30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کر دیا اور انہیں بےدردی سے شہید کر دیا اور گھر کو آگ لگادی۔ اس واقعہ کے بعد آپ کے خاندان نے سہالی سے ہجرت کی۔
فرنگی محل میں آمد:
بادشاہِ وقت نے لکھنؤ کے مضافات میں فرانسیسی تاجر کی ایک خالی کوٹھی جو ”حویلی فرنگی“ کہلاتی تھی ملا شہید کے اہل و عیال کے نام کر دی۔ (بانیِ درسِ نظامی، ص50) اس حویلی کو ”فرنگی محل“ سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں سے داعیانِ اسلام و مبلغینِ سنّت کی فوجیں تیار ہوکر بحر و بر کی وسعتوں میں چھا گئیں۔ ملا نظامُ الدّین اس وقت 14 برس کے تھے جب آپ ہجرت کر کےحویلی فرنگی میں جلوہ فگن ہوئے۔
(بانیِ درسِ نظامی، ص56)
ظاہری و باطنی تعلیم:
آپ نے بنیادی دینی تعلیم تو اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، حویلی پہنچ کر مزید تعلیم کے لئے علمائے وقت کی طرف مراجعت کی اور اس دور کے ممتاز و ماہر علما سے کتبِ درسیہ پڑھیں۔(بانیِ درسِ نظامی، ص 61) علومِ نقلیہ و عقلیہ سے فراغت کے بعد باطنی تعلیم کے حصول کیلئے سلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم پیشوا اور ولیِ کامل سیّد عبد الرّزّاق بانسوی رحمۃُ اللہ علیہ کے دستِ اقدس پر شرفِ بیعت حاصل کیا۔ منازلِ سلوک طے کیں اوراعزازِ خلافت بھی حاصل کیا۔(تعریفاتِ علومِ درسیہ، ص 235)
مدرسہ فرنگی محل:
حضرت ملا نظام الدین فرنگی محلی علوم و فنون کی تکمیل کے بعد بقیہ تمام عمر ”فرنگی محل“ میں درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور تبلیغ و اصلاح کا کام کرتے رہے، یہیں پر انہوں نے اپنا مقرّر کردہ نصاب رائج کیا اور اس کی تدریس فرمائی۔ آپ کے درس نے اس قدر قبولیت حاصل کی کہ ہند کے کونے کونے میں آپ کے شاگرد نظر آنے لگے۔ آپ اور آپ کے تلامذہ در تلامذہ کے ذریعے فرنگی محل کا علمی و درسی فیضان جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک تک جا پہنچا ہے۔ آپ نے ”فرنگی محل“ کے اس خطۂ زمین کو رشکِ ثریا بنا دیا اور ہند کی اس ایک درس گاہ سے ہزاروں مدرّسین، عُلما، محقّقین، مصنفین، مبلّغین اور مصلحین پیدا کئے جنہوں نے تاریخ میں بڑے علمی کارنامے سرانجام دیئے۔ دورِ حاضر میں بھی پاک و ہند کے ممتاز مدرسین و علما بالواسطہ آپ کے تلامذہ ہونے کو قابلِ اعزاز گردانتے ہیں اور جو شخص آپ سے شاگردی کا تعلق رکھتا ہے فضلائے عہد کے درمیان امتیاز و خصوصیت کا پرچم بلند کرتا ہے۔
(تعریفاتِ علوم درسیہ، ص 237، بانیِ درس نظامی، ص72، 73 ماخوذا)
درسِ نظامی کے ابتدائی مشمولات:
حضرت ملا نظامُ الدّین رحمۃُ اللہ علیہ نے تقریباً 11 فُنون کی کتب اپنے نصاب میں شامل کی تھیں۔ قراٰن و حدیث چونکہ تمام دینی ضروریات کی بنیاد ہیں اور ان کے لئے عربی زبان کی تعلیم لازمی ہے۔ فارسی اُس دور کی دفتری اور عدالتی زبان تھی اور فقہِ حنفی کو ملک میں رائج قانون کا درجہ حاصل تھا۔ ان کے علاوہ فلسفہ، حکمت، ہندسہ، منطق اور علمِ کلام سمیت دیگر کئی فنون بھی اس نصاب کا حصّہ تھے۔ یوں یہ اس وقت کی دینی و قومی ضروریات پر مشتمل جامع نصاب تھا۔ 11مضامین کے لئے مقرّرہ 43کُتب پر مشتمل اس نصاب میں معقولات کی کتابوں کی تعداد 20 تھی جن میں سے منطق کی آٹھ،حکمت کی تین، علمِ کلام کی چار اور ریاضی کی پانچ کتابیں شامل تھیں۔ عُلومِ لسانیات کی چودہ کتابوں میں سے علمُ الصّرف کی سات،علمُ النّحو کی پانچ اور بلاغت کی دو کتابیں جبکہ علومِ عالیہ یعنی خالص دینی مضامین کی کل نو کتابوں میں سے فقہ کی دو، اصولِ فقہ کی چار، تفسیر کی دو اور حدیث کی ایک کتاب شامل تھی۔(القلم، جون 2012، ص271)
مختلف اَدوار میں مختلف علاقوں اور جامعات میں درسِ نظامی کے فُنون اور کتابوں میں کچھ نہ کچھ فرق ہوتا رہا ہے کہیں ایک فن کی کتابیں زیادہ شاملِ نصاب رہیں تو کہیں دوسرے فن کی۔ دعوتِ اسلامی کے جامعاتُ المدینہ میں بھی کچھ تبدیلی کے ساتھ ان فنون کی کتب شاملِ نصاب ہیں۔
رحلت شریف:
علوم و معارف کا یہ آفتاب و ماہتاب 9 جُمادَی الاُولیٰ1161ھ مطابق 8 مئی1748ء میں اپنے رب کی رحمت میں چھپ گیا۔
(بانیِ درسِ نظامی، ص203)
اللہ تعالیٰ درسِ نظامی کی بنیاد رکھنے والے اور اسے آگے بڑھانے والے علمائے اہل سنت کی شان و عظمت بلند فرمائے اور ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع