30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علاوہ دنیا بھر میں کم و بیش 500مَدارِسُ المدینہ قائم کئے گئے ہیں جن میں 2لاکھ 21 ہزار 834 سے زائد بچّے اور بچّیاں مفت حفظ و ناظرہ قراٰنِ کریم پڑھ رہے ہیں، اب تک پاکستان میں ناظرہ مکمل کرنے والوں کی تعداد 2لاکھ 94 ہزار 307 اور حفظ مکمل کرنے والوں کی تعداد 92 ہزار 47 سے زائد ہے، اس کے ساتھ مَدارِسُ المدینہ بالغان و بالغات بھی ہیں جن کی تعداد اب تک کم و بیش 35 ہزار ہے اور ان میں قراٰن پاک کی تعلیم کے ساتھ طہارت، نماز اور دیگر فرائض کی تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد 2 لاکھ سے زائد جبکہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ باقاعدہ دنیاوی تعلیم دینے کے لئے ملک و بیرونِ ملک دارُالمدینہ کی79برانچز قائم ہوچکی ہیں۔
(2)طلبہ کی خیر خواہی کا نظام:
”طلبہ کو وظائف ملیں کہ خواہی نخواہی گرویدہ ہوں“۔
اَلحمدُلِلّٰہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت رحمۃُ اللہ علیہ کے اس نکتے پر بھی حتّی المقدور عمل کی کوشش کی جارہی ہے، چنانچہ جامعۃُ المدینہ کے تحت ہونے والے مختلف تخصصات میں پڑھنے والے طَلَبہ کو ماہانہ (Monthly) وظیفہ پیش کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ جامعۃُ المدینہ کے رِہائشی طَلَبہ کو قِیام و طَعام کی سَہُولَت فَراہَم کرنے کے ساتھ ساتھ مجلس طبّی علاج کے تحت فِری میڈیکل بھی مُہیّا کیا جاتا ہے۔
(3)مدرّسین کو فکرِ معاش سے آزاد کرنا:
”مدرّسوں کی بیش قرار تنخواہیں ان کی کارروائیوں پر دی جائیں کہ لالچ سے جان توڑ کر کوشش کریں“۔
اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی مذکورہ سوچ اس بات پر مبنی ہے کہ قابل اور محنتی اساتذۂ کرام کے لئے ان کی صلاحیتوں کے مطابق معقول تنخواہیں مقرّر کی جائیں تاکہ اساتذۂ کرام فکرِ معاش سے آزاد ہو کر خالصتاً اللہ ربُّ العزت کے دین کی سر بلندی کے لئے طلبہ کو محنت اور جانفشانی کے ساتھ علمِ دین کی خوبیوں سے مزیّن کریں۔ اَلحمدُلِلّٰہ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کے اسی مدنی پھول کے تناظر میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام جامعاتُ المدینہ و مَدارِسُ المدینہ کے مُدرِّسین و مُدرِّسات کو ماہانہ معقول مُشاہرہ (Salary) پیش کرنے کے ساتھ ساتھ رَمَضانُ المُبارَک میں بونس (Bonus) اور سالانہ مقرّرہ چھٹیاں نہ کرنے کی صورت میں ہر چھ مہینے بعد لِیوانکیشمنٹ (Leave Encashment) بھی دیا جاتا ہے۔ نیز مجلس جامعۃُ المدینہ کی تعلیمی اور انتظامی اُمور نے مل کر گریڈنگ سسٹم کا نفاذ کیا ہےکہ جس کے ذریعے اساتذۂ کرام اپنی صلاحیتوں کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع