30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی تعداد میں قرآن کے حافِظ موجود ہیں، کروڑوں لوگوں کو کلمہ نماز یاد ہیں، آخر یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟ وہ کون سی مخلوق ہے جو اِتنے منظم طریقے سے مَساجِد، جماعت، مَحافِل اور تعلیم و تربیت کا نظام چلا رہی ہے؟ وہ کون ہیں کہ جن کی ماہانہ تنخواہ اُن کی ضروریات بھی پوری نہیں کرتی، مگر اِس کے باوجود وہ لوگ یہ کارنامے سر انجام دئیے جارہے ہیں؟ معمولی سی توجہ سے سمجھ آجائے گا کہ وہ کسی اور سَیّارے کے لوگ نہیں، بلکہ ہمارے درمیان ہی بسنے والے متحمل مِزاج، قَناعت پسند، کفایت شِعار اور مَدْرَسوں میں پڑھنے، پڑھانے والے حضرات ہیں۔ ہاں ہاں یہی وہ قَناعت پسند افراد ہیں جنہوں نے ہماری مسجدوں کو آباد اور لوگوں کے دلوں میں دین بسا رکھا ہے۔ اگر آپ چند لمحوں کے لئے یہ فرض کریں کہ زمین کے نقشے پر مَدَارِس نہیں ہیں، تو پھر یہ دیکھنے کے لئے بھی آنکھیں کھول لیں کہ آپ کو اپنی مسجدیں ویران نظر آئیں گی، قرآن پڑھنے والے ختم ہوجائیں گے، لوگ دین سے جاہل ہوں گے، آخرت کا نام لینے والے نہ رہیں گے، بے راہ روِی، بے حیائی کا سیلاب ہر رکاوٹ توڑ دےگا اور معاملہ نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا۔
دنیا بھر میں مَدَارِس میں پڑھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے، ان سب کا تعلیم حاصل کرنا، جہالت کے ازالے، شَرْحِ خواندگی میں اضافے کا ذریعہ ہے اور مسلمانوں میں شرح خواندگی بڑھانے میں مَدَارِس کا بہت بڑا حصہ ہے، بلکہ پاک و ہند میں انگریزوں کی آمد سے پہلے تو شرح خواندگی میں بہتری کا تمام تر مَدار صرف مَدَارِس ہی پر تھا۔ تمام تر نظامِ سلطنت اُن ہی کے ذریعے چلتا تھا۔
آج تو اَلحمدُلِلّٰہ مسلمانوں کی مِلِّی و مَعاشی صورتِ حال بہتر ہے، اس لئے مَدَارِس کا کردار مفید تر ہوچکا ہے لیکن ماضی میں جب غیروں کی سازشوں کی وجہ سے حالات ناگفتہ بہ تھے، اُس وقت ایک مرتبہ شاعرِ مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کے سامنے مَدَارِس کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو اُس کسمپرسی کے زمانے میں اقبال نے کہا: اِن مکتبوں (مَدْرَسوں) کو اِسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مَدَارِس میں پڑھنے دو۔ اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستان کے مسلمان اِن مَدْرَسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح ہسپانیہ میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غَرناطہ اور قُرطبہ کے کھنڈرات اور اَلحَمْراء اور ”باب الاخوتین“ کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرے کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔(اتنا کہنے کے بعد اقبال رونے لگے)(خوں بہا، ص455)
الغرض!
الغرض مَدَارِس کا کردار آج بھی شان دار ہے، جس کے چند پہلو کچھ یوں بیان کئے جاسکتے ہیں۔
(1)مدارِس اسلام کی حفاظت اور عالَمِ کفر کا علمی مقابلہ کررہے ہیں۔
(2)مدارِس کروڑوں لوگوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔
(3)مدارِس قرآن و سنّت کی تعلیم اور دینی علوم کی اشاعت و فروغ میں سب سے مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔
(4)مدارِس دینی کُتب کی تصنیف اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دین پیش کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
(5)مدارِس مسلمانوں کے اسلامی معاملات، حلال و حرام کے احکام، خاندانی و ازدواجی اُمور میں دینی راہنمائی کررہے ہیں۔
(6)مدارِس عام مسلمانوں کے عقائدکا تحفظ اور اخلاق و کردار بہتر بنارہے ہیں۔
(7)مدارِس اسلام نے خاندانی نظام اور کلچر و ثقافت کی حفاظت کی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع