30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
40، گونگے، بہروں کے لئے 27، قیدیوں کے لئے 52 اور حج و عمرہ پر جانے والوں کے لئے 19 سوالات ہیں جو شرعی، روحانی، اخلاقی اور تربیتی اصلاح و درستی پر مشتمل ہوتے ہیں۔
(5)شعبہ امورِ اجارہ اور گریڈنگ
کسی شعبے کی ترقّی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے کارکنان اپنی صلاحیت و قابلیت میں مسلسل اضافہ کرتے رہیں، اساتذہ کے لئے بھی سپرد کئے گئے فنون میں قابلیت کے ساتھ اپنی معلومات کو بڑھاتے رہنا ضروری ہے جس کی ترغیب و تحریک کا نظام گریڈنگ ہے، اساتذہ اور دیگر اسٹاف کو وقتِ اجارہ مخصوص گریڈ دیا جاتا ہے پھر کم از کم دو سال کی مدّت گزرنے پر اجیر مقرّرہ نظام کے مطابق اپنا گریڈ بڑھا سکتا ہے، دونوں سالوں کے لئے چند کتابوں پر مشتمل نصاب ہوتا ہے جن کا مطالعہ کرکے ہر کتاب سے 26 نکات لکھنے ہوتے ہیں، اساتذہ کے لئے درسی اور غیر درسی عقائد و معمولاتِ اہلِ سنّت، فقہ و اِفتا پر مشتمل کتابیں ہوتی ہیں گریڈ 12 اور 13 میں تحریری اور تقریری امتحان بھی ہوتا ہے، اس کے بعد صرف اسائمینٹ لکھنے ہوتے ہیں اور دیگر اسٹاف کیلئے ان کے شعبے سے متعلق مثلاً حلال طریقے سے روزی کمانے کے مسائل، وقف کی شرعی احتیاطیں، حقوقُ العباد، اصلاحِ اعمال پر مشتمل کتابیں مطالعہ کرکے 26 نکات لکھنے ہوتے ہیں جن کو چیک کرنے کے بعد بنیادی مشاہرے میں اضافہ کر دیا جاتا ہے لیکن ان کا تحریری یا تقریری امتحان نہیں ہوتا۔ اسٹاف کی تقرری اور تبادلے کا نظام مجلس ہی دیکھتی ہے لیکن معزولی اِفتا مکتب کی اجازت سے ہی ہو سکتی ہے۔
(6)شعبۂ امتحان
تعلیم کے مطلوبہ مقاصد کے حصول میں کامیابی کا تناسب کیا رہا یہ جاننے کے لئے صاف شفاف امتحانی نظام ضروری ہوتا ہے۔ طلبہ میں علمی پختگی، گِیرائی و گہرائی، چستی، نظم و ضبط اور صالح افراد کی تیاری کے لئے بھی امتحان ناگزیر ہیں۔ شعبۂ امتحان دعوتِ اسلامی کے جامعات میں ہونے والے ششماہی و سالانہ امتحان کا نظام دیکھتا ہے۔
امتحانی فارم، پرچوں کی تیاری، نگرانِ امتحان کا تقرّر:
طلبہ سے امتحانی فارم بھروانا، اساتذہ سے امتحانی پرچے تیار کرانا، کمپوزنگ، ری چیکنگ، پرنٹنگ کے بعد وقتِ متعین سے پہلے تمام جامعاتُ المدینہ تک ان کی ترسیل، نگرانِ امتحان کا جو دوسرے جامعہ سے ہوتے ہیں تقرر وغیرہ مختلف مراحل ہوتے ہیں۔
امتحانی مراکز کا قیام:
امتحان کے بعد کاپی چیکنگ کیلئے امتحانی مراکز اور اساتذہ کا تقرر اور دیگر لوازمات کی فراہمی کرنی ہوتی ہے۔ سارے جامعات کے لئے ایک جیسے ہی پرچے بنتے ہیں اور کاپیاں بھی صرف امتحانی مراکز میں چیک ہوتی ہیں یہ امتحانی مراکز دس یا اس سے زائد جامعاتُ المدینہ پر بنائے جاتے ہیں جہاں متعلقہ جامعات کی کاپیاں پہنچادی جاتی ہیں۔
مفتش کا تقرر:
امتحانی مراکز میں حسبِ ضرورت ایک یا چند اساتذہ مفتش ہوتے ہیں جو اساتذہ کی چیک کردہ کاپیوں کو ری چیک کرکے ضروری مشورہ دیتے ہیں۔ اس کے بعد رزلٹ کی تیاری اور نمایاں طلبہ و جامعات کی لسٹ بنائی جاتی ہے۔
ری چیکنگ:
اگر کوئی طالبِ علم اپنے رزلٹ سے مطمئن نہیں ہوتا تو متعین فیس کے ساتھ درخواست دے کر کاپیاں دوبارہ چیک کروا سکتا ہے۔ اگر طالبِ علم کی غلطی نہیں ہوئی تو فیس واپس کر دی جاتی ہے۔
ضمنی امتحان:
اس کے بعد ضمنی امتحان کا مرحلہ ہوتا ہے جس میں ایک یا دو لیکن تین سے کم مضامین میں ناکام ہونے والے طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے کا موقع دیا جاتا ہے جس کا تقریباً سارا نظام سالانہ امتحان کی طرح ہوتا ہے۔
رزلٹ:
ہر درجے میں طالبِ علم کو خوبصورت اور مضبوط پیپر پر چھپا ہوا رزلٹ کارڈ دیا جاتا ہے۔ اسی کی بنیاد پر آئندہ امتحان کا فارم بھرا جاسکتا ہے۔
مُثَنّٰی:
رزلٹ کارڈ، سند میں کسی کمی کی صورت میں طالبِ علم درخواست دے کر اسے دُرست کروا سکتا ہے اس کے علاوہ مختلف سرٹیفیکیٹ، تصدیق ناموں کا اجرا، دستارِ فضیلت، قانونی معاملات، رجسٹریشن وغیرہ کے کام پورے سال کسی نہ کسی شکل میں چلتے رہتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع