30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے خصوصی نمبر ”فیضانِ علم وعمل“ کے لئے پیغامِ امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن ط
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط
اے عاشقانِ رسول! یقیناً علمِ دین کی روشنی سے جہالت کے اندھیرے دُور ہوتے ہیں، اسی سے دنیا وآخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے، علم والوں کے آخرت میں درجے (Grade)بلند ہوں گے، ہمارے علیم وخبیر ربِّ قدیر نے فرمایا:
یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ (پ 28،المجاد لۃ:11)
ترجمۂ کنزالایمان : اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور اُن کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔
جبکہ پارہ23 کی سورۂ زمر کی آیت 9میں ہے:
قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠(۹) (پ23،الزمر:9)
ترجمۂ کنزالایمان :تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
والدِ اعلیٰ حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃُ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:یعنی جاہل کسی طرح عالم کے مرتبے کو نہیں پہنچتا۔
(فیضانِ علم وعلما،ص12)
”علم“ کے تین حروف کی نسبت سے 3فرامینِ مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اللہ پاک کے پیارے پیارے آخِری نبی مکی مدنی محمد ِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے علم سیکھنے والوں کے بارے میں فرمایا: (1) اِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ یَسْتَغْفِرُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ زمین و آسمان کی تمام مخلوق طالب علم کے لئے دعائے مغفِرت کرتی ہے۔(ابن ماجہ، 1/146، حدیث:223 ملتقطاً) حجۃُ الاسلام حضرت سیّدُنا امام محمد غزالی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اس سے بڑا مرتبہ کس کا ہوگا جس کے لئے زمین وآسمان کے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہوں،یہ اپنی ذات میں مشغول ہے اور فرشتے اس کے لئے استِغفار میں مشغول ہیں۔(احیاء العلوم، 1/20)(2) مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کَفَّارَۃً لِمَا مَضیٰ یعنی جس نے علم حاصل کیا تو یہ اس کے سابِقہ (یعنی گزرے ہوئے)گناہوں کا کفارہ ہوگیا۔(ترمذی، 4/295، حدیث:2657) مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:طالبِ علم سے صغیرہ (یعنی چھوٹے)گناہ معاف ہوجاتے ہیں جیسے وُضو نماز وغیرہ عبادات سے، لہٰذا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طالبِ علم جو گناہ چاہے کرے یا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نیتِ خیر سے علم طلب کرنے والوں کو گناہوں سے بچنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع