30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چند قدیم مدارس و جامعات
مولانا احمد رضا شامی عطاری مدنی
(مدرس مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی)
مَدَارسِ اسلامیہ کو اسلام کے قلعے کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ اسلامی تعلیمات نسل دَر نسل منتقل کرنے کے اہم مراکز ہیں، ان ہی کے ذریعے اسلامی علوم و فنون کی نشر واشاعت کا سلسلہ آغازِ اسلام سے جاری ہے، اپنی اصل کے اعتبار سے مدرسہ کسی عمارت اور بلڈنگ کا نام نہیں بلکہ ایک استاذ اور شاگرد کے رابطے کا نام ہے، جہاں استاذ اور شاگرد تعلیمِ دین کے لئے مل بیٹھیں وہی جگہ مدرسہ کہلاتی ہے۔
روئے زمیں پر مَدَارسِ اسلامیہ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی اسلام کی تاریخ، چونکہ اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف وحیِ الٰہی کی ابتدا
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱)
( ترجَمۂ کنزُالایمان :پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔(پ30، العلق:1))
سے کی گئی، اس لئے تعلیم و تعلم کا سلسلہ شروعِ اسلام سے کسی نہ کسی صورت میں جاری رہا، بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایمان لانے والے نئے مسلمانوں کو مختلف گھروں میں قراٰن اور تعلیماتِ اسلامیہ کا انفرادی طور پر درس دیتے تھے۔
یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ تاریخِ اسلام میں پہلی بار باضابطہ اس مبارک عمل کی ابتدا مسجدِ نبوی سے ہوتی ہے، جب ستر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مسجدِ نبوی کے چبوترے پر قراٰن کی تعلیم و تعلم کا سلسلہ شروع کرتے ہیں، یہ چبوترہ دن کے وقت ایک درس گاہ اور رات میں ان علمِ دین کے طالبوں کی اقامت گاہ تھا، عربی میں چبوترے کو صُفَّہ کہتے ہیں اس لئے اسلام کا یہ پہلا مدرسہ ”صُفَّہ“ کے نام سے مشہور ہوا، اور اس میں پڑھنے والے ”اَصحابِ صُفَّہ“ کہلائے۔
اس کے بعد یہ سلسلہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اسلام کی خاطر مختلف جہتوں میں سفر کرنے کے ساتھ ساتھ وسیع ہوتا رہا، یہاں تک کہ حضرت سیّدُنا عمر بن عبد العزیز رحمۃُ اللہ علیہ نے فقہا اور علما کو مساجد میں مجالسِ علم قائم کرنے کا فرمان جاری کیا، اس لئے مکۂ معظمہ اور مدینۂ منوّرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ، بصرہ، دمشق اور فُسطاط جیسے اسلامی شہروں میں تعلیم و تعلم کے مراکز قائم کئے گئے۔
دورِ صحابہ کے بعد مشہور درس گاہوں میں کوفہ میں امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ کی درس گاہ اور مدینہ میں امام مالک رحمۃُ اللہ علیہ کی درس گاہ مرجعِ خلائق تھیں، امامِ اعظم رحمۃُ اللہ علیہ کی بارگاہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع