دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

27 Wajibat-e-Hajj Aur Tafseeli Ahkam | ستائیس واجبات حج اور تفصیلی احکام

book_icon
ستائیس واجبات حج اور تفصیلی احکام

3    دوپہر زوال کا وقت شروع ہو جانے سے غروب تک    مباح وقت

4    سورج غروب ہونے سےاگلے دن کی فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے تک   مکروہ وقت

پہلے دن کی رمی کے ضروری احکام

       پہلے دن صرف بڑے جمرے کی رمی کرنا ہےجو مِنٰی کی جانب سے تیسرا ہے ۔)[1]( پہلے دن رمی میں اس طرح کھڑے ہونا ہے کہ مِنٰی دائیں جانب رہے اور کعبہ شریف بائیں جانب ہو۔جمرے کی طرف منہ کر کے سیدھا ہاتھ خوب اٹھا کر کہ بغل کی رنگت ظاہر ہو ایک ایک کر کے 7 کنکریاں  مارے ۔([2]) بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرے تک پہنچیں ورنہ کم از کم تین ہاتھ کے فاصلے پرگریں اس سے زیادہ فاصلے پر گری تو وہ کنکری شمار میں نہیں آئے گی۔)[3](

       سات کنکریاں مارنی ہیں اور ہرکنکری الگ الگ مارنی ہے)[4]( پہلی کنکری پر حاجی لَبَّیْک کہنا موقوف کر دے گا۔)[5](اس جمرے پر رمی کے بعد کسی بھی دن یعنی دسویں دن رمی کریں یا گیارہویں دن کریں یا بارہویں دن  یا تیرہویں دن دعا کے لئے ٹھہرنا نہیں ہے بلکہ رَمی کرتے ہی چلتے چلتے دعا کرنا ہے)[6](لہٰذا آگے بڑھ جائیں مکہ شریف جانا ہے تو سیدھا آگے کی طرف جانا ہے اورمِنٰی واپسی کے لئے یُو ٹَر ن کر کے راستہ ملے گا۔

       ہر دفعہ کنکری مارتے وقت  بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکبَرْ پڑھے)[7](ممکن ہو تو یہ دعا پڑھیں۔

  بِسْمِ اللہِ اَللہُ اَکبَرُ رَغْمًا لِّلشَّیْطٰنِ رِضًا لِّلرَّحْمٰنِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّ سَعْیًا مَّشْکُوْرًا  وَّ ذَنْـبًا  مَّغْفُوْرًا)[8](

یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام سے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہت بڑا ہے۔ شیطان ذلیل ہو۔رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ راضی ہو۔اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے آنے کو حجِ مبرور فرما ،قبول کی گئی کوشش بنا اور گناہ معاف کر۔

دوسرے ،تیسرے دن کی رمی کا وقت:

       دوسرے دن کی رمی کا وقت گیارہ تاریخ کو زوال کا وقت ختم ہونے یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر اگلے دن کی فجر کا وقت شروع ہونے تک ہے البتہ بلا عذر سورج غروب ہونے کے بعد مکروہ ہے ۔

       یونہی تیسرے دن یعنی 12 ذو الحجہ  کی رمی کا وقت ،زوال کا وقت ختم ہونے یعنی ظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر اگلے دن کی فجر کا وقت شروع ہونے تک ہے البتہ بلا عذر سورج غروب ہونے کے بعد مکروہ ہے ۔)[9](

دوسرےاورتیسرے دن کی رمی کے ضروری احکام:

       دوسرے اور تیسرے دن یعنی گیارہ اور بارہ ذوالحجّہ کو تینوں جمروں کی رمی کرنا واجب ہے ۔)[10](یعنی ہر ایک جمرے کو سات سات کنکریاں مارناہے۔([11])سب سے پہلے جمرۂ اولی یعنی چھوٹے شیطان کو پھر جمرۂ وُسطی یعنی درمیانے شیطان پھر جمرۂ عقبی یعنی بڑے شیطان کو رمی کرنا ہے ۔)[12](

       جمرۂ اُولیٰ مسجدِ خیف کی طرف سے پہلا ہے ۔)[13]( آج کی رمی میں وہاں رخ کر کے نہیں کھڑے ہوں گے جس انداز میں پہلے دن کی رمی پر کھڑے ہوئے تھے ۔دوسرے اور تیسرے دن کی رمی کے لئے اس طرح کھڑے ہوں گے کہ مِنٰی بائیں طرف ہو۔13کی رمی کرنی ہو تو اس میں بھی یونہی کھڑے ہونا ہے۔اس انداز پر منہ قبلہ کی طرف ہوگا۔)[14]( البتہ تیسرے یعنی جمرۃُ العقبہ کی رمی میں یہی راجح ہے کہ پہلے دن جس طرح کھڑے ہونے کا طریقہ بیان ہوا باقی دنوں میں بھی تیسرے جمرے کی رمی اسی انداز پر کی جائے۔)[15](

 



[1]   وھی ثالث الجمرات علی حدّ منی من جھۃ مکّۃ۔۔۔لا یرمی یومئذ غیرھا ولا یقوم عندھا حتی=

=یأتی منزلہ  (رد المحتار، کتاب الحج، مطلب في رمي جمرة العقبة،  ج3، ص606، ملتقطاً)

.منی اور مکہ کے بیچ میں 3 جگہ ستون بنے ہیں ان کو جمرہ کہتے ہیں پہلا جو منی سے قریب ہے جمرہ اولی کہلاتا ہے اور بیچ کا جمرہ وسطی اور اخیر کا کہ مکہ مکرمہ سے قریب ہے جمرۃ العقبی (کہلاتا ہے)۔(حاشیہ بہار شریعت 1139 حصہ 6 جلد اول، مکتبۃ المدینہ)

[2]     ویقف فی بطن الوادی ویجعل منی عن یمینہ والکعبۃ عن یسارہ ویستقبل الجمرۃ۔۔۔ ویرفع یدہ حتی یُری بیاض ابطہ (لباب المناسك، باب مناسک منی، ص316، 317، ملتقطاً)

[3]     وينبغي أن تقع الحصا عند الجمرة أو قريباً منها حتى لو وقع بعيداً لم يجز وحد القرب والبعد أن الثلاثة الأذرع في حد البعيد وما دونه قريب  (جوهرة النيرة، كتاب الحج، ج 1،  ص109)

[4]     (فصل فی أحکام الرمی وشرائطہ وواجباتہ الشرط۔۔۔ الرابع تفریق الرمیات) أی السبعۃ(شرح لباب المناسک، باب رمي الجمار وأحكامه، فصل فی وقت رمي جمرة العقبة يوم النحر، ص345-346، ملتقطاً)

[5]     (وقطع التلبیۃ بأولھا) أی فی الحجّ الصحیح والفاسد مفرداً أو متمتّعاً أو قارناً(رد المحتار، کتاب الحج، ج3، ص607)

[6]     (ولا یقف عندھا فی جمیع أیام الرمی للدعاء ویدعو) أی عند الجمرۃ (بلا وقوف) أی فی آخرہ(شرح لباب المناسک، باب رمي الجمار وأحكامه، فصل فی صفة الرمي في هذه الايام، ص342، ملتقطاً)

[7]     (یکبّر مع کلّ حصاۃ) أی قائلاً بسم اللہ اللہ أکبر(شرح لباب المناسک، باب رمي الجمار وأحكامه، فصل فی صفة الرمي في هذه الايام، ص341)

[8]  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن