دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ilm o Amal | فیضانِ علم و عمل

چند قدیم دُوَرُالقرآن الکریم:

book_icon
فیضانِ علم و عمل
            
میں افغانستان سے لے کر دِمَشق و حِمص تک کے طلبہ علمی پیاس بجھانے آتے تھے تو امام مالک رحمۃُ اللہ علیہ سے فیض یاب ہونے کے لئے بُخارا و سَمَرقَند اور تِیُونَس و قُرطُبہ سے تشنگانِ علم جوق در جوق حاضر ہوتے تھے، حضرات تابعین اور ان کے بعد کے اَدْوار میں اس سلسلے نے اس قدر فروغ پایا کہ دمشق میں جامع بنی اُمَیَّہ اور قاہرہ مصر میں جامع ابنِ طُولُون جیسے اہم علم و فن کے مراکز وجود میں آئے جہاں جلیلُ القدر علما باضابطہ طلبہ کو مختلف علوم کا درس دیتے تھے۔آگے چل کر اسی علم دوستی اور سرکاری سرپرستی کے نتیجے میں علمائے کرام نے کائناتِ ارضی کے گوشہ گوشہ میں اشاعتِ علم کے مراکز قائم کئے، صرف دمشق جیسے شہر میں 150 اور قاہرہ میں 75 مدارس موجود تھے اور اس وقت سے جو یہ سلسلہ شروع ہوا تھا آج صدیاں گزر جانے کے بعد بھی دنیا کے کم و بیش ہر ملک میں رائج ہے۔ قدیم زمانہ میں درس وتعلیم کے لئے الگ سے مستقل عمارتیں نہیں تھیں بلکہ اس کام کے لئے زیادہ تر مساجد سے کام لیا جاتا تھا جہاں باقاعدہ مجلسیں لگائی جاتیں اور لوگ ان مبارک حلقوں میں حصولِ تعلیم کے لئے شرکت کرتے تھے۔ اسلامی مدارس و جامعات باضابطہ طور پر کب وجود میں آئے اس سلسلے میں مؤرخین کی آراء مختلف ہیں، کچھ لوگ یہ سہرا مَلِک شاہ سلجوق کے وزیر نظامُ المَلِک طُوسی کے سر سجاتے ہیں کہ اس نے سب سے پہلے 459ہجری میں بغداد میں مدرسہ نظامیہ قائم کیا، مگر کچھ مؤرخین جیسے علّامہ تقی الدّین سبکی اور علّامہ جلالُ الدّین سُیوطی اس کا رد کرتے ہیں، کیونکہ چوتھی صدی ہجری کے اَواخر میں مدارس کے لئے علیحدہ اور مستقل عمارت بنانے کی ابتدا نیشاپور میں ہوئی، یہاں پہلا مدرسہ نیشاپور کے ناصر اَلدَّوْلَہ ابوالحسن (سالِ وفات:378ھ) نے امام محمد بن حسین فُورَک کے لئے بنایا، یوں ہی سلطان محمود غزنوی نے متھرا کی فتح سے جاکر410ھ میں ایک عالیشان مدرسہ بنوایا، دمشق میں چوتھی صدی کے آخر میں امیر شجاع اَلدَّوْلَہ صادِر بن عبد اللہ نے 391ھ میں حنفیوں کا مدرسہ صادِرِیَّہ قائم کیا، اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے بے شمار مشہور و معروف مدارس و جامعات نظر آتے ہیں، یہاں 10ویں صدی ہجری کے ایک بزرگ عبد القادر بن محمد النعیمی الدمشقی کی کتاب ”الدارس فی تاریخ المدارس“ میں مذکور صرف دارُ القرآن، دارُ الحدیث اور مدارس کے نام ملاحظہ کیجئے:

چند قدیم دُوَرُالقرآن الکریم:

دارُ القرآن الخَیضَریہ، دارُ القرآن الکریم الجَزرِیہ،دارُ القرآن الکریم الرَشَائیہ، دارُ القرآن الکریم السَنْجَاریہ، دارُ القرآن الکریم الصَابُونیہ۔

چند قدیم دُوَرُالحدیث الشریف:

دارُ الحدیث الاَشرفیہ البَرانیہ، دارُ الحدیث البَھَائیہ، دارُ الحدیث الحِمصِیہ، دارُ الحدیث السَامِرِیہ، دارُ الحدیث الفَاضِلِیہ، دارُ الحدیث النُورِیہ، دارُ الحدیث النَفِیسِیہ، دارُ الحدیث النَاصِرِیہ۔

چند قدیم دورالقرآن والحدیث:

دارُ القرآن و الحدیث التنکزیہ، دارُ القرآن و الحدیث الصَبابِیہ، دارُ القرآن و الحدیث المَعبَدِیہ۔

احناف کے چند قدیم مدارس:

المدرسۃُ الاَسَدِیہ، المدرسۃُ الاِقبالِیہ، المدرسۃُ الآمَدِیہ، المدرسۃُ البَدَرِیہ، المدرسۃُ البَلْخِیہ، المدرسۃُ التاجِیہ، المدرسۃُ الجلالِیہ، المدرسۃُ الجَمالِیہ، المدرسۃُ الرَیحانِیہ۔

شوافع کےچند قدیم مدارس:

المدرسۃُ الاَصفَہانِیہ، المدرسۃُ الاَمجَدِیہ، المدرسۃُ الاَمِینِیہ، المدرسۃُ التَقوِیہ، المدرسۃُ الحَلبِیہ، المدرسۃ الخَلِیلِیَہ، المدرسۃُ الشَرِیفِیہ، المدرسۃ الصالحیہ۔

مالکیہ کے قدیم مدارس:

الزَاوِیۃُ المَالِکِیہ، المدرسۃُ الصَلاحِیہ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن