30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(10)حضرت سیِّدُناابوسعیدحسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی
حالات :
حضرت سیِّدُناابوسعیدحسن بن یَسارالمعروف حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بصرہ کے تابعی بزرگ ہیں ۔اہل بصرہ کے امام اور اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے۔فقیہ ، فصیح ، بہادر اور عبادت گزار تھے۔21ھ بمطابق 642ء کو مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی اورامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے سایۂ عاطفت میں پرورش پائی۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حکمرانوں کے پاس جا کر ان کوبھی نیکی کی دعوت دیتے اور برائی سے منع کرتے تھے اور اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے معاملہ میں کسی سے خوف زدہ نہیں ہوتے تھے۔
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُناامام ابوحامدمحمدبن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی ارشاد فرماتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کاکلام تمام لوگوں سے زیادہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کلام کے مشابہ تھا اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی سیرت صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سیرت سے بہت ملتی جلتی تھی، بہت فصیح اللسان تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے منہ سے ہروقت علم و حکمت کے انمول موتی جھڑتے تھے۔ حجاج بن یوسف کے دور میں آپ کے اس کے ساتھ کئی واقعات پیش آئے لیکن اس کے فتنے سے محفوظ رہے۔
جب حضرت سیِّدُناعمربن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر مسندخلافت پر رونق افروزہوئے توانہوں نے حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو خط لکھا کہ ’’مجھے خلافت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے آپ مجھے چند ایسے لوگوں کی نشان دہی فرمائیں جواس معاملہ میں میری معاونت کریں ۔‘‘حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے جواباًارشادفرمایا : ’’دنیا داروں کوآپ پسند نہیں کریں گے اور دیندارآپ کو پسند نہیں کریں گے۔اس لئے آپ اس معاملہ میں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سے مدد طلب کریں ۔‘‘
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے کثیر احادیث طیبہ مروی ہیں اور اس کے علاوہ کثیرتعداد میں آپ کے ملفوظات شریفہ بھی ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فضائل مکہ پر ایک کتاب بھی تصنیف فرمائی ہے۔آپ کی وفات 110 ھ بمطابق728ء کو بصرہ میں ہوئی۔ (1)
فرامین :
٭اگر علمانہ ہوتے تو لوگ چوپایوں کی طرح ہوتے یعنی علما ان کو تعلیم کے ذریعے چوپائے کی حالت سے نکال کر انسانیت کی حالت میں لائے ہیں ۔ (2)
٭ علماکی سزا دل کی موت ہے اور دل کی موت اخروی عمل کے ذریعے دنیا طلب کرنا ہے۔ (3)
٭ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو جو علما کے پاس نہیں جاتا۔ (4)
٭جس نماز میں دل حاضر نہ ہو اس کی سزا جلدی ملتی ہے۔ (5)
٭ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !کوئی بندہ تلاوت کلام پاک کے ساتھ صبح نہیں کرتا مگر اس کا غم زیادہ اور خوشی کم ہوجاتی ہے اس کا رونا زیادہ اور ہنسنا کم ہوتاہے اس کی تھکاوٹ اور مشغو لیت زیادہ جبکہ راحت اور فراغت کم ہوجاتی ہے ۔ (6)
٭ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !جو شخص عورت کی (ناجائز)خواہشات پر اس کی اطاعت کرے گا اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جہنم میں اوندھا ڈالے گا۔ (7)
حسن بصری کو خوشخبری دے دو!
حضرت سیِّدُناابوحمزہ اسحاق بن رَبیع عَطَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے پاس بیٹھاتھاکہ اچانک ان کے پاس ایک شخص آیااورکہنے لگا : اے ابو سعید ! میں نے گزشتہ شب خواب میں حضورنبی ٔکریم رء و ف رحیم صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی، میں نے دیکھا کہ آپ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنو سلیم کے قبیلہ مُرْجِیَہ کے لوگوں میں تشریف فرما ہیں اورایک بہترین جُبّہ زیب تن فرمایاہوا ہے۔‘‘ عرض کی گئی : ’’ یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !حسن بصری آرہے ہیں ۔‘‘آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’انہیں خوشخبری دے دو، پھرخوشخبری دے دو، پھر خوشخبری دو۔‘‘
حضرت سیِّدُناابوحمزہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اتنا سنناتھاکہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور اس شخص سے فرمانے لگے : ’’ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تیری آنکھیں ہمیشہ ٹھنڈی رکھے!‘‘ سرکارِمدینہ ، راحت ِقلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد حقیقت بنیادہے کہ ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو بے شک اس نے مجھے ہی دیکھا کیوں کہ شیطان میری صورت کبھی اختیارنہیں کرسکتا۔‘‘ (8)
(۱۲ )رحمت بھری حکایت
فکر آخرت اورخوف ِخدا :
حضرت سیِّدُنامالک بن دِینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو خواب میں دیکھاکہ ان کا رنگ چمک رہا تھا، چہرہ مبارک نوربارتھااو رچہرے کی مکمل سفیدی کی وجہ سے آنسوئوں کی لڑی بھی چمک رہی تھی۔میں نے پوچھا : ’’اے ابوسعید!کیاآپ کاانتقال نہیں ہوگیا ہے؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’ہاں !‘‘میں نے پھرپوچھا : ’’انتقال کے بعدآپ کو کیا مقام ومرتبہ ملا؟خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!آپ نے تواپنی ساری زندگی فکر آخرت کے سبب غموں اور خوف خدامیں روتے ہوئے گزاردی ۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’فکرِ آخرت اورخوف خداکے سبب گریہ وزاری ہی کو تو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمارے لیے نیک لوگوں کے درجات پانے کا ذریعہ بنادیا اور ہمیں متقین کے دَرَجات پر فائز فرمادیا۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!یہ ہم پر ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ کا بہت بڑا فضل ہے۔‘‘میں نے کہا : ’’ اے ابوسعید ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیے!‘‘فرمایا : ’’دُنیا کے اندر جو لوگ سب سے زیادہ غمگین رہتے ہیں وہ قیامت کے دن سب سے زیادہ خوش ہوں گے۔‘‘ (9)
حکایت سے حاصل ہونے والادرس :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر کام چاہے اچھا ہو یا برا اس کا اثر ہمارے باطن پر ضرور پڑھتا ہے برے عمل کا اثر تو یہ ہے کہ گناہ کرتے ہی ہمارے دل پر ایک سیا ہ نقطہ لگادیا جاتا ہے جبکہ نیکیوں کا اثر بحکم قرآنی یہ ہے کہ
اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ ( پ ۱۲، ھود : ۱۱۴)
ترجمہ کنزالایمان : ’’ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں ۔‘‘
چنانچہ نیکیوں کی برکت سے دل صاف وشفاف ہو جاتے ہیں اور دل کہ انسان کے جسم کا بادشاہ ہے اور بحکم حدیث ’’اگر یہ درست ہو جائے تو سارا جسم ہی درست رہتا ہے۔‘‘اور انسان صاحب روحانیت ہو جاتا ہے پھر وہ بڑی بڑی عبادات ومجاہدات پابندی واستقامت کے ساتھ بجا لاتا ہے جیسا کہ اس حکایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے اپنی ساری زندگی فکر آخرت کے سبب غموں اور خوف خدامیں روتے ہوئے گزاردی ۔پیارے اسلامی بھائیو! روحانیت حاصل کرنے کے لیے تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہیے، سنتوں کی تربیت کے لیے مدنی قافلوں میں عا شقانِ رسول کے ساتھ سنتوں بھرا سفر کیجئے اور کامیاب زندگی گزارنے اور آخرت سنوارنے کے لیے مدنی انعامات کے مطابق عمل کرکے روزانہ فکر ِ مدینہ کے ذریعے رسالہ پُر کیجئے اور ہر مدنی ماہ کی 10 تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمہ دار کو جمع کروائیے۔ چنانچہ شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ مدنی انعام نمبر 59 میں ارشاد فرماتے ہیں : کیا آپ نے سابقہ مدنی انعامات کا رسالہ پُر کرکے اپنے ذیلی نگران کو جمع کروادایا ؟نیز مدنی انعام نمبر60 میں ارشاد فرماتے ہیں : کیا آپ نے اس ماہ جدول کے مطابق کم از کم تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کیا ؟
( ۱۳ )رحمت بھری حکایت
آسمانوں کے دروازے کھل گئے :
جس رات حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کاوصال ہوا، اس رات کسی نے خواب میں دیکھاکہ گویاآسمانوں کے دروازے کھلے ہیں اورایک منادی اعلان کر رہا ہے کہ ’’سنو!حسن بصری اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے دربارمیں حاضر ہوگئے ہیں اوروہ ان سے راضی ہے۔‘‘ (10)
( اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ اٰمین )
(۱۴ )رحمت بھری حکایت
جنت کے بادشاہ :
حضرت سیِّدُناامام ابوعبداللّٰہ شمس الدین محمدبن احمدذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ابوصالح کو یحییٰ بن ایوب نے بیان کیاکہ دو آدمیوں کا آپس میں بھائی چارہ تھاانہوں نے ایک دوسرے سے عہدکیاکہ’’ ان میں سے جو پہلے فوت ہوگا وہ مرنے کے بعد دوسرے کووہاں کے احوال بتائے گا۔‘‘ پھر جب ان میں سے ایک فوت ہوگیاتودوسرے نے اسے خواب میں دیکھ کر حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے متعلق پوچھا۔ اس نے کہا : ’’وہ جنت میں بادشاہو ں کی طرح ہیں (ان کے خدام) ان کی نافرمانی نہیں کرتے ۔‘‘ پھرحضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین رَحِمَہُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے متعلق پوچھاتواس نے کہا کہ’’وہ جنت میں جہاں چاہیں رہتے ہیں اوراس کی نعمتوں سے جوچا ہیں کھاتے ہیں ۔ لیکن دونوں کے مراتب میں بڑا فرق ہے۔‘‘اس کے بعد خواب دیکھنے والے نے پھر پوچھا کہ ’’حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کویہ مقام کیسے حاصل ہوا؟‘‘ جواب دیا : ’’فکرِ آخرت میں شدیدخوف زدہ اورغمگین رہنے کی وجہ سے۔‘‘ (11)
( اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ اٰمین )
٭…٭…٭…٭…٭
1 الأعلام للزرکلی ، الحسن البصری ، ج ۲، ص ۲۲۶۔
احیاء علوم الدین ، کتاب العلم ، الباب السادس فی آفات العلم ، ج ۱، ص ۱۱۰۔
2 احیاء علوم الدین ، باب فضیلۃ التعلیم ، ج ۱، ص ۲۸۔
3 احیاء علوم الدین ، الباب السادس فی آفات العلم ۔۔ الخ ، ج ۱، ص ۸۷۔
4 احیاء علوم الدین ، کتا ب اسرارالصلوۃ ، الباب الاول ، ج ۱، ص ۲۰۳۔
5 المرجع السابق ، ص ۲۱۳۔
6 المرجع السابق ، ص ۳۷۹۔
7 احیاء علوم الدین ، کتا ب آداب النکاح ، الباب الثالث ، ج ۲، ص ۵۸۔
8 موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب المنامات ، الرقم : ۱۳۱، ج ۳، ص ۸۴۔
9 موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب المنامات ، الرقم : ۳۹، ج ۳، ص ۴۵۔
10 الرسالۃ القشیریۃ ، باب رؤیا القوم ، ص ۴۱۸۔
11 سیراعلام النبلاء للذہبی ، الرقم : ۶۱۳ محمد بن سرین ، ج ۵، ص ۴۹۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع