30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹھیک نہیں تھی۔ اسلامی احکام کی بجاآوری، گناہوں سے کنارہ کشی اور قبر و آخرت کی تیاری کرنے کی کوئی فکر نہیں تھی، بدقسمتی سے میں بھی آج کل کے نوجوانوں کی طرح نفسانیخواہشات کی تکمیل کے لیے مارامارا پھرتا تھا۔ حیاسوز فلمیں دیکھنے کے لیے ہوٹلوں کا رخ کرنا میرامحبوب مشغلہ بن چکا تھا۔ افسوس! پیسے دے کر گناہوں سے اپنا نامۂ اعمال گھنٹوں آلودہ کرتا، آئے دن بے حیائی سے پُرفلمیں دیکھ دیکھ کر میری سوچ و فکر کی پاکیزگی دم توڑ رہی تھی مگر مجھے اس کا بالکل بھی احساس نہ تھا۔ مزید گانے سننا، برے دوستوں کی صحبت میں بیٹھنا میری زندگی کا حصہ بن چکاتھا۔ وہ تودعوتِ اسلامی والوں کی مجھ پر نظرِ شفقت پڑ گئی جو فکرِ آخرت سے غافل لوگوں کو بے لوث سمجھاتے اور انہیں سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں جس کی برکت سے ایک بڑی تعداد راہِ سنّت پر گامزن نظر آتی ہے۔ مجھ پر بھی کرم ہو گیا ہوا کچھ یوں کہ ایک دن میں حسبِ عادت نفسِ اَمَّارَہ کو خوش کرنے کے لیے ہوٹل کی طرف رواں دواں تھا کہ راستے میں ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ملاقات ہوگئی جن کا چہرہ کھلاکھلا تھا ، سرپر سبزسبز عمامے شریف کا تاج سجا تھا اور بدن سفید مدنی لباس سے آراستہ تھامیرے قریب آکر بڑے ہی احسن انداز میں انہوں نے مجھے سلام کیا، دورانِ گفتگو میرا مدنی ذہن بناتے ہوئے کہنے لگے: دعوتِ اسلامی کے تحت عاشقانِ رسول کے لیے 30 روزہ اجتماعی اعتکاف ہو رہاہے جہاں حقیقی معنوں میں روزوں کا کیف و سرور ملتا ہے اور علمِ دین کا انمول خزانہ نصیب ہوتا ہے، نجانے ان کی باتوں میں ایسی کیا تاثیر تھی کہ میں نے اعتکاف کی برکتیں لوٹنے کا ارادہ کر لیا اور گناہوں کے دلدل سے نکل کر جلد ہی مقررہ مسجد کی پاکیزہ فضاؤں میں پہنچ گیا، وہاں ایک نیاہی جہاں آباد تھا، عاشقانِ رسول کثیر تعداد میں موجود تھے، میں نے بھی اجتماعی اعتکاف میں اپنا نام لکھوا دیا، معتکفین کے جَدْول کے مطابق میں سنّتوں بھرے بیانات ، پرسوز مَناجات اور رقت ا نگیز دعا ؤں کے روحانی سلسلوں سے فیض یاب ہونے لگا، جس کی برکت سے آہستہ آہستہ میری سوچ و فکر کا محور بدلنے لگا ، آنکھوں پر بندھی غفلت کی پٹیاں کھلنے لگیں اور میں چند روزہ عاشقانِ رسول کی صحبت کی برکت سے نہ صرف مقصدِ حیات کے مطابق زندگی گزارنے کے جذبے سے سرشار ہو گیا بلکہ سابقہ گناہوں سے توبہ کر کے سنّتوں بھری زندگی اپنانے اور اپنے اخلاق و کردار کو بہتربنانے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ ایک حقیقت ہے کہ نیکوکار، سنّتوں کے آئینہ دار اسلامی بھائیوں کی صحبت سنّتوں کا عامل بناتی ہے جبکہ بے نمازیوں ، شرابیوں ، جواریوں ، فلموں ، ڈراموں کے شائقین کی صحبت آدمی کو گناہوں میں مبتلاکردیتی ہے اور اس کے اخلاق و کردار کو تباہ و برباد کردیتی ہے ۔ یادرکھیے! صحبتِ بد انسان کے لیے انتہائی ہلاکت خیز ہے چنانچہ
حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو یہ دیکھنا چاہیے وہ کسے دوست بنا رہا ہے۔ (ابوداؤد، کتاب الادب، باب من یؤمر ان یجالس، ۴ / ۳۴۱، حدیث: ۴۸۳۳)
لہٰذا ہمیں نمازی اور اچھے اخلاق و کردار کے خوگراسلامی بھائیوں کو اپنی دوستی کے لیے منتخب کرنا چاہئے ۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے عاشقانِ رسول کی پاکیزہ صحبت کی بھی کیا خوب بہاریں ہیں کہ معاشرے کے بے شمار افراد اسی پاکیزہ صحبت کی برکت سے گناہوں سے تائب ہو کر نیکی کی دعوت عام کرنے میں مصروف ِعمل ہیں۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کلفٹن باب المدینہ (کراچی) کے مقیم اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول سے پہلے میں درجہ رابعہ کا طالب علم تھا اور ایک مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دے رہاتھا ۔ میری خوش نصیبی کہ جس مسجد میں امامت کرتا تھا وہاں ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی کے تحت اجتماعی اعتکاف کی ترکیب بنی ، عاشقانِ رسول میرے پاس آئے اور عاجزانہ انداز میں اجتماعی اعتکاف میں شرکت کرنے کی دعوت پیش کی جس سے میں بڑا متأثر ہوا یوں میں معتکف ہو گیا۔ دورانِ اعتکاف جدول کے مطابق پرسوز بیانات، مناجات ِافطار اور رقت انگیز دعاؤں کے ایمان افروز مناظر دیکھ کر دل شاد ہو گیا، نعت شریف سن کر عاشقانِ رسول کے جھومنے ، یاد مدینہ اور یادشاہ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں تڑپنے کے روح پرور مناظر نے میرے دل میں عشقِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع