30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کے باوجود اس وقت کے اساتذۂ کرام اور طلبۂ عظام نے کھانے پینے اور رہائش وغیرہ سے متعلق آزمائشوں پر صبر و ہمت سے کام لیااور استقامت کے ساتھ علمِ دین کے اس کاروان کو آگے بڑھاتے چلے گئے۔
امیرِ اہلِ سنّت کی خاص نگاہِ کرم:
امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ ایک علم دوست شخصیت کے مالک ہیں،علَما اور طلبہ سے آپ کی مَحبّت مثالی ہے۔آپ کی صحبت سے علمِ دین کے سوتے پھوٹتے اور حصولِ علم کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔آغاز سے ہی جامعۃُ المدینہ (اُس وقت کے مدرسۃ المدینہ)پر آپ کی خاص نگاہِ کرم تھی۔وقتاً فوقتاً جامعۃُ المدینہ میں تشریف لے جانا یا اپنے گھر پر وقت عطا فرمانا،اساتذہ و طلبہ کی حوصلہ افزائی فرمانا، مشکلات کے حل کی کوشش فرمانا اور ہمت بڑھانا آپ کا معمول تھا۔ آپ اساتذہ کو طلبہ پر شفقت کی تاکید فرماتے جبکہ طلبہ کو استقامت کے ساتھ حصولِ علم کا ذہن دیتے۔
گودھرا کالونی سے گلستانِ جوہر منتقلی:
ابتدا میں چونکہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ اساتذۂ کرام کی کمی تھی اس لئے دیگر سنّی مدارس سے وابستہ بعض علمائے کرام نے بھی جامعۃُ المدینہ میں تدریس فرمائی جبکہ بعض قابل اور محنتی طلبہ نے چھوٹے درجات میں تدریس کا سلسلہ شروع کردیا۔
بعض طلبہ دن کے اوقات میں خود جامعۃُ المدینہ میں پڑھتے اور رات میں سبز مارکیٹ کے جامعۃُ المدینہ میں پڑھاتے، اس طرح رفتہ رفتہ جامعۃُ المدینہ میں درجات اور طلبہ کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ کچھ ہی عرصے بعد اکتوبر 1997ء میں جامعۃُ المدینہ کو گودھرا کالونی سے گلستانِ جوہر منتقل کر دیا گیا جہاں نسبتاً بڑی جگہ دستیاب تھی اور سہولیات بھی قدرے بہتر تھیں۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دنوں درجات کے لحاظ سے الگ الگ نصاب نہیں تھا بلکہ نصاب میں شامل کتابیں مکمل پڑھائی جاتی تھیں، ایک کتاب ختم ہوتی تو پھر دوسری کتاب شروع کی جاتی تھی۔
دیگر شہروں میں جامعۃُ المدینہ کی شاخیں:
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جامعۃُ المدینہ کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔ دعوتِ اسلامی کا مدنی کام چونکہ اُس وقت بھی پاکستان کے اکثر شہروں میں ہورہا تھا اس لئے دیگر شہروں میں بھی اسلامی بھائی علمِ دین کے اس سمندر سے پیاس بجھانے کی تمنا رکھتے تھے۔ آخر کار وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع