30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درسِ نظامی کب اور کس نے شروع کیا؟
مولانا حامد سراج عطاری مدنی
(شعبہ سیرتِ مصطفےٰ المدینۃ العلمیہ، کراچی)
”درسِ نظامی“ جنوبی ایشیا کے دینی، علمی، تدریسی اور تعلیمی نظام میں مشہور اصطلاح ہے، درسِ نظامی دینی تعلیم کا ایسا نصاب ہے کہ پچھلے ساڑھے تین سو سالوں میں جس نے بھی دینی علوم حاصل کرکے دستارِ فضیلت باندھی ہے اس نصاب سے وہ ضرور فیض یاب ہوا ہے۔ ”درسِ نظامی“ علومِ عربیہ و اسلامیہ کا جامع اور ہمہ گیر نصاب ہے۔ یہ اس کی جامعیت ہی کی دلیل ہے کہ ساڑھے تین سو سال بیت چکے ہیں مگر اب بھی یہی نصاب یا تو مِن و عَن یا پھر کچھ تبدیلیوں کے ساتھ جنوبی ایشیا کے ہزاروں مدارس و جامعات میں رائج اور معیارِ فضیلت ہے۔ ان ساڑھے تین سو سالوں میں بڑے بڑے عُلما و فُضلا جو آسمانِ علم و فنّ کے آفتاب و ماہتاب بنے وہ اوّلاً اسی نصاب کے خوشہ چین ہوئے۔ ”درسِ نظامی“ آسان لفظوں میں یوں کہیں کہ یہ ایک خاص طریقۂ درس ہے، اس کے تحت طالبِ علم کو شروع ہی سے متعدّد ایسی کتابیں پڑھا دی جاتی ہیں جو ہر اہم علم و فن میں ضروری شُد بُد پیدا کر دیتی ہیں۔ ان میں سے کئی کُتب بانیِ درسِ نظامی کے تلامذہ کی تصانیف ہیں جو ان کے سامنے یا ان کے بعد تصنیف ہوئی تھیں۔(بانیِ درسِ نظامی، ص259) یہ اس نصاب کی خصوصیت ہے کہ نصاب ختم کرنے کے بعد طالبِ علم کثیر فنون کی کتب سمجھنے کی صلاحیت پاجاتا ہے، بالخُصوص توجّہ سے درسِ نظامی پڑھ لیا جائے تو عربی زبان کی زلفِ پریشان کو سنوارنے کیلئے ایڑیاں رگڑنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
درسِ نظامی کی ترتیب:
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ استاذُ العُلماء حضرت علّامہ نظامُ الدّین محمد فرنگی محلی رحمۃُ اللہ علیہ کی نسبت سے درسِ نظامی کو ”درسِ نظامی“ کہتے ہیں لیکن درحقیقت اس سلسلۂ درس کی تاریخ ایک پشت اوپر یعنی ملّا نظامُ الدّین کے والدِ گرامی ملا قطبُ الدّین شہید سے شروع ہوتی ہے۔ حضرت ملا شہید نے اپنے درس کیلئے ایک خاص طریقہ قائم کیا، وہ یہ کہ ہر فن کی ایک ہی کتاب جو اپنے موضوع پر بہترین ہوتی تھی، پڑھاتے تھے، اسی سے ان کے تلامذہ صاحبِ تحقیق ہو جاتے تھے۔ جبکہ ان کے فرزند حضرت ملا نظام الدین نے ہر ہر علم و فن پر ایک ایک کتاب کا مزید اضافہ کر دیا۔ یوں یہ ہر فن کی دو دو کتابیں پڑھاتے اور بعض ذہین طلبہ کو ایک ہی کتاب پڑھاتے تھے۔ (بانیِ درسِ ظامی، ص262) آج کے دور میں ملا نظامُ الدّین کے منتخب کردہ فُنون اور کتب کو ہی ”درسِ نظامی“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ”فرنگی محل“ میں بیٹھ کر حضرت ملا نظام الدین نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تو پانچ یا چھ سال میں طلبہ کو فارغُ التحصیل ہونے کا موقع ملنے لگا۔(بانیِ درسِ نظامی، ص79) یوں ایک متوسّط ذہن کاطالبِ علم 16سے 18 سال کی عمر میں فضیلت کی دستار باندھنے لگا۔
بانیِ درسِ نظامی کا تعارف:
درسِ نظامی کے بانی ملا نظامُ الدّین اپنے وقت کے بےنظیر عالمِ معقولات و منقولات، ملا قطبُ الدّین شہید سہالوی رحمۃُ اللہ علیہ کے تیسرے فرزند تھے۔(ممتاز علمائے فرنگی محل، ص51) ملا قطب الدین کی علمی لیاقت اور دینی خدمات نے بادشاہِ ہند اورنگ زیب عالمگیر کو بھی متأثّر کر رکھا تھا۔ ملا قطب الدین ایک دفعہ اپنے آبائی قصبہ سہالی میں طلبہ کو علومِ نبوی سے سیراب کر رہے تھے کہ کچھ شرپسندوں نے ان پر حملہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع