دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ilm o Amal | فیضانِ علم و عمل

book_icon
فیضانِ علم و عمل
            
”تم فرماؤ: کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں؟“ (پ23، الزمر:9) علم والوں کے درجے بلند کئے گئے، فرمایا: یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا“۔(پ28، المجادلۃ:11) خدا جن کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اُن ہی کوعلم و فہمِ دین کی دولت سے سَرْفراز فرماتا ہے، چنانچہ نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَنْ يُّرِدِ اللہُ بِهِ خَيْرًا ‌يُفَقِّهْهُ ‌فِي ‌الدِّينِ ”جس سے اللہ پاک بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اُسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے“۔(بخاری، 1/42، حدیث:71) علم ہی میراثِ انبیاء بنی، فرمایا گیا: انَّ العُلَمَاءَ هُمْ ‌وَرَثَةُ الاَنْبِيَاءِ ”بے شک علماء ہی انبیائے کرام کے وارِث ہیں۔ (بخاری، 1/41) صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کے درمیان نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے شب و روزعلم کا نور عطا فرمانے ہی میں گزرتے تھے۔ تعلیمِ علم ہی کو نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی خوبی و کمال کے طور پر بیان کیا، چنانچہ فرمایا: وَاِنَّمَا ‌بُعِثْتُ ‌مُعَلِّمًا ”مجھے تعلیم دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے“۔(ابنِ ماجہ، 1/150، حدیث:229) علم ہی نے مجتہدین کو امت میں ممتاز کیا اوراُمَّت کا پیشوا بنادیا۔ حضور خَتْمِیِ مَرْتبت، رسالتِ مآب، احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شانِ رحمت ہزاروں رنگوں میں کائنات میں جلوہ گر ہے، کہ ابتدائے حیات سے بقائے کائنات، سب اُسی عالی جناب کے مبارک قدموں کا صدقہ ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے انوار و تجلیات اور رحمت کا ایک خوبصورت رُوپ علم، تعلیم اور مدرسے کی صورت میں ہے۔ علم کی تعلیم و تقسیم کے مَرَاکِز کو ”مَدْرَسَہ“ کا نام دیا جاتا ہے جس کی ابتدا مسجدِ نبوی میں موجود صُفَّہ کے مقام سے ہے، جہاں سکھانے کا فریضہ، کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضور پرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ادا کیا کرتے تھے اور سیکھنے والے عاشقانِ ماہِ رسالت، وارفتگانِ جمالِ نبوت، طالبینِ علم و حکمت یعنی صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان تھے۔ صُفَّہ کا مَدْرَسَہ ہی زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنے انتظامی رنگ بدل کر مختلف مَدَارِس کی شکل میں موجود رہا اور آج تک چلا آرہا ہے۔ امت کے جملہ مجتہدین، مفسرین، محدثین، شارِحین، علماء، فقہاء ان ہی مَدَارِس کی دَین ہیں۔ قرآن کی تفسیریں، حدیث کی کتابیں، اُن کی شروحات، فقہ کے اصول و ضوابط کی بِنا، اِسْتخراج و اِستنباط کے قواعد کا بیان، کتبِ فقہ کی تصنیف، اِن ہی اہلِ مَدْرَسَہ کی کاوِشوں کا نتیجہ ہے۔ مسلمانوں کو علم سکھانا، دین بتانا، حلال و حرام سے آگاہ کرنا، عبادات و معاملات میں تعلیماتِ رَبَّانی سے رُوشناس کرانا، مقاصدِ شریعت و حکمتِ شرعیہ کی تشریح و توضیح کرنا، پیدائش سے موت تک کے معاملات میں احکامِ الٰہی بتانا، سب اہلِ مَدْرَسَہ ہی کرتے چلے آرہے ہیں۔ نظامِ قضا کے لئے قاضیوں، ججوں کی فراہمی، حکمرانوں کو احکامِ شرع بتانا، ملکی آئین کی ترتیب و تَبْویب، نظامِ سلطنت کے لئے اخلاقی بنیادوں پر تصنیف و تالیف کرنا اور شاہانِ وقت کو اُن کی تربیت دینا ان ہی فارغینِ مَدْرَسَہ کا شیوہ رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک بڑا دلچسپ سوال کیا جاتا ہے کہ مدرسے کا معاشرے کو کیا فائدہ ہے؟ کوئی فائدہ ہے بھی یا نہیں؟ اس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ اگر معاشرہ مسلمانوں کا ہے، اگر معاشرے کو دِین اور اسلام کی ضرورت ہے، اگر معاشرے کی نظر میں دنیا کے ساتھ آخرت بھی ہے، اگر معاشرے کی نظر میں حلال و حرام کے فرق کی کوئی اہمیت ہے، اگر معاشرے کا خدا اور رسول سے کوئی تعلق ہے، اگر معاشرے کی نظر میں اسلام ہی سچا دین اور اس کی اشاعت و ترویج ایک ذمہ داری ہے، تو پھر مدرسے کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس کے بغیر ایک قدم چلنا بھی مشکل ہے اور اگر معاشرے میں مسلمان نہیں بستے یا معاشرے کو دِین کی حاجت ہی نہیں یا معاشرے کی نظر میں دنیا ہی سب کچھ ہے اور آخرت کوئی چیز نہیں یا اس کی نظر میں حلال و حرام سب برابر ہے، بس اندھی کمائی چاہئے یا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن