دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

152 Rahmat bhari Hikayaat | ۔ 152 رحمت بھری حکایات

Yazid Bin Harun Kay Abao Ajdaad Ka Taluq Kahan Se Tha

book_icon
۔ 152 رحمت بھری حکایات
            

(43)حضرت سیِّدُناابو خالد یزیدبن ھارون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ

حالات : آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کانام یز ید بن ہارون بن زَاذی بن ثابِت اورکنیت ابو خالدہے ۔ واسط میں 118ھ کو پیدا ہوئے اور آباؤ اجداد’’بخاریٰ‘‘کے رہنے والے تھے۔نیکی کی دعوت دینے والے ، برائی سے منع کرنے والے، عبادت الٰہی میں اعلیٰ مقام رکھنے والے اورحافظ الحد یث تھے ، خود فرماتے ہیں کہ میں نے 25 ہزار(ایک روایت کے مطابق24ہزار)احادیث مبارکہ کی اسناد یاد کیں ہیں اور کوئی فخر نہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ بغداد آئے اور وہاں احادیث بیان کیں پھر واپس واسِط لوٹ آئے ۔بغداد میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی مجلس 70 ہزار لوگوں پر مشتمل ہوتی تھی۔آپ نماز میں اس طرح کھڑے ہوتے گویا کوئی ستون ہے۔ حسن بن عَرَفَہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنایزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کو واسِط میں دیکھا آپ کی آنکھیں لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں ، پھر میں نے دیکھاکہ آپ ایک آنکھ سے نابینا ہوگئے ، کچھ عرصہ بعددیکھا تو آپ دونوں آنکھوں سے نابینا ہوگئے تھے ، میں نے آپ سے پوچھا : ’’ اے ابوخالد !آپ کی دونوں خوبصورت آنکھوں کو کیا ہوا؟‘‘آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ارشاد فرمایا : ’’رات کے آخری حصہ میں رونے کے سبب دونوں آنکھیں چلی گئیں ۔‘‘ ربیع الآخر206ھ کوواسط میں وفات پائی ۔(1) فرامین : ٭ہارون حَمَّال کہتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد سے ایک شخص جس کی علم کی ایک مجلس فوت ہوگئی تھی اس نے حضرت سیِّدُنا یزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ سے عرض کی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ وہ مجھے دوبارہ بیان کردیں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ارشاد فرمایا : ’’اے ابو فلاں ! کیا تجھے معلوم نہیں ، جو شخص (علم کی مجلس سے) غیر حاضر رہا وہ محروم ہو گیا اور اس کے دوستوں نے اس کا حصہ لے لیا ۔‘‘ (2) ٭جس نے بے وقت حکومت طلب کی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسے وقت میں حکومت سے محروم کر دے گا۔ (3)

(۶۱ )رحمت بھری حکایت

قبرجنت کے باغوں میں سے ایک باغ :

وَہْب بن بَیَان کہتے ہیں کہ میں نے حضر ت سیِّدُنایز ید بن ہارون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’اے ابو خالد!کیا آ پ وصال نہیں فرما گئے؟‘‘ فرمایا : ’’ میں اپنی قبر میں ہوں اور میری قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ ‘‘(4)

حکایت سے حاصل ہو نے والا درس :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ مرنے کے بعد اور بروز قیامت اٹھنے سے قبل بھی ایک زندگی ہے ، جس کا نام ’’برزخی زندگی‘‘رکھا گیاہے اس زندگی میں لوگوں کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں ۔کوئی خوشی میں ہے ، تو کوئی غم میں ، کسی کی قبر جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ، تو کسی کی دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ، کوئی رو رہا ہے ، کوئی ہنس رہا ہے ۔کوئی اپنی سابقہ دنیاوی زندگی کے بارے میں مطمئن ہے ، تو کوئی شدید غم وپچھتاوے کی آگ میں جل رہا ہے ۔غرض یہ کہ وہاں کی زندگی کا دارومدار ، اکثر دنیاوی اعمال پر موقوف ہے ۔یہاں جیسے عمل کیے ہوں گے ، وہا ں ویسا ہی بدلہ ملے گا۔ پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے کام کریں جس سے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے پیارے حبیب صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم راضی ہو جائیں تاکہ ہماری قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بن جائے۔صحیح اسلامی زندگی گزارنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں اسلامی بھائیوں کے لیے72 اوراسلامی بہنوں کے لیے 63 مدنی انعامات بصورت سوالات دیے گئے ہیں کئی خوش نصیب روزانہ ’’فکر مدینہ ‘‘ کرتے ہوئے حسب تو فیق جوابات کی خانہ پوری کرتے اور ہر مدنی ماہ کی 10 تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمہ دار کو جمع کرواتے ہیں ہمیں بھی چا ہیے کہ مکتبۃ المدینہ سے ’’مدنی انعامات‘‘ کا رسالہ ہدیّۃً حاصل کرکے اس کی خانہ پوری کیا کریں ۔

(۶۲ )رحمت بھری حکایت

ذکرکی محافل اختیارکرنے کی فضیلت :

حَوْثَرَہ بن محمد مِنْقَرِی بصری کہتے ہیں میں نے حضرت سیِّدُنایزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کو ان کے وصال کی 4 راتوں کے بعدخواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’ مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ یعنی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا ؟‘‘ فرمایا : ’’ میری نیکیوں کو قبول فرمایااور میرے گناہوں سے چشم پوشی فرمائی اور حقوق العباد میرے سِپُرد کردیے(کہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ حقوق والوں سے حقوق معاف کروادے گا)۔‘‘میں نے کہا : ’’اس کے بعد کیا ہوا ؟‘‘ فرمایا : ’’کریم صر ف کرم فرماتا ہے اس نے میرے گناہوں کی بخشش فرما کر مجھے جنت میں داخل فرمادیا ۔‘‘میں نے کہا : ’’ کس سبب سے آپ نے یہ مقام پایا؟‘‘فرمایا : ’’ ذکر کی محافل اختیار کرنے، حق بات کہنے ، گفتگو میں سچ بولنے ، نماز میں طویل قیام کرنے اور فقر پر صبر کرنے کے سبب۔‘‘ میں نے کہا : ’’منکر نکیرحق ہیں ؟‘‘فرمایا : اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں !ہاں !حق ہیں ، انہوں نے مجھے بٹھا کر سوالات کرتے ہوئے پوچھا : ’’ مَنْ رَ بُّکَ وَمَادِیْنُکَ وَمَنْ نَبِیُّکَ؟ یعنی تیرا رب کون ہے ، تیرا دین کیا ہے، تیرے نبی کون ہیں ؟ ‘‘ میں نے اپنی داڑھی کو مٹی سے صاف کرتے ہوئے کہا : ’’کیا میرے جیسے شخص سے بھی اب سوالات کیے جائیں گے میں یزید بن ہارون ہوں ، میں دنیا میں 60 سال سے لوگوں کو تمہارے سوالات کے جوابات سکھارہا ہوں ۔‘‘ ان دونوں میں سے ایک نے کہا : ’’ یزید بن ہارون نے سچ کہا۔‘‘پھر کہا : ’’ سوجا جس طرح دلہن سوتی ہے آج کے بعد تجھ پر کوئی خوف نہیں ۔ ‘‘(5)

(۶۳ )رحمت بھری حکایت

دُگنااجرعطافرمایا :

حضرت سیِّدُناامام ابوعبد اللّٰہ شمس الدین محمدبن احمد ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنایزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے پوتے یا نواسے ابونافع نے یہ بات بیان کی کہ میں حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبل عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کی خدمت میں حاضرتھا۔وہاں دو شخص اور بھی تھے ان میں سے ایک نے کہا : میں نے حضرت سیِّدُنایزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کو خواب میں دیکھ کرپوچھا : ’’ مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ یعنی اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا ؟‘‘ جواب دیا : اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے میری مغفرت فرمادی، مجھے دگنا اجر عطا فرمایا اور مجھ پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا : ’’تم حَرِیز بن عثمان سے احادیث بیان کرتے تھے ؟‘‘ میں نے عرض کی : ’’ یااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں اسے بھلاسمجھاتھا۔‘‘ارشاد فرمایا : ’’وہ علی سے بغض رکھتاتھا۔‘‘ پھردوسرے شخص نے بیان کیاکہ میں نے بھی انہیں خواب میں دیکھاتو پوچھا : ’’کیامنکرنکیر آپ کے پاس آئے تھے؟‘‘ جواب دیا : اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! وہ آئے تھے اورانہوں نے مجھ سے سوال کیا : ’’ تیرا رب کون ہے؟تیرا دین کیا ہے؟ ‘‘ میں نے کہاکہ ’’کیا مجھ جیسے شخص سے بھی یہ سوالات کئے جاتے ہیں میں دنیا میں لوگوں کو اسی کی تعلیم دیتا رہا ہوں ۔‘‘توانہوں نے کہا : ’’یہ سچ کہتے ہے۔‘‘ (6) ( اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ اٰمین ) ٭…٭…٭…٭…٭
1 تاریخ بغداد ، الرقم :۷۶۶۱ یزید بن ھارون ، ج ۱۴، ص ۳۳۸ -۳۴۷ 2 الجامع لاخلاق الراوی للخطیب ، والمحفوظ عن ابن شھاب ، الحدیث :۱۴۲۴، ج ۲، ص ۱۳۷۔ 3 صفۃ الصفوۃ ، الرقم :۳۷۷ یزید بن ھارون ، ج ۲، الجزء الثالث ، ص ۱۰۔ 4 موسوعۃلابن ابی الدنیا ، کتاب المناما ت ، الرقم :۲۹۹، ج ۳، ص ۱۴۳۔ 5 الحاوی للفتاوی للسیوطی ، ج ۲، ص ۲۳۵۔ 6 سیر اعلام النبلاء للذہبی ، الرقم :۱۴۳۲ یزید بن ہارون ، ج ۸، ص ۲۳۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن