30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حنابلہ کے قدیم مدارس:
المدرسۃُ الجَوزِیۃ، المدرسۃُ الجَاموسیہ، المدرسۃ الحنبليۃ الشريفیۃ، المدرسۃ الصاحِبِیۃ، المدرسۃ الصَدْرِیۃ، المدرسۃُ العالِمۃ، المدرسۃ المِسمارِیۃ۔
ذیل میں چند مشہور درس گاہوں کا مختصر حال بھی پیش کیا جاتا ہے۔
مدرسہ نظامیہ:
آلِ سلجوق کے وزیرِ اعظم نظامُ الملک طُوسی نے اپنی کُل جاگیروں میں سے دسواں حصہ مدرسوں کے لئے وقف کردیا تھا، شہرِ بغداد میں یہ مدرسہ اسی کا ایک عظیمُ الشان کارنامہ ہے، اور اس مدرسہ سے پہلے بغداد شہر میں کوئی خاص عمارت مدرسہ کے نام سے نہیں ملتی، اس کی تعمیر 457ہجری میں شروع ہوئی اور 459ھ میں اس کا افتتاح ہوا، مدرسہ نظامیہ کا فیض پانچویں صدی ہجری سے لے کر نویں صدی ہجری تک جاری رہا، امام غزالی، ابو عبد اللہ طَبری، الخطیب التبریزی رحمۃُ اللہ علیہم وغیرہ وقتاً فوقتاً اس کے صدر مدرس رہ چکے ہیں، اس کے احاطے میں ایک کُتب خانہ بھی تھا، اس میں پڑھنے والوں کی تعداد اس زمانہ میں چھ ہزار تھی، یہاں تعلیم اور جملہ سہولیات مفت فراہم کرنے کے ساتھ غریب طلبہ کو اَوقاف سے خصوصی وظیفہ بھی ملتا تھا۔ طلبہ کے لئے وظائف مقرر کرنے کا اس سے پہلے رواج نہ تھا۔ نظامُ الملک طُوسی نے عام مدرسوں کے علاوہ نیشاپور، ہرات، اَصفہان اور مَوصِل میں جو بڑے بڑے مدارس قائم کئے تھے وہ بھی مدرسہ نظامیہ کہلاتے تھے۔
مدرسہ قادریہ:
یہ مدرسہ حُضور غوثِ اعظم کی طرف منسوب ہے۔ یہ مدرسہ آپ کے شیخ قاضی ابو سعید مبارک بن علی بن حسین اَلْمُخَرِّمی (سالِ وفات:541ھ) نے بغداد کے علاقے ”باب اَزَج“ میں قائم کیا جو آج کل ”باب الشیخ“ کے نام سے مشہور ہے اور اس میں فقہ حنبلی کا درس دینا شروع کیا، غوثِ اعظم اپنے تعلیمی دور کے آخری سالوں میں مستقل طور پر اسی مدرسے میں پڑھنے لگے اور پھر تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسی مدرسے میں اپنے شیخ کے ساتھ بطورِ معاون استاد پڑھانے لگےاور جب آپ کے شیخ ابو سعید المخرمی کا وصال ہوا، تو شیخ کے شاگردوں میں ان کی جانشینی کا اہل تسلیم کرتے ہوئے مسندِ تدریس و اِفتا اور وعظ و ارشاد آپ کے سپرد کردی گئی۔ پھر جب آپ کا حلقۂ درس وسیع ہوا، اور مدرسہ کی عمارت تنگ پڑنے لگی تو آپ بغداد شہر کی فصیل کے باہر عید گاہ میں درس دینے لگے، یہاں تک کہ چند معتقدین نے مدرسہ اَلْمُخَرِّمی کو ان کے ورثاء سے خریدا اور مزید اس میں توسیع کر کے نئے سرے سے ایک وسیع عمارت تعمیر کی جس میں طلبہ اور مریدین کیلئے علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اقامت کا بھی اہتمام کیا، اور پھر یہ مدرسہ شیخ عبدُالقادر جیلانی کے نام سے مشہور ہوا، یہ آج تک موجود ہے اور اس وقت مدرسہ قادریہ کے نام سے مشہور ہے۔اس میں حضور غوثِ اعظم رحمۃُ اللہ علیہ کے وصال کے بعد آپ کے شہزادے شیخ عبدالجبار تدریس فرمانے لگے اور ان کے بعد غوثِ اعظم کی اولاد میں سے مختلف افراد اس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ 656سِنِ ہجری میں تاتارِیوں نے بغداد میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا اور دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ غوثِ اعظم کے خاندان کے کثیر افراد کو بھی شہید کیا اور مسجد و مدرسے کو بھی منہدم کردیا، ان فتنوں کے بعد مختلف زمانوں میں اس مدرسے کی تعمیرو ترقی کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ سن 1703ء میں عثمانی سلطان کے حکم سے دو نئے مدرسے بنا کر اس قدیم مدرسے میں شامل کردیئے گئے۔
(الشیخ عبد القادر الجیلانی الامام الزاهد القدوة، ص125، 127، 290، 292)
مدرسہ ناصِریہ اور مدرسہ صَلاحیہ:
چٹھی صدی ہجری میں سلطان صَلاحُ الدّین ایوبی رحمۃُ اللہ علیہ نے بہت سے مَدَارِس قائم کئے اور بے انتہا آمدنی ان پر وَقْف کی، قاہرہ کے اندر انہی کے زمانے سے مدارس کی تاسیس ہوئی اور دِیارِ مصر میں پہلی بار مدرسہ ناصریہ 566ھ میں بنا، خود
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع