30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جامعۃُ المدینہ سے میری وابستگی اس وقت سے ہے جب اس ادارے کا نام مدرسۃُ المدینہ ہوا کرتا تھا اور نیو کراچی گودھرا کالونی میں اس کی نئی رہائشی کلاس کا آغاز ہوا تھا۔ میں اُن لمحات کو زندگی بھر نہیں بُھلا سکتا جب سِن 1996ء کے جون کے مہینے میں بارش والی رات کو میری والدہ نے بھیگی پلکوں کے ساتھ مجھے تعلیم حاصل کرنے کے لئے کراچی بھیجتے ہوئے مجھے اَلوادع کیا تھا۔ مجھے بے حد خوشی اس بات کی تھی کہ مجھے بڑی مشکل سے اجازت ملی تھی اور والدہ سے جُدا ہوتے وقت میری آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔علی الصبح جب میں اپنے شہر سے روانہ ہو کر گودھرا کالونی میں واقع ادارے میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ ایک روز پہلے ہی یعنی 19 جون 1996ء کو ہی نئی کلاس کا آغاز ہو چکا ہے۔پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا کہ شوّال کے مہینے سے ہی کلاس کے شروع ہونے کا التزام ہو۔ کلاس کا شروع ہونا میرے لئے نیک شگون ثابت ہوا کیونکہ میں نے اپنی سہولت کے اعتبار سے کراچی آنے کا پلان کیا ہوا تھا کہ مجھے FSC کے امتحانات دینے کا انتظار بھی تھا اور اسی ہفتے میں دینی تعلیم کے حصول کے لئے کراچی پہنچا تھا۔ تقریباً ڈیڑھ سال گودھرا میں پڑھنے کے بعد یہ ادارہ گلستانِ جوہر شفٹ ہو گیا، یوں ہی کچھ سال مدرسۃُ المدینہ نام رہنے کے بعد اس ادارے کا نام جامعۃُ المدینہ تجویز ہوا کیونکہ عربی میں مدرسہ ابتدائی تعلیم والے ادارے کو کہتے ہیں جبکہ کالج کو لفظِ کلیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جہاں ماسٹر لیول کی تعلیم دی جاتی ہو اسے جامعہ کہا جاتا ہے۔ بہرحال سِن 2000ء میں جامعۃُ المدینہ کا پہلا بیج فارغُ التحصیل ہوا تھا، وہ بہت حسین لمحات تھے۔امیرِ اہلِ سنّت بھی بہت خوش تھے، وہ لمحات بُھلائے نہیں جا سکتے۔ اس وقت میرے پاس دو ذمّہ داریاں تھیں، ایک یہ کہ علمائے کرام کَثَّرَہُمُ اللہُ السَّلام کو اسٹیج کے پیچھے کے راستے سے اسٹیج تک لانا کہ اس وقت حضرت علّامہ مولانا شاہ ترابُ الحق صاحب رحمۃُ اللہ علیہ ، دارُ العلوم امجدیہ کے شیخُ الحدیث مفتی اسماعیل ضیائی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ اور بھی بہت سے دیگر علمائے کرام کی تشریف آوری ہوئی تھی۔ دوسری ذمّہ داری یہ تھی کہ ہم نے ایک تعارفی اسٹال لگایا ہوا تھا جس میں ہم عوامُ الناس کو بتا رہے تھے کہ درسِ نظامی میں فلاں فلاں فن کی کُتب پڑھائی جاتی ہیں، ہم نے کتابوں پر خوبصورت لکھائی میں چِٹ بھی لگائی ہوئی تھی کہ یہ فلاں فن کی کتاب ہے وغیرہ۔ وہ چِٹ میرے کلاس فیلو محمد تنویر فیصل آبادی نے لکھی تھی۔ ایک کلام ہے جو مجھے ہوا کے ایک تازہ جھونکے کی طرح اس روح پرور منظر کی یاد دلاتا رہتا ہے جو کہ معروف نعت خواں کی زبان سے نکل کر کانوں میں رس گھول رہا تھا، کلام یہ تھا:
جلوہ ہے نور ہے کہ سراپا رضا کا ہے
تصویرِ سنّیت ہے کہ چہرہ رضا کا ہے
وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھئے علاقہ رضا کا ہے
میں دوسرے بیج میں تھا۔ سن 2001ء میں کسی بیج کی دستار بندی نہیں ہوئی تھی کیونکہ ہمارے درجے والوں نے اتفاق کر لیا تھا کہ ہم لوگ موقوف علیہ لازمی پڑھیں گے لہٰذا ہماری دستار بندی سِن 2002ء میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے ہزاروں افراد اس گلشن سے فیض یاب ہو کر علم و عرفاں بانٹ رہے ہیں۔یوں ہی کراچی کے بعد لاہور، حیدرآباد، نواب شاہ اور پھر دیگر شہروں میں بھی جامعۃُ المدینہ قائم ہونے لگے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میں کوئی اس مجلّہ میں جامعۃُ المدینہ کے موضوع پر کوئی مضمون لکھتا لیکن مجھے صرف تأثرات لکھنے کا ہی کہا گیا ہے۔ خیر بات مجلّہ کی اشاعت پر تأثرات سے نکل کر حسین یادوں تک پھیل گئی۔ ویسے بھی ماضی کی یادوں میں غوطہ لگائے بغیر تأثرات لکھنا ممکن بھی کیسے ہوتا۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں میں شب و روز پڑا رہا، جس نے میری آبیاری کی، جہاں سے مجھے علم و عمل کی دولت ملی، اس ادارے کی حسین یادوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تأثرات لکھنا کب ممکن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع