30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے وابستہ ہوئے تو حفظِ قراٰن کی سعادت پائی۔ اس کے بعد اسی مدرسے میں بطورِ قاری صاحب تدریس شروع کر دی۔ علمِ دین کا شوق بھی تھا،بہارِ شریعت خرید کر مسائل سیکھنا شروع کئے، لیکن علم کا ذوق تو ایسی شے ہے کہ اسے جتنا سیکھو، مزید سیکھنے کی طلب پیدا ہوتی جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ان کے ساتھ بھی ہوا۔ چنانچہ یہ ذہن بنایا کہ مدرسۃُ المدینہ کی تدریس موقوف کرکے باقاعدہ علمِ دین سیکھا جائے، لیکن والد صاحب کو راضی کرنے کا مرحلہ باقی تھا۔ بھائی جان اور دیگر ذمّہ دار اسلامی بھائیوں نے اس موقع پر تعاون کیا اور والدِ محترم راضی ہوئے۔ ساڑھے تین سال مدرسۃُ المدینہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دینے کے بعد 1998ء میں عازمِ کراچی ہوئے اور جامعۃُ المدینہ گلستانِ جوہر میں داخلہ لیا۔
درسِ نظامی مکمل کرنے کے بعد تخصص فی الفقہ کیا، فیصل آباد میں دارُالافتاء اہلِ سنّت کی شاخ شروع ہوئی تو وہاں تشریف لے گئے۔آج کل دورۂ حدیث شریف اور تخصص فِی الفقہ میں تدریس بھی فرماتے ہیں۔
ایسوسی ایٹ انجینئر، استاذُ الحدیث بن گئے:
مولانا کامران عطّاری مدنی (کراچی) جامعۃُ المدینہ کے فاضل ہیں، الیکٹرک شعبے میں ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کا ڈپلومہ کیا۔ اس دوران بزنس بھی شروع کر لیا، مستقبل کے بارے میں مختلف خواب سجائے یہ سفر جاری تھا کہ ایک ایسے مستقبل کو انہوں نے اپنے دل کی دنیا میں جگہ دے دی جس نے انہیں شاہراہِ علم ِ دین پر چلا دیا، ہوا کچھ یوں کہ ان کے علاقے کے ایک اسلامی بھائی نے ان پر انفرادی کوشش کی اور انہیں بتایا کہ دعوتِ اسلامی نے رات کے اوقات میں درسِ نظامی کا آغاز کیاہے اور یوں ڈپلومہ مکمل ہونے کے تقریباً 8 ماہ بعد انہوں نے علمِ دین کے حُصول کا آغاز کرلیا۔ والد صاحب کے اِصرار پر ڈپلومہ مکمل ہونے کے بعد مختلف اداروں میں جاب کیلئے اپلائی بھی کردیا۔ ایک مشہور ادارے سے جاب لیٹر بھی آگیا لیکن اب ان کا ارادہ بدل چکا تھا، اب خدمتِ دین کا جذبہ پیشِ نظر تھا، اس لئے حکمتِ عملی کے ساتھ امّی جان کے ذریعے ابّو جان کو اس پر راضی کر لیا کہ پہلے علمِ دین کی تکمیل ہو جائے، اس کے بعد جاب کے بارے میں سوچیں گے۔ درسِ نظامی مکمل ہوتے ہی تدریس کا آغاز کر دیا، ترقی کرتے کرتے دورۂ حدیث شریف کے استاد بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ المدینۃُ العلمیہ (اسلامک ریسرچ سینٹر) سے بھی وابستہ ہوگئے۔ اب تک کئی درسی کُتب پر حواشی تحریر کر چکے ہیں اور تدریس و تحریر کے ذریعے دینِ اسلام کی خدمت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔
سرکاری ملازمت کے بجائے تدریس:
اسی سے ملتی جلتی داستان مولانا اسد عطّاری مدنی صاحب کی ہے۔ کاروباری خاندان سے تعلّق تھا، یہ بھی ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کا ڈپلومہ کر چکے تھے۔ جاب کے لئے اپلائی کیا جا چکا تھا، دعوتِ اسلامی کی تنظیمی ذمّہ داری بھی تھی، علم ِ دین کے فضائل سُن سُن کر درسِ نظامی کے لئے تیار ہوئے۔ خاندان کے طریقۂ کار کے برعکس اس فیلڈ کا انتخاب اچّھا خاصا آزمائش والا تھا، آخر کار 1999ء میں علم ِ دین سیکھنے کے سفر کا آغاز کیا، 2007ء میں تکمیل ہوئی۔
والد صاحب کی طر ف سے پیغام ملا کہ آپ نے علمِ دین تو سیکھ لیا اب کسی سرکاری ادارے میں جاب کے لئے اپلائی کر دیں۔ فیملی بیک گراؤنڈ کے اعتبار سے کئی قریبی رشتہ دار اچھے سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔ ان کی طرف سے بھی سرکاری ملازمت کا دباؤ تھا۔ لیکن انہوں نے سرکاری ملازمَت جس کے لئے لوگ لاکھوں جتن کرتے ہیں، اس کی بجائے سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لائے ہوئے مبارک دین کے علم کی تدریس کی خدمت کو اختیار کیا۔ اسی دوران بڑے بھائی جو امریکہ میں رہتے تھے، ان کی طرف سے آفر آگئی کہ میں آپ کو امریکہ بلوا رہا ہوں، یہاں آکر کچھ کام کاج کر لینا، لیکن خدمتِ دین کے جذبے سے سرشار انہوں نے کہا کہ میں نے جو پڑھا ہے اسے پڑھانا چاہتا ہوں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع