30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھرے افکار دل و دماغ پر چھائے رہتے، آئے دن وڈیو سینٹر سے وی سی آر کرائے پر منگواتا اور اپنے دوستوں اور دونوں چھوٹے بھائیوں کے ساتھ مل کر حیاسوز مناظرسے بھرپور فلمیں دیکھ کر اپنا نامۂ اعمال گناہوں سے سیاہ کرتا مزید جب ہم پر نفس و شیطان کا غلبہ ہوتا تو خوب شراب کے جام اپنے پیٹ میں انڈیلتے اور شرم و حیا کی تمام حدیں توڑ کر مَعَاذَاللہ بدکاری کے مرتکب ہوتے۔ ہمیں یہ احساس تک نہ تھا کہ یہ لذّتیں عارضی اور فانی ہیں اورجلد ختم ہو جانے والی ہیں مگر ان کا وبال نامۂ اعمال میں باقی رہتا ہے جو قبر و حشر میں عذابِ الٰہی کا سبب بن سکتاہے جسے ہم برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ الغرض انہی موج مستیوں میں شب و روز کٹ رہے تھے جو ہمیں قبرکے پرہول گڑھے کی طرف دھکیل رہے تھے مگر ہم تینوں بھائی غفلت کی آغوش میں گہری نیند سو رہے تھے۔ گھر والے غفلت سے بیدار کرنے کی کوششیں کر کے جب تھک چکے تو والدہ نے میری شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا کہ ہو سکتا ہے ذمہ داری کا بار پڑنے سے اس کی شرانگیزیاں ختم ہو جائیں ، یہ راہِ راست پر آجائے اور اس کے سُدھرنے سے چھوٹے بھائی بھی سُدھر جائیں چنانچہ جلد ہی میری شادی کردی گئی مگر ان کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا ، میری عاداتِ بد میں کوئی فرق نہ آیااور شب و روز وہی گناہوں بھرا سلسلہ جاری رہا۔
بدقسمتی سے اسی دوران میں عشقِ مجازی کا شکار ہو گیا اور یہ اس حدتک بڑھ گیا کہ میں اس لڑکی کے خیالوں میں گم رہنے لگا، اسے پانے کی کوشش میں لگ گیا، چونکہ میری پہلی بیوی میری راہ میں رکاوٹ تھی لہٰذا میں نے اسے گھرسے نکال دیا، میرے اس فعلِ بد پر بے چاری والدہ دل مسوس کر رہ گئیں اور اشکباری کے سوا کچھ نہ کر سکیں۔ میں اس قدربے حس ہو چکا تھا کہ مجھے والدہ کی پُرنم آنکھوں کا کوئی خیال نہ آیا ، مجھ پر تو بس عشقِ مجازی کا بھوت سوار تھا چنانچہ میں نے جلد ہی اس لڑکی سے شادی رچالی، اپنی پسند کو پا کر میں بے حد خوش تھا مگر میرے اس عمل سے کتنے دل رنجیدہ ہوئے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ بالخصوص میری والدہ کے دل پر کیا گزری مجھے اس کا بالکل بھی احساس نہ تھا ۔ بظاہر زندگی کے شب و روزبڑے سہانے گزر رہے تھے مگر والدہ کو رُلا کر یہ خوشیاں زیادہ دن قائم نہ رہ سکیں ، جلد ہی اس محبت کا خُمار میرے سر سے اتر گیااور میں ایک اورلڑکی کی محبت میں مبتلا ہوگیا۔
اب اس کے خیالوں میں گم رہنے لگا، اُسے پانے اور اس کے ساتھ شادی رچانے کے سُہانے سپنے دیکھنے لگا۔ کئی بار ان کے ہاں رشتہ بھیجا مگر چونکہ اس کے گھر والے میری عاداتِ بد سے بخوبی واقف تھے اس لئے ہر بار مجھے منہ کی کھانا پڑی۔ اسی بات نے میری زندگی میں بھونچال برپا کر دیا، رَنج و اَلم کےسبب میرے دن کا چین اور راتوں کا سُکون برباد ہو گیا۔ محبت میں ناکامی کے صدمے نے مجھے اس نتیجے پر پہنچایا کہ میں نے اپنا یہ ذہن بنا لیا کہ یا تو اُسے ختم کردوں گا یا خود کو موت کے گھاٹ اتار لوں گا۔ بالآخر میں نے خود کُشی کرنے کا ذہن بنا لیا اسی دوران رحمت و مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ رمضان المبارک تشریف لے آیا، جس میں شیطان قیدکردیاگیا، ہر طرف نیکیوں کی بہار کا ظہور ہونے لگا، ہرایک مسلمان کا ’’جوشِ ایمانی‘‘ قابلِ دید تھا، سحر و افطار کے روح پرور مناظر تھے، مجھ پر بھی کرم ہو گیا اور اس ماہ ِمغفرت میں مجھے دعوتِ اسلامی سے وابستہ عاشقانِ رسول کی رفاقت نصیب ہوگئی سبب کچھ یوں بنا،
ہمارے علاقے میں ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی رہاکرتے تھے جو نیکی کی دعوت کے جذبے سے سرشار تھے، یہ بارہا مجھ پرانفرادی کوشش کرچکے تھے مگر میں ایسا انسان تھا کہ ان کی ایک نہ سنتا اور ان کی محبت بھری دعوت کو قبول کر کے اپنی آخرت سنوارنے کے بجائے اپنی موج مستی میں مگن رہتا، حسبِ عادت ایک بار انہوں نے پیار بھرے انداز میں دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعی اعتکاف میں شرکت کرنے کا اصرار کیا نجانے کیوں اس بار میں نے انکار کرنا مناسب نہ سمجھا اور اجتماعی اعتکاف میں بیٹھنے کی نیّت کر لی۔
یوں ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی کی پیار بھری انفرادی کوشش کے نتیجے میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعی اعتکاف کی سنّتوں سے معمور فضاؤں میں پہنچ گیا اور خوش نصیب مُعْتکِفِین کی فہرست میں اپنا نام لکھوا دیا، زند گی میں پہلی بار سنّتوں کی بہار دیکھ کر میرا دل ’’جوشِ ایمانی‘‘ سے سرشار ہو گیا اور مجھے مدنی ماحول سے پیار ہو گیا۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں دل جمعی سے علمی حلقوں میں شرکت کرتا اور علم کے انمول موتیوں سے اپنی خالی جھولی بھرتا۔ اجتماعی اعتکاف کی برکت سے میں نے نماز ، روزہ اور غسل وغیرہ کے ضروری احکام سیکھنے کے ساتھ ساتھ آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی مبارک اور میٹھی میٹھی سنّتیں بھی سیکھنے کی سعادت حاصل کی۔ واقعی یہاں آکر پتا چلا کہ ایک حقیقی مسلمان کو کیسا ہونا چاہئے؟ ہمیں اللہ تعالیٰ نے کس مقصد کے تحت اس دنیائے فانی میں مختصر وقت کے لیے بھیجا ہے؟ ہرایک انسان نے آخرت میں اپنی زندگی کے تمام معاملات کا حساب دینا ہے۔ حُبِّ خدا اور عشقِ مصطفٰے پر مبنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع