30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمارے اسلافِ کرام رحمۃُ اللہ علیہ م نے سفر کی مَشقّتوں اور غُرْبَت کے باوجود حصولِ علم کی خاطر طویل سفر اختیار کئے اور سَرمایۂ علم و فِقْہ جمع کرتے رہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! ایسے ہی چند اشخاص کا یہاں پر بھی ذکر کیا جاتا ہے جنہوں نے حصولِ علم و اشاعتِ علم کے لئے سفر کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔
(1) صحابیِ رسول، حضرت سیِّدنا جابر بن عبدُ اللہ رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث پاک سننے کے لئے ”ملکِ شام“ کا سفر اختیار کیا جو ایک ماہ کی مسافت پر مشتمل تھا وہاں پہنچ کر حضرت عبدُ اللہ بن اُنیس انصاری رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث حاصل کی۔(اتحاف السادۃ المتقین، 4/484)
(2)صحابیِ رسول حضرت سیِّدناابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث سننے کے لئے ”مصر“ کا سفر اختیار کیا۔(تاریخ ابن عساکر، 57/55، رقم:7399)
(3)تابعی بزرگ حضرت سیدناسعید بن مسیب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں ایک ایک حدیث کے لئے کئی کئی دن اور کئی کئی راتوں کا سفر طے کیا کرتا۔(المدخل، حدیث:304)
(4)امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنےکےبعد فقیہِ وقت حضرت سیِّدنا حماد رحمۃُ اللہ علیہ کے حلقۂ درس سے وابستہ ہوکر فِقہ، حدیث اور تفسیر کا درس لیا۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے علم حاصل کرنےکے لئے مکۂ مکرّمہ، مدینۂ منوّرہ اور بصرہ کے متعدد سفر کئے، حرمَینِ شریفین زادَھما اللہ شرفاً و تعظیماً میں بھی کافی دنوں قیام رہا۔(محدثین عظام حیات و خدمات، ص52)
(5) حضرت سیِّدناامام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ”فنِ حدیث “کی طرف توجہ کی اور 15سال کی عمر میں احادیث کا سماع کرنے کیلئے 179ھ میں سب سے پہلے بغداد کاسفر اختیار کیا۔(حلیۃ الاولیاء، 9/162،تذکرہ محدثین ص124)
آپ رحمۃُ اللہ علیہ سفر کی تکلیفیں برداشت کرتےکرتےعلم حاصل کرتےرہے اس کےباوجود تحصیلِ علم کا شوق آپ کو پوری زندگی باقی رہا۔ یہاں تک کہ جب ان کی علمی شہرت اور بزرگی کا چرچا ہر طرف ہورہا تھا اس وقت بھی اَکابِر شُیوخ کی بارگاہ میں طالب ِعلم کی حیثیت سے آتے جاتےرہے۔(محدثین عظام حیات وخدمات ص29،مناقبِ امام احمد،ص23)
آپ رحمۃُ اللہ علیہ نےابتدامیں تین سال تک امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس علم حاصل کیا اور بعد میں آپ نے جذبۂ تحصیلِ علم کے باعث کوفہ، بَصریٰ، شام، یمن، حرمینِ شریفین زادَھما اللہ شرفاً و تعظیماً کا سفر بھی اختیار کیا۔ طلبِ علم کے شوق میں امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہ نے ”بحری سفر“ بھی اختیار کئے۔ حضرت یعقوب بن اسحاق رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میرے والد اور امام احمد بن حنبل نے طلبِ علم میں بحری سفر کیا اور سمندر میں ان کی کشتی ٹوٹ گئی تو ایک جزیرے میں اتر گئے۔آپ کے صاحبزادے عبدُ اللہ بن احمد رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میرے والد نے پیدل ”طرطوس“ کا سفر کیا تھا۔(محدثین عظام حیات و خدمات، ص289، 290)
(6) حضرت عبدُ اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ کے بارے میں امام ذہبی رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: عبدُ اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ ابتدائی عمر ہی سے طلبِ علم کے لئے سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے لگے تھے۔(محدثین عظام حیات و خدمات، ص147)
امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: عبدُ اللہ بن مبارک کے زمانہ میں ان سے زیادہ علم طلب کرنے والا کوئی نہ دیکھا۔
(تذکرۃ الحفاظ، 1/254)
عبدُ اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ نے یمن، حجاز، مصر، شام، کوفہ اور بصرہ وغیرہ کے سفر کئے۔( تذکرۃ الحفاظ، 1/270)
(7)امام ابو داؤد طیالسی رحمۃُ اللہ علیہ بصرہ میں پیدا ہوئے جو کہ خود ایک علمی مرکز تھا بعد میں آپ نے مزید طلبِ علم کی خاطر بغداد، اصفھان اور دوسرے مراکزِ علم کا سفر بھی کیا۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے ایک ہزار شیوخ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع