30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عطاری مدنی (مدرّس جامعۃُ المدینہ کلور کوٹ، زمے والا، بھکر) کہتے ہیں کہ میں نے ستمبر2011ء میں جامعۃُ المدینہ میں داخلہ لیا، ابتداءً پورا خاندان مجھے جامعۃُ المدینہ میں داخل کروانے کے حق میں نہیں تھا حتی کہ میرے والد صاحب اس حد تک اس کے مخالف تھے کہ انہوں نے اولاً تو مجھے اجازت ہی نہیں دی لیکن میرے ضد کرنے اور والدہ کا ساتھ دینے سے جب ان کی طرف سے مجھے اجازت ملی تو انہوں نے داخلے کے لئے بھائیوں کو بھی میرے ساتھ جانے سے منع کردیا، میں اکیلا ایک اسلامی بھائی کے ساتھ جامعۃُ المدینہ پہنچا اور داخل ہوگیا، اَلحمدُلِلّٰہ جامعۃُ المدینہ کے مدنی ماحول کی برکت سے میرے اَخلاق و کردار میں ایسی تبدیلیاں آئیں کہ جنہیں دیکھ کر والد صاحب دعوتِ اسلامی اور امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے شیدائی اور پابندی سے مسجد میں جاکر نمازیں ادا کرنے والے بن گئے،محلّے کی چھوٹی مسجد کی توسیع اور تعمیر میں بھی انہوں نے خود حصّہ لیا، مدنی چینل پر نشر ہونے والے سلسلے شوق سے دیکھنا ان کا معمول بن گیا۔ نیز دیگر گھروالوں کی مخالَفت بھی مَحبّت میں بدل گئی۔ 2019ء میں میری فراغت ہوئی اور اس کے بعد جامعۃُ المدینہ لیّہ میں میری تدریس کی ترکیب بن گئی، وہاں میں نے بطورِ ناظم و مدرّس 15 مہینے پڑھایا، اس کے بعد میرے اپنے ہی علاقے ”کلور کوٹ“ میں نئے جامعۃُ المدینہ کا آغاز ہوا تو میں یہاں پر استاد اور ناظم بن کر آگیا،جامعۃُ المدینہ کی برکت سے میرے علاقے سے چند اسلامی بھائیوں نے درسِ نظامی میں داخلہ لیا، ایک اسلامی بھائی درجۂ خامسہ میں ہے اور ایک اسلامی بھائی درسِ نظامی مکمّل کر چکے ہیں۔ اس وقت بھی میرے علاقے سے تین اسلامی بھائی جامعۃُ المدینہ میں پڑھ رہے ہیں، اَلحمدُلِلّٰہ علاقے میں دعوتِ اسلامی کا دینی کام بھی بڑھا ہے اور جامعۃُ المدینہ کی تعمیرات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ ایک اچّھی خاصی تعداد جامعۃُ المدینہ کا رُخ کررہی ہے۔ یہ سب جامعۃُ المدینہ میں پڑھنے اور اس سے تربیت حاصل کرنے کا ثمرہ ہے۔
بدمذہبیت سے توبہ:
جامعاتُ المدینہ کا آغاز ہونے کی برکت سے جہاں عاشقانِ رسول علمِ دین کے نور سے منوّر ہو رہے ہیں، وہیں بدمذہب بھی تائب ہوکر اپنے بچّوں کو جامعۃُ المدینہ میں داخل کروا رہے ہیں، چنانچہ ذیشان عطّاری مدنی کا بیان ہے کہ اَلحمدُ لِلّٰہ جامعۃُ المدینہ میں درسِ نظامی (عالم) کورس مکمّل کرنے کی برکت سے گھر اور خاندان کے افراد نہ صرف مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے بلکہ والدین نے میرے چھوٹے بھائی کو بھی عالم بننے کےلئے جامعۃُ المدینہ میں داخلہ دلوایا۔ اس کے علاوہ اہلِ محلّہ میں سے بعض بدمذہبوں نے بھی اپنی بد مذہبیت سے توبہ کی ہے اور اپنے بچّوں کو عالم کورس کروانے کےلئے جامعۃُ المدینہ کا انتخاب کرلیا ہے۔
جامعۃُ المدینہ میں بچّوں کو پڑھانے کا رجحان:
جب کسی خاندان کا کوئی ایک بچّہ علم کی دولت سے مالامال ہونے کے لئے جامعۃُ المدینہ کی سنّتوں بھری فضاؤں میں داخل ہوتا ہے تو اس کی برکت سے خاندان اور علاقے کے دیگر بچّوں کا بھی جامعۃُ المدینہ میں داخل ہوکر علم کی کرنوں سے روشن ہونے کا دینی ذہن بن جاتا ہے، آئیے جامعۃُ المدینہ کی ایسی ہی چند بہاریں ملاحظہ کرتے ہیں:
خاندان کے 6بچّوں نے داخلہ لیا:
رضا مدنی بن عطا محمد خاصخیلی (کھارادر کراچی) کا بیان ہے کہ اَلحمدُلِلّٰہ جامعۃُ المدینہ میں درسِ نظامی کرنے سے ہمارے خاندان کے تقریباً چھ بچّوں نے جامعۃُ المدینہ میں داخلہ لیا، جن میں سے دو فارغُ التحصیل ہوکر اپنے علاقوں میں اِمامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ نیز پہلے خاندان والے دعوتِ اسلامی کے کچھ مخالف تھے مگر اب اس میں بہت فرق آچکا ہے۔
خاندان میں حُفّاظ و مدنی عُلما کی بہار:
محمد سلمان مدنی کا بیان ہے کہ میرا تعلّق سرگودھا کے ایک گاؤں ”وزیلی“ سے ہے، جامعۃُ المدینہ میں آنے کے بعد میرے دو چھوٹے بھائیوں نے بھی جامعۃُ المدینہ میں داخلہ لیا، اَلحمدُلِلّٰہ اس وقت ایک نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع