دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

3 Sharabi Bhai | تین شرابی بھائی

book_icon
تین شرابی بھائی

رسول کی شمع کو فروزاں کردیا۔ مزید عاشِقوں کے امام،  امامِ اہلسنّت،  مُجَدِّد ِ دین و ملّت،  پروانۂ شمعِ رسالت،  عاشِقِ ماہِ نُبُوَّت مولیٰنا شاہ امام احمد رضا خانعَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی معرفت میں اضافہ ہوا،  دعوتِ اسلامی والوں کی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بے پناہ عقیدت ومحبت کا اندازہ اس بات سے ہواکہ جب بھی ان کا تذکرہ کرتے تو پیارے پیارے القابات سے انہیں یاد کرتے اور ان کا مبارک تذکرہ سن کرخوشی سے جھوم اُٹھتے ۔ یوں میرے دل میں عاشقِ ماہِ رسالت کی عظمت جاگزیں ہو گئی۔ اجتماعی اعتکاف میں لگنے والے علمی حلقوں میں شرکت کی تو سنّتیں ،  دعائیں ،  نماز،  روزہ ،  طہارت ،  نمازِجنازہ اور دیگر اہم مسائل کی دہرائی کی سعادت مل گئی۔ واقعی اجتماعی اعتکاف میں بیٹھنے کی برکت سے علمِ دین سیکھنے کے جذبے کو چار چاند لگ گئے۔ مزید حقیقی معنوں میں اسی اجتماعی اعتکاف میں اعلیٰ حضرت  امام احمد رضا خانعَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے علمی و تحقیقی شاہکار ’’ فتاویٰ رضویہ‘‘  کی پہچان نصیب ہوئی اور مطالعہ کا جذبہ ملا۔ الغرض عاشقانِ رسول کا اخلاق و کردار دیکھ کر مجھے دعوتِ اسلامی سے پیار ہو گیا اور میں نے سنّتِ رسول سے آراستہ و پیراستہ ہونے اور باعمل عالمِ دین بن کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کے جذبے کے تحت جامعۃ المدینہ میں داخلہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اعتکاف کے بعد جامعۃ المدینہ میں داخلہ لے کر علم و عمل کی نعمت سے مالا مال ہونے لگا ۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ جامعۃالمدینہ کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول کی برکت سے میرا علمی ذوق بڑھنے لگا۔ سبزسبز عمامہ شریف اور مدنی حلیہمیری زندگی کا حصہ بن گیا اورنیکی کی دعوت دینے کا جذبہ دل میں موجزن ہوگیا۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریرسندِ فراغت پاکر سنّتیں عام کرنے میں اپنی خدمات سرانجام دے رہاہوں۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {6}  والدین کا اطا عت گزار بن گیا

          لالہ موسیٰ (تحصیل کھاریاں ، ضلع گجرات ،  پنجاب)  کے رہائشی اسلامی بھائی مدَنی ماحول میں ہونے والے اجتماعی اعتکاف کی برکات کا تذکرہ کچھ اس طرح  کرتے ہیں : دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدَنی ماحول ملنے سے قبل میرے شب و روز گناہوں میں بسر ہو رہے تھے۔ نماز جیسی عظیم عبادت میں کوتاہی برتنا اور فضول کاموں میں مگن رہنا میری عاداتِ بد میں شامل تھا۔ افسوس ! والدین کی نافرمانی کرنا اور مَعَاذَاللہ  ان کی دِل آزاری کرنا بھی میرے معمولات میں داخل تھا۔ مزید یہ کہ برے دوستوں کی صحبت ِبد میں گرفتار تھا جس کی وجہ سے میرے اخلاق و کردار دن بدن خراب ہوتے جا رہے تھے ۔ میری زندگی میں آیا ہوا گناہوں کا طوفان کچھ اس طرح تھما کہ ۱۴۲۸ ھ بمطابق 2007 ء کی بات ہے کہ رمضان المبارک اپنے دامن میں رب  عَزَّوَجَلَّ کی رحمتوں کو لئے ہمارے درمیان جلوہ گر ہوا،  جس سے بندگانِ خدا کے ویران چمنستانوں میں صوم و صلوٰۃ کی بہاریں آگئیں۔ دن روزوں سے تو راتیں تراویح کی نمازوں سے شاد آباد ہو گئیں۔ یوں تو ماہِ مُقَدَّس کی ہر گھڑیایمان کو تازگی بخش رہی تھی مگر جب  عشرۂ اعتکاف تشریف لایا تو مساجد کی رونقیں مزید بڑھ گئیں ،   مسجدوں میں اعتکاف کی بہاریں آگئیں۔ ملک بھر میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہونے والے اجتماعی اعتکاف میں ہزاروں مسلمان شریک ہوئے۔ اگرچہ میں اعتکاف میں نہیں بیٹھا مگر میری خوش قسمتی کہ مجھے مدَنی ماحول میں ہونے والے اجتماعی اعتکاف کی ایک سنّتوں بھری نِشَسْت میں شرکت کی سعادت نصیب ہو گئی۔ سنّتوں بھرے اجتماعی اعتکاف کا بڑا ہی روح پرور سماں تھا،  ہر طرف سنّتوں کی بہاریں تھی۔ اس پُرفِتَن دور میں کثیر تعداد میں نوجوانوں کو اجتماعی اعتکاف میں بیٹھا دیکھ کر میرا ایمان تازہ ہوگیا،  واقعی یہ ولیٔ کامل شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا فیضان ہے جنہوں نے نوجوانوں کو صوم و صلوٰۃ کا پابند بنا دیا ہے۔ ابھی میں یہاں کی پُرکیف فضاؤں سے محظوظ ہو رہاتھا کہ اسی دوران مبلغِ دعوتِ اسلامی کا پرسوز بیان شروع ہو گیا،  حاضرین ہمہ تن گوش ہو کر بیان سننے لگے،  میں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو گیا اور علمِ دین کے مدنی پھولوں سے اپنے دل کے گلدستے کو سجانے لگا،  بیان بڑا ہی پُر اثرتھا،  جوں جوں بیان سنتا گیا میری کیفیت بدلتی گئی،  دل پرچڑھا گناہوں کا زنگ دور ہونے لگا۔ مجھے اپنی بے باکیوں پر شِدَّت سے ندامت ہونے لگی،  میں نے گھر جا کر والدین سے معافی مانگنے کا ارادہ کر لیا،  جب میں اجتماعی اعتکاف کی سنّتوں بھری نشست سے فارغ ہو کر گھر لوٹا تو والدین کی خدمت میں دست بستہ حاضر ہو گیا اور عاجزانہ معافی کی درخواست پیش کی،  سب گھروالے میرے اس رویّے کو دیکھ کر حیرانی میں ڈوب گئے کہ اچانک اسے کیا ہو گیاہے؟اور یہ انقلاب کیسے برپا ہو گیا ہے؟ والدین کے ادب و احترام کا درس کہاں سے ملاہے؟ کس نے اس نافرمان کو مطیع و فرماں بردار بنادیا ہے؟ ان تمام سوالوں کا ایک ہی جواب تھا کہ یہ حقیقت میں شیخِ طریقت،  امیرِاہلسنّت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن