30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری کا پیغام
اللہ پاک کےآخری نبی حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک نے حضرت سیّدُنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: ”اے ابراہیم! میں علیم ہوں اور ہر علیم یعنی علم والے کو پسند کرتا ہوں۔“(احیاء العلوم، 1/21)
اللہ پاک کی رحمت سے دعوتِ اسلامی مختلف ذرائع سے لوگوں کوعلم سکھا کر انہیں اپنے رب کا پیارا بنانے میں مصروفِ عمل ہے۔ میرے شیخِ طریقت، امیرِ اہل سنّت، حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی نظرِعنایت سےدعوتِ اسلامی کےتحت علمِ دین عام کرنے اور لوگوں کو اللہ کا پیارا بنانے کے جہاں دیگر بہت سے کام شروع کئے گئے وہیں ایک بڑا ہی اہم اور زَبردست قدم 1994ء میں ”جامعۃُ المدینہ“ کے قیام کے متعلق بھی اٹھایا گیا، اللہ پاک کی رحمت سے اس کی برانچز بڑھتی ہی جارہی ہیں، یہ ادارہ اب تک امت کوہزاروں علما دے چکا ہے اور علما کی ایک شان یہ بھی ہے کہ یہ مقدس افراد لوگوں پر ان کے ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان ہوتے ہیں جیساکہ حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن معاذ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتےہیں: علما اس اُمت پر ماں باپ سے زیادہ مہربان ہیں۔ پوچھا گیا: وہ کیسے؟ فرمایا: اس لئے کہ ماں باپ دنیا کی آگ سے محفوظ رکھتے ہیں جبکہ علما انہیں آخرت کی آگ سے بچانے کا کام کرتے ہیں۔(احیاء العلوم ،1/28)
اللہ پاک کے کرم سےاب بھی جامعاتُ المدینہ کی مختلف برانچز میں ہزاروں طلبہ زیرِتعلیم ہیں۔
میرے شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے فرمان کے مطابق کہ ”دعوتِ اسلامی جب سے بنی ہے تب سے ایک سیکنڈ کے لئے بھی پیچھے نہیں ہٹی بلکہ اس کا کوچ جاری ہے“ یوں ہی دعوتِ اسلامی کےتحت چلنے والا یہ ادارہ ”جامعۃُ المدینہ“ بھی جب سے وُجود میں آیا ہے تب سے اسے ترقی پر ترقیاں ہی نصیب ہورہی ہیں۔ ماضی میں مدارسِ اہلِ سنّت کے بورڈ ”تنظیمُ المدارس“ کے تحت جامعاتُ المدینہ کے طلبہ کے امتحانات کا سلسلہ رہا ہے اور طلبہ ان میں شریک ہوکر نمایاں پوزیشنز بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ 2021ء میں جامعاتُ المدینہ کا ترقی کی جانب ایک اور قدم اس طرح بڑھا کہ گورنمنٹ نے مدارسِ دینیہ کے کئی بورڈ بنا ئے۔ اس موقع پر اللہ کی رحمت سے دعوتِ اسلامی کے بورڈ بنام ”کنزُ المدارس“ کا قیام بھی عمل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع