30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نگرانِ پاکستان انتظامی کابینہ رکنِ شوریٰ حاجی محمد شاہد عطاری کا پیغام
آج سے کم و بیش بارہ، پندرہ سال پہلے دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا مشورہ جاری تھا۔اس مدنی مشورے میں یہ بات زیرِ بحث آئی کہ جامعاتُ المدینہ کو دعو تِ اسلامی کے تنظیمی نیٹ ورک کے ساتھ چلایا جائے یا اس کی الگ سے کوئی ترکیب بنائی جائے۔ مسئلہ یہ تھا کہ دعوتِ اسلامی کی اصل توجہ 12دینی کاموں یعنی مدنی قافلہ، مدنی انعامات (نیک اعمال) وغیرہ پر تھی، ان سب کے ساتھ جامعاتُ المدینہ کا نظام چلانا ایک دشوار معاملہ تھا۔
آخر طے پایا کہ یہ ایک نہایت اہم فیصلہ ہے لہٰذا ہم شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی بارگاہ میں حاضری دے کر راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ان دنوں امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی رہائش عالمی مدنی مرکز کے قریبی علاقے پیر الٰہی بخش کالونی (PIB Colony) میں تھی۔ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ معاملہ پیش کیا تو آپ نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ارشاد فرمایا: میری خواہش تو یہ ہے کہ گلی گلی میں جامعۃُ المدینہ ہونا چاہئے۔
ایک ولیِ کامل کی مبارک زبان سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ اَلحمدُلِلّٰہ! اس کے بعد جامعۃ ُ المدینہ کے نظام میں دن بدن ترقی ہوتی چلی گئی اور گویا جامعاتُ المدینہ کی لائن لگ گئی۔ ہم نے اپنے بیانات اور مدنی مشوروں وغیرہ میں بھی جامعاتُ المدینہ کی ترغیبات دینا شروع کردیں۔
سِن 2000ء میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ بنی تو اس وقت چار، پانچ جامعۃُ المدینہ ہوں گے مگر اس کے بعد تیز رفتاری سے جامعاتُ المدینہ کھلنا شروع ہوگئے اور آج ان کی تعداد آپ کے سامنے ہے۔
دعوتِ اسلامی میں پاکستان سطح کے خادم کی حیثیت سے میری یہ خواہش ہے کہ ہر تنظیمی ڈویژن میں کم از کم ایک جامعۃُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع