30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مدَنی قافلے میں مانگی جانے والی دعاؤں کا اثر یوں ظاہر ہوا کہ جلد ہی مجھے دونوں بھائیوں کی رِہائی کی خوشخبری مل گئی۔ اس طرح اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اعتکاف میں شرکت اور عاشقانِ رسول کی صحبت کی برکت سے میں گناہوں بھری زندگی سے خلاصی پاکر نیکیوں کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد جب میں اپنے شہرپہنچا تو اشتہاری مجرم کے بدنما داغ سے اپنادامن صاف کرنے کے لیے خود ہی جا کر پولیس کو اپنی گرفتاری دے دی، پولیس اہلکار بھی حیران ہوئے کہ جسکی ہمیں کئی سالوں سے تلاش تھی، آج کس طرح خود چل کر آ گیا ہے۔ لہٰذا قانونی کاروائی کرتے ہوئے پولیس نے مجھے حوالات میں بند کر دیا۔ میں قلبی طور پر مطمئن تھا کہ نجات کی کوئی نہ کوئی راہ ضرور بن جائے گی، چونکہ اجتماعی اعتکاف کے فیضان سے مجھ پر مدَنی ماحول کا رنگ چڑھ چکا تھا، اچھی سوچ وفکر بن چکی تھی لہٰذا قید و بند میں رہ کر بھی میں صلوٰۃ و سنّت پرعمل پیرا رہا، ہرایک کے ساتھ اخلاق سے پیش آتا، میرے اس رویے کو دیکھ کر پولیس والے بھی حیران ہوئے۔ ایک مدّت تک اپنے جرموں کی پاداش میں جیل کی چار دیواری میں قید رہا اور پھر بالآخر بارگاہِ الہٰی میں کی جانے والی دعاؤں کی برکت سے مجھے مستقل رِہائی کا پروانہ مل گیا اور میں تما م مقدمات سے بری ہو کر اپنے گھر آگیا۔ چہرے پر پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کی نشانی داڑھی شریف تو پہلے ہی سجا چکا تھا، اب اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج بھی سجالیا۔ میری زندگی میں برپا ہونے والا مدنی انقلاب لوگوں کے لیے باعثِ حیرت تھا ایک وہ دور تھا کہ کسی کو خاطر میں نہ لاتا تھا بات بات پر آگ بگولا ہوجاتا تھا اور آج نظریں جھکائے لوگوں کو سلام کرتے ہوئے جب گلی بازار سے گزرتا ہوں تو لوگ دعوتِ اسلامی کا فیضان سر کی آنکھوں سے دیکھ کر خوش ہوجاتے، اپنی اصلاح کے بعد میں نے اپنے دونوں بھائیوں پر انفرادی کوشش کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مسلسل انفرادی کوشش کی بدولت بالآخرمیرے بھائیوں نے بھی چوری، ڈکیتی اور دیگر گناہوں سے توبہ کرلی اور رزقِ حلال کمانے اور دعوتِ اسلامی سے محبت کرنے والے بن گئے۔ مدَنی ماحول نے میرا زندگی گزارنے کا اَنداز یکسر بدل دیا، میرے علاقے والے جو میری دَہشت سے مغلوب ہوکر مجھ سے ڈرتے تھے، مجھے دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیا کرتے تھے اور میری شر انگیزیوں سے تنگ آچکے تھے، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اب میری بہت عزّت کرتے ہیں۔ مجھے ہر ماہ مدَنی قافلے میں سفر کی سعادت بھی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ تادمِ تحریر ذیلی مُشاوَرت کے ذِمہ دار کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدَنی کاموں میں مصروفِ عمل ہوں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! مدَنی ماحول میں ہونے والے سنتوں بھرے اجتماعی اعتکاف کی کیسی برکات ہیں کہ بڑے سے بڑے جرم کا عادیبھی اس میں شرکت کرنے کے سبب نہ صرف اپنے گناہوں سے تائب ہو جاتا ہے بلکہ دوسروں کی اصلاح کا سامان بھی بن جاتا ہے۔ گزشتہ مدَنی بہار میں تین بھائیوں کا ذکر ہے جو کہ شراب نوشی کا شکار تھے لیکن دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول نے انہیں شراب نوشی سے چھٹکارا دلا کر مُعاشرے کے اچھے افراد کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔ یاد رکھیے! شراب اُمُّ الخبائث ہے جس کا پینا بلاشبہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اس کے نقصانات لا تعداد ہیں۔ شراب پینے وا لا اپنی عقل کھو بیٹھتاہے، اور اُسے کسی چیز کی تمیز نہیں رہتی، بیگانے دور کی بات اسے اپنوں کا بھی احساس نہیں رہتا، شرابی نہ صرف اپنے اخلاق برباد کرتا ہے بلکہ وہ اپنے قرب و جوار کے لوگوں کی اذیت کا باعث بھی بنتا ہے۔ پھر بدنِ انسانی پر مُرتّب ہونے والے اس کے مُضِر اثرات علیحدہ ہیں۔ اس کی اخلاقی برائیوں ، معاشی و معاشرتی خرابیوں اور طبّی بیماریوں کے علاوہ جو سب سے بڑا نقصان ہے وہ غضبِ خداوندی اور عذابِ اُخروی کا شکار ہونا ہے، دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃالمدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’برائیوں کی ماں ‘‘ کے صفحہ نمبر 72 پر روایت منقول ہے: حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے کہ میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے اپنی عزّت کی قسم یاد کر کے ارشاد فرمایا کہ میرا جو بندہ شراب کا ایک گھونٹ پئے گا میں اس کے بدلے اُسے جہنم کا کھولتا ہوا پانی پلاؤنگا خواہ اُسے عذاب دیا گیا ہو یا بخش دیا گیا ہواور میرا جو بندہ میرے خوف سے شراب نہ پئے گا میں اُسے جنّت کی (پاکیزہ) شراب پلاؤں گا۔ (مسند احمد، حدیث ابی امامۃ الباھلی، ۸ / ۲۸۶، حدیث: ۲۲۲۸۱ ملتقطًا) اسی کتاب کے صفحہ نمبر 62 پر فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم منقول ہے: بدکار جب بدکاری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ بھی مومن نہیں ہوتا۔ (مسلم، کتاب الایمان، باب بیان نقصان الایمان بالمعاصی الخ، ص۴۸، حدیث: ۵۷) مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ ۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع