30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
2 اگر ان چکروں کا اعادہ کر لیا جن کا ایک تہائی حصہ رہتا تھا تو صدقہ ساقط ہو جائے گا۔
سعی کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ صفا و مروہ کے مابین مسافت کا اکثر حصہ طے کیا ہو لہذا جس شخص نے دو تہائی حصہ چھوڑ دیا تو سعی درست نہ ہوگی۔([1])لہذا اگر تمام یا کم از کم چار چکر اسی طرح اَدُھورے قسم کے لگائے تو اصلاً سعی ہی نہ ہوگی ۔
حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ رَسُولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جو مسلمان عرفہ کے دن پچھلے پہرکو موقف میں وقوف کرے پھر سو۱۰۰ بارکہے:لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔ اور سو۱۰۰ بار قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ پڑھے اور پھر سو۱۰۰بار یہ درود پڑھے:اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْراھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے: اے میرے فرشتو! میرے اس بندے کو کیا ثواب دیا جائے جس نے میری تسبیح وتہلیل کی اور تکبیر و تعظیم کی مجھے پہچانا اور میری ثنا کی اور میرے نبی پر درود بھیجا۔ اے میرے فرشتو! گواہ رہو کہ میں نے اُسے بخش دیا اور اس کی شفاعت خود اس کے حق میں قبول کی اور اگر میرا یہ بندہ مجھ سے سوال کرے تو اُس کی شفاعت جو یہاں ہیں سب کے حق میں قبول کروں۔(شعب الایمان، باب فی المناسک، فضل الوقوف بعرفات ...إلخ، ج3، ص463، حدیث:4074)
وُقوفِ عَرَفَہ کے لئے غروبِ آفتاب تک ٹھہرنا
1 ”وُقوفِ عرفہ “حج کا رُكنِ اعظم ہے۔اس کا وقت نو ذو الحجہ کو میدانِ عرفات میں ظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر دسویں کی فجر کا وقت شروع ہونے تک ہے([2])
دن میں وقوف کرنے والے پر واجب ہے کہ وہ غروب
ہونے تک عرفات میں موجود رہے اور رات کا کم از کم ایک لمحہ عرفات میں ضرورپائے ۔([3])
2 ظہر کا وقت شروع ہوتے ہی میدانِ عرفات میں موجودگی واجب نہیں،لیکن غروب سے پہلے جب بھی آئے گا غروب تک ٹھہرنا واجب ہوگا([4]) البتہ زوال سے پہلے ہی میدانِ عرفات پہنچنا افضل ہے تا کہ ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے طبعی حاجات سے فارغ ہو جائے اور غسل بھی کر لےکہ اس موقع پر سنتِ مؤکدہ ہے۔وقت شروع ہونے پر بھرپور طریقے سے عبادتِ دعا پر توجہ دےاورسوائے اللہ تعالی کے کسی چیز کی طرف ذہن متوجہ نہ ہو۔ ([5])
3 واضح رہے کہ نو (9) ذُوالحِجّہ کے زوال کے بعد سے لے کر غروب ہوجانے تک واجب وقت ہے یعنی دن کو وقوف کیا جائے یہ ایک مستقل واجب ہے اور دن کے وقوف کو غروب تک جاری رکھا جائے یہ جداگانہ واجب ہے([6]) لیکن اگر کسی نے دن میں اصلاً وقوف نہ کیا بلکہ غروب کے بعد سے فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلےرات کے کسی حصے میں وقوف کیا اور حج کے احرام کے ساتھ ([7]) میدانِ عرفات میں موجود رہااگرچہ بغیر نیت موجود رہا تو وقوف ہو گیا ([8])رات میں وقوف کرنے والے پر اس وقوف کو کتنی دیر جاری رکھا جائے ؟اس تعلق سے کوئی وجوبی احکام نہیں البتہ بہتر یہ ہے کہ کسی بھی وجہ سے رات کو وقوف کیا ہے تو ذکر و اذکار اور دعا وغیرہ کا اہتمام کیا جائے۔
وقوف کے حوالے سے چند اہم باتیں
1 مستحب یہ ہے کہ حاجی نو(9)ذی الحجہ کے طلوعِ آفتاب کے بعد جبکہ سورج کی کرنیں کوہِ ثبیر
پر پڑیں وقوفِ عرفہ کے لئے منی سے میدانِ عرفات روانہ ہو،دورانِ روانگی آہستہ سکون واطمینان سے تلبیہ،تہلیل،تکبیر کہتا چلےاوردرود وسلام بھی پڑھتا رہے۔بس میں جائے یا پیدل یہ اعمال جاری رکھے،جبلِ رحمت
پر پہلی نظرپڑتے ہی دعا کرے، تسبیح وتحمید اور تکبیر وتہلیل اور تمجید واستغفار کرےپھر میدانِ عرفات میں داخل ہونے سے پہلے تک مسلسل تلبیہ پڑھتا رہے میدانِ عرفات میں جبلِ رحمت کے پاس ٹھہرنا افضل
65 ششم از شرائط صحّت سعی قطع اکثر است از مسافتی کہ واقع است میان صفا ومروہ تاآنکہ اگر از مسافت مذکورہ قدر ثلث برفت ومقدار ثلثین باقی گذاشت صحیح نباشد(حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب چہارم، فصل اول، ص43)
[2] (و)الحج (فرضہ) ثلاثۃ (الإحرام والوقوف بعرفۃ) فی أوانہ وھو من زوال یوم عرفۃ إلی قبیل طلوع فجر النحر (در مختار ورد المحتار، کتاب الحج، ج3، ص536-537، ملتقطاً)
[3] (وأمّا الواجب)۔۔۔وھذا لمن وقف بعرفۃ قبل الغروب۔۔۔(فمدّ الوقوف من الزوال إلی الغروب ووقوف جزء من اللیل)(شرح لباب المناسک، باب الوقوف بعرفات واحكامه، فصل فی شرائط صحة الوقوف، ص291، ملتقطاً)
[4] لم يقل من الزوال لأن ابتداءه من الزوال غير واجب وإنما الواجب أن يمده بعد تحققه مطلقاً إلى الغروب كما أفاده في شرح اللباب (رد المحتار، کتاب الحج، ج3، ص539)
.وأما إذا وقف نھاراً فیجب علیہ امتدادہ منہ إلی حین الغروب وأما قولہ فی الکبیر فقدر الواجب علیہ الامتداد من حیث تزول الشمس إلی أن تغرب فغیر صحیح علی اطلاقہ بل مقید بما أن وقف قبل الزوال أو عندہ وأما إن وقف بعدہ فمن حین وقف یجب الامتداد(شرح لباب المناسک، باب الوقوف بعرفات وأحكامه، فصل فی شرائط صحة الوقوف، ص291)
[5] الأولی أن یغتسل قبیل الزوال (وقدّم حوائجہ قبل الزوال وتفرّغ من جمیع العلائق وتوجّہ بقلبہ إلی ربّ الخلائق) (شرح لباب المناسک، باب الوقوف بعرفات وأحكامه، ص271، ملتقطاً)
[6] أماإذا وقت لیلاًفلا واجب فی حقہ حتی لو وقف ساعۃ لا یلزمہ شئ کما فی شرح اللباب نعم يكون تاركاً واجب الوقوف نهاراً إلى الغروب (رد المحتار، کتاب الحج، ج3، ص539)
.فإنّ الجمع بین جزء من النھار وجزء من اللیل واجب (حاشية طحطاوي على الدر، کتاب الحج، ج1، ص485)
.یفید أنہ لا یجب فی حق من وقف لیلاً حتی لو وقف ساعۃ لا یلزمہ شئ کما فی شرح اللباب نعم يكون تاركاً لواجب الوقوف نهاراً إلى الغروب (طوالع الأنوار، ج 4، ص 34 -35 ،مخطوطہ)
.و یصح الوقوف بعرفۃ ولو بالحلول فیھا فی جزء من لیلۃ النحر لکن الوقوف نھار التاسع من بعد الزوال واجب لمن قدر علیہ و یجبر ترکہ بدم (الحج للھشام برہانی، ص 30)
.اگر رات میں وقوف کیا تو اس کے لئے کسی خاص حد تک وقوف کرنا واجب نہیں مگر وہ اس واجب کا تارک ہوا کہ دن میں غروب تک وقوف کرتا۔ (بہارِ شریعت، ج1، ص1048، مکتبۃ المدینہ)
[7] (فصل فی شرائط صحّۃ الوقوف۔۔۔الثانی الإحرام۔۔۔) ثم المراد الإحرام (بحجّ) أی لا بعمرۃ (صحیح) أی معتبر شرعاً۔۔۔(فلو وقف غیر محرم) أی مطلقاً (أو محرماً بعمرۃ أو محرماً بحجّ فائت لم یصحّ وقوفہ)(شرح لباب المناسک، باب الوقوف بعرفات وأحكامه، فصل فی شرائط صحة الوقوف، ص288-289، ملتقطاً)
[8] أن الوقوف يصحّ من غير نيّة الوقوف عند الوقوف(بدائع الصنائع، کتاب الحج، فصل وأما شروطہ وواجباتہ، ج3، ص308)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع