دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ilm o Amal | فیضانِ علم و عمل

دارُ الحدیث النوریہ:

book_icon
فیضانِ علم و عمل
            
صلاحُ الدّین ایوبی نے اپنے نام سے ”مدرسہ صلاحیہ“ قائم کیا جس میں انہوں نے پہلی بار باضابطہ مدرس کے لئے تنخواہ کے علاوہ اور دیگر سہولیات فراہم کیں، اس مدرسہ میں سلطان نے شیخ نجمُ الدّین کو مقرر کیا اور ان کی تنخواہ چالیس دینار مقرر کی اور اَوقاف کی نگرانی بھی انہی کے سپرد کر کے دس دینار اس کا معاوضہ مقرر کیا، تقی الدین دَقیقُ العید، سراج بلقینی اور حافظ ابنِ حجر جیسے ائمہ نے وقتاً فوقتاً اس مدرسہ میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔

دارُ الحدیث النوریہ:

اسلامی دنیا کا پہلا دارُالحدیث دِمَشق میں549ھ میں دارُالحدیث النوریہ کے نام سے قائم کیا گیا اور اس کا سہرا عظیم سلطان نورُ الدّین محمود زَنگی کے سَر ہے، اس دارُالحدیث کو انہوں نے اپنے شیخ محدث و مؤرخ حافظ اِبنِ عساکر کے لئے بنوایا تھا، دمشق میں 18 دارُ الحدیث تھے مگر دارُ الحدیث النوریہ ان سب میں ممتاز تھا یہ مدرسہ آج بھی جامع مسجد کی شکل میں قائم ہے اور مسجد کے صحن میں نور الدین زنگی کا مزار بھی ہے۔

دارُ الحدیث الاشرفیہ:

الملک الاشرف مظفرُالدّین جو سلطان صلاحُ الدّین کے بھتیجے ہیں، انہوں نے قلعہ دمشق کے جوار میں ایک بڑی جگہ خرید کر دارُ الحدیث الاشرفیہ کی عمارت تعمیر کی اور اس کے برابر میں شیخ کے لئے رہائش گاہ تیار کی، 15شعبان630ھ کی مبارک رات میں الملک الاشرف نے اس دارُ الحدیث کا افتتاح کیا، اور مشہور محدث امام حافظ ابوعَمْرو اِبنِ صلاح الشہرزوری کو اس دارُالحدیث کا شیخ مقرر کیا، اس دارُالحدیث میں علمِ حدیث کی بہت سی اہم کُتب تصنیف کی گئیں، دمشق میں علمِ حدیث کو عروج دینے میں ان کا بڑا کردار ہے اور ان کا فیض آج تک سارے عالَم میں پھیل رہا ہے، یہاں تدریس کے فرائض انجام دینے والوں میں دنیا کے بڑے بڑے محدثین جیسے امام شرفُ الدّین نووی، امام ابوالحجاج مزی، اما تقی الدین سبکی اور ان کے بیٹے تاجُ الدّین سبکی، امام ابنِ کثیر اور خاتمُ الحفاظ ابنِ حجر عسقلانی بھی شامل ہیں، اس دارُالحدیث میں امام، مؤذن، قاریُ القراٰن، قاریُ الحدیث اور حدیث سننے والے افراد کے لئے وظائف مقرر تھے اور بہت سی جاگیریں عمارتیں دکانیں وغیرہ اس دارُالحدیث کے لئے الملک الاشرف کی طرف سے وقف تھیں۔ اس دارُ الحدیث کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس میں دیوارِ قبلہ پر محراب کے اوپر ایک خوب صورت لکڑی کے صندوق میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اصلی نعلینِ مبارکہ آویزاں تھیں جو دمشق کے ایک تاجر موسیٰ شرف نظام بن ابوحدید سے الملک الاشرف نے حاصل کی تھیں۔

مدارسِ ہند:

علّامہ مقریزی نے اپنی مشہور کتاب ”کتاب الخُطط“ میں لکھا ہے:”چودھویں صدی عیسوی میں محمد تغلق کے دور میں صرف دہلی شہر میں ایک ہزار مدرسے تھے۔“ کیپٹن ہیلیگزن ہملٹن مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرکے دور میں ؁1699ء میں اس خطے میں آیا تھا، اس نے اپنے سفرنامے میں لکھا: ”صرف ٹھٹھہ شہر میں مختلف علوم و فنون کے چار سو مدارس تھے۔“ کیئر ہارڈی نے میکس پولر کے حوالے سے تحریر کیا ہے: ”انگریزوں کی علمداری سے قبل بنگال میں اسّی ہزار مدرسے موجود تھے، تقریباً ہر چار سو افراد کے لئے ایک مدرسہ تھا۔“ دہلی میں بہت سے عظیمُ الشّان مدارس موجود تھے۔

مدرسہ فیروز شاہی:

یہ دہلی کا سب سے مشہور اور اپنے عہد کا زبردست مدرسہ تھا، جسے فیروز شاہ نے فیروز آباد دہلی میں 753ھ میں قائم کیا تھا، مدرسہ اپنی شان و شوکت، خوبیِ عمارت و موقع اور حُسنِ انتظام و تعلیم کے لحاظ سے تمام مدارسِ ہند میں سب سے بہتر اور عمدہ تھا، مصارف کے لئے شاہی وظائف مقرر تھے، مدرسہ سے متصل مسجد تھی۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن