تجدید نکاح کا معنیٰ ہے : ’’نئے مَہر سے نیا نکاح کرنا۔ ‘‘ اِس کیلئے لوگوں کو اِکٹھّا کرنا ضروری نہیں ۔ نکاح نام ہے اِیجاب و قَبول کا ۔ ہاں بوقتِ نِکا ح بطورِ گواہ کم ازکم دو مَرد مسلمان یا ایک مَرد مسلمان اور دو مسلمان عورَتوں کا حاضِرہونا لازِمی ہے ۔ خُطبۂ نکاح شَرط نہیں بلکہ مُسْتَحَب ہے ۔ خُطبہ یاد نہ ہوتو اَعُوْذُ بِاﷲ اور بِسمِ اﷲشریف کے بعد سورۂ فاتِحہ بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ کم ازکم دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی (موجودہ وزن کے حساب سے 30 گرام 618 مِلی گرام چاندی ) یا اُس کی رقم مہَر واجِب ہے ۔ مَثَلاً آپ نے پاکستانی 786 روپے اُدھار مہَر کی نیّت کر لی ہے (مگر یہ دیکھ لیجئے کہ مہر مقَّرر کرتے وقت مذکورہ چاندی کی قیمت 786 پاکستانی روپے سے زائد تو نہیں ) تو ا ب مذکورہ گواہوں کی موجودَگی میں آپ ’’اِیجاب‘‘ کیجئے یعنی عورت سے کہیے : ’’ میں نے 786 پاکستانی روپے مہَر کے بدلے آپ سے نکاح کیا ۔ ‘‘ عورَت کہے : ’’ میں نے قَبول کیا۔ ‘‘ نکاح ہو گیا ۔ (تین بار ایجاب و قبول ضَروری نہیں اگر کر لیں تو بہتر ہے) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورت ہی خُطبہ یا سورۂ فاتِحہ پڑھ کر ’’اِیجاب’‘ کرے مَرد کہدے: ’’میں نے قَبول کیا، ‘‘ نکاح ہو گیا ۔ بعدِ نکاح اگر عورت چاہے تو مَہرمُعاف بھی کر سکتی ہے ۔ مگر مَرد بِلاحاجتِ شَرعی عورت سے مَہرمُعاف کرنے کا سُوال نہ کرے ۔
مَدَنی پھول : جن صورَتوں میں نکاح ختم ہوجاتا ہے مَثَلاً صریح یعنی کُھلا کُفر بکا اور مُرتَد ہوگیا تو تجدید نکاح میں مہر واجِب ہے، البتّہ احتیاطی تجدید نکاح میں مہر کی حاجت نہیں ۔
تَنبِیہ : مُرتَد ہوجانے کے بعد توبہ و تجدید ِایمان سے قَبل جس نے نکاح کیا اُس کا نکاح ہوا ہی نہیں ۔
عورت کو بے شک خبر تک نہ ہو اور کوئی شخص مَرد سے مذکورہ گواہوں کی موجودَگی میں عورت کی طرف سے ’’ایجاب’‘ کر لے ۔ مَثَلاً کہے: میں نے 786 روپے اُدھار مَہر کے بدلے فُلانہ بنتِ فُلاں بن فُلاں کا تجھ سے نکاح کیا،مَرد کہے میں نے قبول کیا یہ نکاحِ فُضُولی ہوگیا، پھر عورت کو اِطِّلاع کی گئی یا دولھا نے خود بتایااور اس نے قَبول کرلیا، تو نکاحہوگیا، مرد بھی ’’ ایجاب’‘ کرسکتا ہے۔ نکاحِ فُضولی حنفیوں کے یہاں جائز ہے مگر خلافِ اَولیٰ ہے۔ البتَّہ شافعِیّوں ، مالِکیّوں اور حَنبلیّوں کے یہاں باطِل ہے۔
جسسے مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کفر صادِر ہوگیا اُسے چاہیے کہ دلائل میں الجھنے کے بجائے فوراً توبہ کرے۔ مَعَاذَ اللہ جس کا خاتِمہ کفر پر ہوگا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنَّم میں رہے گا۔ چاہے دنیا میں بظاہر وہ نیک نَمازی اور تہجُّد گزار و پرہیزگار ہی کیوں نہ رہا ہو! خُدا کی قسم ! جہنَّم کا عذاب کوئی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ کفر کی موت مرنے والوں کو لَوہے کے ایسے بھاری گُرزوں (یعنی ہتھوڑوں ) سے فرشتے ماریں گے کہ اگر کوئی گُرز (یعنی ہتھوڑا) زمین پر رکھ دیا جائے تو تمام جِنّ و اِنس (یعنی جنات و انسان) جمع ہو کر بھی اُس کو اُٹھا نہیں سکتے۔ بختی اُونٹ (یعنی ایک قسم کے اونٹ جو سب اونٹوں سے بڑے ہوتے ہیں ) کی گردن برابر بچھُّواور اللہ عَزَّ وَجَلَّ جانے کس قدر بڑے بڑے سانپ کہ اگر ایک مرتبہ کاٹ لیں تو اُس کی سوزش ، دَرد، بے چینی چالیس برس تک رہے۔ سر پر گرم پانی بہایا جائے گا۔ جہنَّمیوں کے بدن سے جو پیپ بہے گی وہ پلائی جائے گی۔ خار دار (یعنی کاٹنے دار) تھوہر کھانے کو دیا جائے گا، وہ ایسا ہوگا کہ اگر اس کا ایک قَطرہ دنیا میں آجائے تو اُس کی سوزِش (یعنی جلن) و بدبو تمام اہلِ دُنیا کی مَعیشت (یعنی زندگانی) برباد کردے اور وہ گلے میں جا کر پھندا ڈالے گا۔ اُس کے اُتارنے کے لیے پانی مانگیں گے تو ان کو تیل کی تَلچَھٹ کی طرح سخت کھولتا پانی دیا جائے گا کہ مُنہ کے قریب آتے ہی منہ کی ساری کھالگل کر اُس میں گِر پڑے گی اورپیٹ میں جاتے ہی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردے گا اور وہ شوربے کی طرح بہ کر قدموں کی طرف نکلیں گی۔
بِسْمِ اللہِ عَلٰی دِیْنِیْ بِسْمِ اللہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَوُلْدِیْ وَ اَھْلِیْ وَمَالِیْ o صبح و شام تین تین بار پڑھنے سے ، دین و ایمان، جان، مال، بچّے، سَب محفوظ رہیں ۔
( آدھی رات ڈھلے سے سُورج کی پہلی کِرَن چمکنے تک صُبح اور ابتدائے وَقتِ ظُہر تا غروبِ آفتاب شام کہلاتی ہے)
نوٹ: اِس رسالے میں آپ نے مختصراً28کفریات کی مثالیں مُلاحَظہ کیں مزید بے شمارکفریہ کلمات کی معلومات کے لیے دعوت اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 692 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سُوال جواب ‘‘ مُلاحَظہ کیجئے۔
یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے
شادی غمی کی تقریبات،اجتماعات،اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔
غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
بے حساب جنّت الفردوس میں آقا کے پڑوس کا طالب
۱۹ ربیع النور شریف ۱۴۳۳
2012-2-12