دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ilm o Amal | فیضانِ علم و عمل

book_icon
فیضانِ علم و عمل
            
آج کے زمانے میں ترقّی و روشن خیالی کے نام پر جس انداز سے بے حیائی، خودغرضی، آوارگی اور فکری بے راہ روی کا ماحول بنایا جارہا ہے ایسے میں اسلامی درسگاہوں اور جامعات ومدارس کی اہمیت و اِفادیت مزید دوچند ہوجاتی ہے۔ اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو فطری تقاضوں سے بالکل ہم آہنگ اور کُلّی مطابَقت رکھتا ہے۔ یہ جامعات اور مدارس کی صورت میں دراصل اسلامی تعلیمات کی ترجمان ہوتی ہیں۔ *ایک بندۂ خدا کو اپنے معبود کی جانب سے ملنے والے انعام واکرام کی درست شناخت ہونی چاہئے تاکہ بندہ اپنے مالکِ حقیقی کے احسانات کو جان سکے اور اس کے احسانات کو سامنے رکھتے ہوئے سجدۂ شکر بجالائے۔ *ایک اُمّتی کو نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ طیبہ سے متعلّق خاصی معلومات ہونی چاہئیں تاکہ بطورِ ماڈل ان کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی شریعت کے مطابق گزار سکے۔ *بہترین زمانے کے دائرے میں آنے والے اسلام کے اوّلین قافلہ سالار صحابۂ کرام، تابعین وتبع تابعین کے مقدس گوشۂ حیات اور دینِ اسلام کے فروغ و استحکام کے سلسلے میں ان کی بے مثال قربانیوں سے واقفیت بھی ضروری ہے تاکہ اپنے اندر مذہبی بیداری اور وفا شعاری کے معاملے میں ان سے راہنمائی لی جاسکے۔ *مرنے کے بعد شروع ہونے والی زندگی، اصل زندگی ہوتی ہے۔ جہاں انسان اپنے ان کاموں کی جزا اور سزا کا سامنا کرے گا جنہیں اس نے دنیا میں کیا ہوگا۔ اگر انسان سے فکرِآخرت کو نکال لیا جائے تو وہ ایک چلتا پھرتا وحشی درندہ بن جاتا ہے اور وہ اپنے مطلب کو پانے کی خاطر کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ پھر اس کے نتیجے میں جو چوری، ڈکیتی، ظلم وستم اور افراتفری کے ماحول دیکھنے کو ملتے ہیں وہ مستقل بحث کا موضوع ہیں۔ مَدَارِس اور دینی جامعات میں تصوّرِ آخرت کے مفہوم کو اس قدر ذہن نشین کرایا جاتا ہے کہ ایک انسان کا انسانیت پر باقی رہنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور اس طرح ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ *دینی جامعات و مدارس نہ ہوں تو سماج کا ایک بڑا طبقہ نسلوں تک جہالت و پسماندگی کے گہرے غار میں ڈوبا رہ جائے کیونکہ اعلیٰ تعلیمی ادارے اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ ان میں تعلیم حاصل کرنا ہرطبقے والوں کیلئے ممکن نہیں۔ اس کے برعکس عام طور پر مدارس اور دینی جامعات میں عمدہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ بجلی، پانی اور قیام و طعام کی سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں اور ان میں پڑھنے والے طلبہ کی اکثریت ان قوموں پر مشتمل ہوتی ہے جو سماج میں غریب اور پسماندہ ترین سمجھے جاتے ہیں۔ مدارس انہیں فکری اور علمی ہر طرح کی پسماندگی سے نکال کر زمانے میں وقار عطا کرتے ہیں۔ *اسکول وکالج کی تعلیم کا ایک بڑا نقص یہ دیکھا گیا ہے کہ اس کی تعلیم کو کچا بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے علم میں مہارت حاصل کرنے کے لئے وہاں طلبہ کو اپنے تعلیمی ادارے سے ہٹ کر بھی ٹیوشن کے نام پر ایک بھاری فیس چکانی پڑتی ہے۔ جبکہ اہلِ مدارس کے نظامِ تعلیم کی پختگی کا یہ عالَم ہوتا ہے کہ ان طلبہ کو ٹیوشن کے نام پر مزید سرمایہ اور توانائیاں ضائع نہیں کرنی پڑتیں۔ *مدارس اپنے طلبہ کے اندر آپسی ہمدردی کا ایسا اعلیٰ ذوق پیدا کرتے ہیں کہ وہ فراغت کے بعد فری میں بھی نہایت خُلوص کے ساتھ سماجی بہتری کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ زمین پر اہلِ زمین کے لئے مدارس و دینی جامعات کا وجود سراپا خیر و برکت کا سبب ہے، یہ درسگاہیں جہاں انسان کی مذہبی و دینی ضروریات پورا کرتی ہیں، وہیں دنیاوی و سماجی بہتری لانے میں بھی پیش پیش رہتی ہیں۔ اللہ پاک تمام تر مدارسِ اسلامیہ کو عُروج و استحکام بخشے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن