30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جامعات المدینہ گرلز کا تعلیمی نظام
بنت نعیم عطاریہ مدنیہ
کسی بھی تعلیمی ادارے کی کامیابی کا اِنحصار اُس کے عمدہ اور بہترین تعلیمی نظام پر ہوتا ہے جس کے ذریعے ادارہ شب و روز ترقّی کی منازِل طے کرتا ہے اور علم کی دُنیا میں ایک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے۔ بنیادی طور پر نظامِ تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے تین اُمور پر توجّہ رکھنا بےحد ضروری ہے:(1)تعلیمی نصاب (2)اساتذہ اور (3)طلبہ۔
تعلیمی نصاب
کامیاب تعلیمی ادارے کی ایک کڑی ”تعلیمی نصاب“ ہے۔ نصاب جنتا عمدہ اور بہتر ہوگا طلبہ میں اس قدر صلاحیتیں بیدار ہوں گی۔ لہٰذا جامعۃُ المدینہ گرلز کے لئے ایسا تعلیمی نصاب مقرّر کیا جاتا ہے جو علم میں بڑھوتری اور عمل کی اصلاح پر مشتمل ہوتا ہے اس میں مختلف عُلوم و فُنون مثلاً تفسیر و اُصولِ تفسیر، حدیث و اُصولِ حدیث، فقہ و اُصولِ فقہ، عقائد و علمُ الکلام، عربی گرامر کے لئے علمِ صرف و علمِ نحو اور عربی بول چال سیکھنے کے لئے لغۃُ العربیہ کی کتابیں شامل ہیں۔ انہیں پڑھ کر طالبات کے لئے عربی لکھنا پڑھنا اور بولنا کافی حد تک آسان ہو جاتا ہے اور دینی معلومات کا ذخیرہ ہاتھ آنے کے ساتھ ساتھ اپنی ضرورت کے مسائلِ دینی بھی کافی حد تک حاصل ہوجاتے ہیں۔ فی زمانہ جستجوئے علم کی کمی اور دین سیکھنے کے لئے قِلّتِ وقت کے باعث طالبات کو مختلف عُلوم و فُنون کی چند کتابیں چِیدہ چِیدہ مقامات سے پڑھا کر انہیں عُلوم و فُنون کے سمندر سے موتی تلاش کرنا سکھا دیا جاتا ہے جس کے ذریعے ان کے لئے مزید علم حاصل کرنا کافی حد تک آسان ہو جاتا ہے۔ نیز طالبات کو تعلیمی نصاب کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے جن کے ذریعے طالبات اپنی تعلیمی سرگرمیاں دیگر شعبہ جات میں بھی جاری رکھ سکتی ہیں۔ نیزطالبات کو مختلف ممالک کی قومی زبانوں میں درس و تدریس کرنے کے لئے لینگویج کورس کرنے اور کُتب و رَسائل تصنیف و تحریر کرنے کی ترغیب بھی دلائی جاتی ہے۔ الغرض تعلیمی نصاب کو ترتیب دیتے ہوئے مقصدِ تعلیم کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے تاکہ طالبات سیرت و کردار کا بہترین نگینہ بن سکیں۔
ترقی کی طرف ایک اور قدم
جدید دور کے تقاضوں کے مطابق طالبات میں مزید صلاحیتیں اُجاگر کرنے اور دینی شعبوں کے ساتھ دنیاوی شعبہ جات میں بھی شریعت کے مطابق کام کر سکیں اس کے لئے 6thکلاس سے F.Aتک کے دنیاوی علوم بھی پڑھائے جائیں گے، اِن شآءَ اللہ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع