30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یوں بدلتے ہیں بدلنے والے
مولانا عرفان حفیظ عطاری مدنی
(رکن مجلس جامعۃ المدینہ گرلز)
نگاہِ مردِ مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں:
دیال گڑھ (ضلع گورداس پور) سے ایک نوجوان F-A کا امتحان دینے کے لئے لاہور آیا۔ ”دارُالعُلوم حِزبُ الاَحناف“ کا سالانہ اجلاس ہونے والا تھا۔ دین سے محَبّت کے باعث وہ نوجوان بھی اس اجلاس میں جا پہنچا۔ دورانِ جلسہ ایک عالم صاحب نے ”شہرِ بریلی“ سے آنے والی ایک عظیم شخصیت کا تعارف کچھ اس انداز سے کروایا کہ یہ نوجوان بغیر دیکھے ہی ان کی زیارت کا مشتاق ہوگیا۔ بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور نوجوان نے اس عظیم ہستی کی زیارت کا شرف پایا جنہیں ”حجۃُ الاسلام“ کہا جاتا تھا۔ اللہ کے نیک بندے پر نگاہ پڑتے ہی اس نوجوان کے دل کی دنیا زیر و زبر ہوگئی اور اس نے تہیہ کر لیا کہ اب مجھے F-A نہیں کرنا بلکہ علمِ دین حاصل کرنا ہے، اسی عزمِ مصمّم کے ساتھ وہ نوجوان اس ”معزّز شخصیت“ کے ہمراہ بریلی شریف پہنچا، عُلومِ دینیہ حاصل کئے، وطن لوٹا اور علم کے موتی اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبّت کے جام لٹانے شروع کئے۔ان کی تدریس کی بہت شہرت ہوئی اور بڑے بڑے عُلما ان کے شاگرد یا شاگردوں کے شاگر د بنے۔
(حیاتِ محدثِ اعظم ملخصاً، ص33)
محترم قارئین! یہ واقعہ محدثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمۃُ اللہ علیہ کا ہے، شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حجۃُ الاسلام مولانا حامد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کی زیارت نے انہیں حُصولِ علمِ دین کی طرف پھیر دیا۔ تاریخِ اسلامی میں کئی علمائے کرام کے ایسے واقعات ملتے ہیں جو پہلے دینی علم کی طرف مائل نہیں تھے لیکن ایک لمحہ ایسا آیا جو ان کیلئے Turning Point ثابت ہوا اور وہ دیگر مشاغِل ترک کر کے علمِ دین کے حصول میں لگ گئے۔
کچھ لوگ علمِ دین سیکھنے کے بعد دنیاوی فیلڈ کا رخ کرتے ہیں لیکن کچھ بندگانِ خدا ایسے بھی ہیں جن کے سامنے دنیاوی طور پر ایک روشن مستقبل تھا۔ ان کے پاس دنیاوی تعلیم اور اس کی ڈگری بھی تھی۔ وہ اگر چاہتے تو اچّھی جگہ ملازمَت کر کے زندگی گزار سکتےتھے، لیکن علمِ دین کی مَحبت کے سبب انہوں نے اس زندگی کو خیر آباد کہا اوردین کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے فیضان سے جامعۃُ المدینہ میں عاشقانِ رسول کے ایسے کئی واقعات سننے کو ملتے ہیں کہ جب وہ تعلیم و تعلّم کی طرف آئے تو اسی کے ہو کر رہ گئے ان میں سے کچھ منتخب علمائے کرام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع