30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درسِ نظامی مکمّل کر لیا ہے اور دوسرا دورۂ حدیث شر یف یعنی آخری کلاس میں پڑھ رہا ہے، اس کے علاوہ میرے ماموں نے اپنے دو بیٹوں کو جامعۃُ المدینہ میں داخل کروایا اور ایک کو حافظ بنایا۔ خالہ نے بھی اپنے تین بیٹوں کو حفظ کروایا اور دو کو جامعۃُ المدینہ میں داخل کروایا نیز ہمارے چاچاجان نے بھی اپنے ایک بیٹے کو حفظ میں داخلہ دلوادیا۔ اَلحمدُلِلّٰہ یہ سب جامعۃُ المدینہ کی برکات ہیں۔
5بھائی مدنی عُلما بنے:
غلام جیلانی رضا عطّاری مدنی (مدرّس جامعۃُ المدینہ فیضانِ عثمانِ غنی گلستانِ جوہر کراچی) کا بیان ہے کہ ہم 9بھائی ہیں، ایک بھائی کی کوشش سے ہم پانچ بھائی جامعۃُ المدینہ میں داخل ہوئے۔ جامعۃُ المدینہ کی برکت سے ہمارا پورا گھر عطّاری بن گیا اور اہلِ علاقہ بھی ہر سال اپنے بچّوں کو ہمارے ساتھ جامعۃُ المدینہ میں پڑھنے کے لئے بھیجنے لگے، اَلحمدُلِلّٰہ ان میں سے بعض فارغُ التحصیل ہوچکے ہیں،ہمارے خاندان میں بھی کئی افراد مدنی بننے کا شرف حاصل کر چکے ہیں، بھانجے اور دیگر رشتے دار بھی جامعۃُ المدینہ میں پڑھ رہے ہیں، بھانجیاں جامعۃُ المدینہ للبنات سے فارغ التحصیل ہو کر جامعۃُ المدینہ للبنات میں پڑھا رہی ہیں، علاقے میں بھی اَلحمدُلِلّٰہ جامعۃُ المدینہ للبنات اور مدرسۃُ المدینہ اور فیضانِ مدینہ قائم ہوچکا ہے۔ اس وقت اَلحمدُلِلّٰہ ہم پانچ بھائی مدنی ہیں، ان میں سےدو دارُالافتاء اہلِ سنّت میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور تین بھائی جامعۃُ المدینہ میں پڑھا رہے ہیں، یہ سب جامعۃُ المدینہ کی برکت ہے۔
خاندان کے2اسلامی بھائیوں نے درسِ نظامی کیا:
غلام مرتضیٰ عطّاری مدنی بن امام بخش (مدرّس جامعۃ المدینہ فیضانِ عشقِ رسول، کریم آباد، کراچی) کا بیان ہے کہ جامعۃُ المدینہ میں درسِ نظامی مکمّل کرنے سے ہمارے خاندان کے لوگوں کا درسِ نظامی کرنے کا ذہن بنا۔ اَلحمدُلِلّٰہ میرے بعد خاندان کے دو اسلامی بھائی درسِ نظامی مکمّل کرچکے ہیں جبکہ اس وقت ایک درجۂ سابعہ اور ایک درجہ اولیٰ میں اپنی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کئی رشتے داروں کو دینی ماحول ملا:
قربان عطّاری مدنی (جامعۃُ المدینہ فیضانِ بہارِ مدینہ کراچی) کا کہنا ہے کہ اَلحمدُلِلّٰہ جامعۃُ المدینہ میں داخلہ لینے کی برکت سے علاقے میں بدعقیدگی کو مات ہوئی اور کئی رشتہ دار دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول اور جامعۃُ المدینہ سے وابستہ ہوئے۔ اس وقت تقریباً 7اسلامی بھائی جامعۃُ المدینہ میں پڑھنے پڑھانے میں مصروف ہیں۔
گاؤں میں بچّوں کو دینی تعلیم دلانے کا رجحان بنا:
محمود علی (مدرّس جامعۃُ المدینہ فیضانِ عثمانِ غنی، گلستانِ جوہر کراچی) کا بیان ہے کہ اَلحمدُلِلّٰہ میں اپنے گاؤں میں پہلا شخص ہوں جو جامعۃُ المدینہ میں مدنی بنا، میرے بعد گاؤں کے لوگوں کا اپنے بچّوں کو دینی تعلیم دینے کا رجحان بنا، میں اپنے گاؤں کے7اسلامی بھائیوں کو مدرسۃُ المدینہ میں داخلہ دلا کر حافظِ قراٰن بنانے کی سعادت حاصل کر چکا ہوں اور مزید 3 بچّوں کو مدرسۃُ المدینہ میں داخل کروایا ہے، 4اسلامی بھائیوں کو جامعۃُ المدینہ میں بھی داخل کروایا ہے جن میں سے ایک اسلامی بھائی درجۂ سادسہ اور 3 اسلامی بھائی درجۂ اولیٰ میں پڑھ رہے ہیں۔
خاندان کے 6بچّوں نے داخلہ لیا:
سردار احمد مدنی کا بیان ہے کہ میرا تعلّق راولاکوٹ کشمیر سے ہے۔ میں اپنے خاندان اور علاقے سے سب سے پہلے جامعۃُ المدینہ میں پڑھنے کے لئے آیا، مجھے دیکھ کر اہلِ علاقہ اور خاندان کے لوگوں کا اپنے بچّوں کو جامعۃُ المدینہ میں داخلہ دلوانے کا ذہن بنا، اَلحمدُلِلّٰہ جامعۃُ المدینہ کے فیضان سے اس وقت میرے تین کزن اور ایک ماموں کا بیٹا مدنی بن چکا ہے، ہمارے علاقے میں مدنیوں کی ایک تعداد ہے۔ اَلحمدُلِلّٰہ کشمیر ”دو تھان“ میں بھی جامعۃُ المدینہ کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ جامعاتُ المدینہ کا فیضان ہے کہ جگہ جگہ علم کے پیاسوں کو سیراب کیا جارہا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع