/3)
(11)امامُ المحدثین حضرت سیّدُنا امام بخاری رحمۃُ اللہ علیہ دس سال کی عمر میں ”امام داخلی“ کے حلقۂ درس میں شریک ہونے لگے۔ اٹھارہ(18) برس کی عمر میں عبدُ اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ کی تمام کتابیں اور امام وکیع رحمۃُ اللہ علیہ کے علمی نسخے اَزْبَر کر لئے 210ھ میں اپنی والدہ اور بڑے بھائی کے ساتھ حج کیا اور پھر طلبِ علم کے لئے ”حجاز“ میں ہی مقیم ہوگئے۔(محدثین عظام حیات و خدمات، ص308)
امام بخاری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں شام، مصر اور جزیرہ دوبار گیا اور بصرہ کا چار بار سفر کیا اور حجاز مقدس میں چھ سال سکونت گزیں رہا اور بے شمار بار ”کوفہ اور بغداد“ کا سفر اختیار کیا۔(المحدث و المحدثون، ص354)
اس کے علاوہ آپ نے بکثرت سفر کئے اور ایک ہزار شیوخ سے حدیث کا سماع کیا۔(تہذیب التہذیب،9/43)
(12)امام دارمی رحمۃُ اللہ علیہ نے حدیث کی طلب میں حرمینِ شریفین، خراسان، عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔
(محدثین عظام حیات و خدمات، ص303)
(13)حافظ طاہر مقدسی نےحصولِ علم کا تمام سفر پیادہ کیا اور کتابوں کی گھٹڑی بھی سر پر ہوتی۔ سفر اور بوجھ کی مشقت سےان کے پیشاب میں خون آنے لگتا۔آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے بغداد، مکۂ مکرّمہ، دمشق، حلب، نیشاپور اور بصرہ وغیرہ کئی شہروں و ممالک کا سفر اختیار کیا۔
(مطالعہ کی اہمیت، ص6، 7)
(14)حضرت یعقوب بن سفیان علیہ الرَّحمہ فر ماتے ہیں:میں نے ایک ہزار با اعتماد مشائخ سے احادیث لکھی ہیں اور تیس سال مسلسل طلب حدیث کےلئے سفر کیا ہے۔
طلبِ حدیث کے سلسلے میں آپ پر اللہ پاک کی عنایات میں سے ایک عنایت وہ واقعہ بھی ہے جسے آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے خود بیان فرمایا۔ چنانچہ حضرت سیدنا محمد بن یزید عطار رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے حضرت سیدنا یعقوب بن سفیان رحمۃُ اللہ علیہ کو فرماتے سنا کہ ایک مرتبہ دورانِ سفر میرا زادِ راہ ختم ہوگیا تو میں رات کے وقت (اجرت پر)کتابت کرتا اور دن میں حدیث پڑھتا ایک بار میں موسم ِ سرما کی ایک رات چراغ کی روشنی میں بیٹھا لکھ رہا تھا کہ میری آنکھوں میں پانی اتر آیا جس سے میری بنائی چلی گئی اور میں خود پر رونے لگا کیونکہ ایک تو میں اپنے شہر سے دور تھا اور دوسرا ”علم حاصل کرنے سے محروم ہوگیا تھا“۔ اسی حالت میں مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا اور میں سو گیا،خواب میں پیارے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت نصیب ہوئی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اے یعقوب کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میری بینائی ضائع ہوگئی ہے۔ لہٰذا علم سے محرومی پر حسرت کررہا ہوں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”میرے قریب آؤ۔“ میں قریب ہوا تو حُضورِ انور، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کچھ پڑھتے ہوئے اپنے دستِ پُرانوار میری آنکھوں پر پھیرا۔ جب میں بیدار ہوا تو میری آنکھیں روشن ہوچکی تھیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع