30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا فیضان ہے جو مجھے اجتماعی اعتکاف کی ایک نشست میں شرکت کرنے کی برکت سے ملا ہے۔ والدین تو ہوتے ہی شفیق ہیں بھلا وہ کب اپنی اولاد سے ناراض ہوتے ہیں ، میر ی التجا پر والدین کے چہرے خوشی سے کھل اُٹھے انہوں نے بخوشی مجھے معاف کردیا، ان کی معافی کی صورت میں مجھے ایک عَجَب قلبی سکون کا احسا س ہوا گویا ایک بوجھ تھا جو میرے دل و دماغ سے اتر گیا اور میں اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا، اس کے بعد میں نے والدین کی اطاعت و خدمت کو اپنا شیوہ بنا لیا، اب کوئی حکم دیتے تو فوراً بجا لاتا، انتہائی ادب سے ان سے بات کرتا اور ان کی دعاؤں کا حقدار بنتا۔
دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول کیا ملا اخلاق و کردار سنورنے کے ساتھ ساتھ عبادت کا سلیقہ مل گیا، مدنی ماحول سے پہلے نمازوں کے خشوع و خضوع سے نابلد تھا، سجدوں کی حلاوت سے محروم تھا ، حتی کہ نماز پڑھنے کا درست طریقہ بھی نہیں آتا تھا مگر عاشقانِ رسول کا قرب کیا ملا نماز پڑھنے کا طریقہ سیکھ لیا اور نمازوں کی قدر و منزلت دل میں جاگزیں ہو گئی، علاقے میں عزت سے دیکھا جانے لگا، ہر ایک ادب سے پیش آنے لگا، حتی کہ اگر کبھی مسجد کے امام صاحب تشریف نہ لاتے تو لوگ نماز پڑھانے کے لیے مجھے ہی آگے کرتے، یہ سب دعوتِ اسلامی کافیضان ہے جس کی برکت سے نہ صرف نماز درست پڑھنے کا طریقہ آگیابلکہ نماز پڑھانے کے قابل بھی بن گیا۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلا شبہ والدین اللہ عَزَّوَجَلَّکی عطاکردہ ایسی انمول نعمت ہیں جس کا کوئی نِعْم ُالبَدَل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں والدین کا ادب واحترام کرنا چاہیے تا کہ دنیا وآخرت میں ہمارا بیڑاپار ہو، دنیا میں سکون اور قبر وحشر میں بھی کامیابی نصیب ہو۔ اس پر فتن دور میں اولاد کی اچھی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے والدین کا مقام و مرتبہ گرتا چلا جا رہا ہے۔ آج والدین کا تَقَدُّس پامال کر کے اولاد نارِجہنم کی حقدار بن رہی ہے ، ایسے حالات میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعوتِ اسلامی کی بنیاد رکھ کر اُمَّت ِمُسلمہ پر احسانِ عظیم فرمایاہے، آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے سنّتوں بھرے بیانات میں مقامِ والدین اولاد کے دلوں میں اُجاگر فرمایا، انہیں ادب کے طریقے بتائے اور والدین کی نافرمانی و بے ادبی کے عذابات سے ڈرایا، جس کی برکت سے بہت سے نافرمان والدین کےمطیع وفرماں بردار بن گئے ۔ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی تمنا ہے کہ لوگ والدین کی بے ادبی کے عظیم گناہ سے اپنے دامن کو آلودہ نہ کریں تاکہ وہ عذابِ الٰہی کے حقدار بننے سے بچ جائیں۔ یاد رکھیے! اگر والدین ناراض ہو گئے تو دنیا و آخرت میں سخت محرومی کا سامنا کرنا پڑے گا چنانچہ
نبی ٔاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: تین شخص جنت میں نہ جائیں گے: ماں باپ کو ستانے والا، اور دَیُّوث (یعنی جو اپنے اہل میں بے حیائی کی بات دیکھے اور منع نہ کرے) اور مردوں کی نقّالی کرنے والی عورت۔ (المستدرک، کتاب الایمان، باب ثلاثۃ لایدخلون الجنۃ، ۱ / ۲۵۲، حدیث: ۲۵۲)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول میں جہاں سنّتیں اپنانے اور گناہوں سے بچنے کا ذہن دیا جاتا ہے وہیں ماں باپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے والدین کی خدمت کرنے اور انہیں عمر بھر راضی رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شعبہ امیرِاَہلسنّت مجلس اَ لْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ {دعوتِ اسلامی}
۱۸رمضان المبارک ۱۴۳۵ ھ بمطابق17 جولائی 2014 ء
آپ بھی مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے
یہ حقیقت ہے کہ صحبت اثر رکھتی ہے، انسان اپنے دوست کی عادات و اخلاق اور عقائد سے ضرور متأثر ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک میں نیک آدمی کی مثال مشک والے کی طرح بیان کی گئی ہے کہ اگر اس سے کچھ نہ بھی ملے تو اس کی ہم نشینی خوشبو میں مہکنے کا سبب بنتی ہے جبکہ بُرا آدمی بھٹی والے کی طرح ہے کہ اگر بھٹی کی سیاہی نہ بھی پہنچے پھر بھی اس کا دھواں تو پہنچتا ہی ہے۔ گناہوں کی آگ میں جلتے، گمراہیت کے بادلوں میں گھرے اس معاشرے میں سنّتوں کی خوشبوئیں پھیلاتا دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول کسی نعمت سے کم نہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مدنی ماحول میں تربیت پاکر سنتیں اپنانے والا اس طرح زندگی بسر کرنے لگتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع